موت ایک حقیقت
ایک دن ایسا بھی آئے گا جب میرا نام بھی مٹی کے نیچے سو جائے گا۔
قبر پر پہلے چند روز نمی ٹھہرے گی، پھر آفتاب کی گرمی اسے اڑا دے گی، اور وقت گزرنے کے ساتھ اس پہ دراڑیں آ جائیں گی ۔
اور
شاید کوئی اجنبی رک کر دعا کر دے، کوئی پرانا جاننے والا میرا ذکر چھیڑ دے۔
پھر وقت گزرے گا، اور آہستہ آہستہ وہ ذکر بھی مٹ جائے گا۔ میرا تذکرہ محفلوں سے، باتوں سے، دلوں سے مٹ جائے گا۔
قبر باقی رہ جاتی ہے، مگر یاد رکھنے والے نہیں رہتے۔
یہی دنیا ہے، یہی سب کا انجام۔
اس لیے ہر پل یہ حقیقت دل میں تازہ رکھو:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
0 تبصرے