Ticker

6/recent/ticker-posts

مسلم قائدین کی نشست: اچھی نیت، لیکن نامکمل نَشِست، مسلم چیلنجز پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت

مسلم قائدین کی نشست: اچھی نیت، لیکن نامکمل نَشِست، مسلم چیلنجز پر سنجیدہ گفتگو کی ضرورت


سیف الرحمٰن
چیف ایڈیٹر: انصاف ٹائمس( اردو،ہندی،انگریزی نیوز ویب سائٹ )
کنوینر: کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن(سی.ایم.ایف)

آج پٹنہ کے ہارون نگر کمیونٹی سینٹر میں کانگریس کے سینئر رہنما اور ممبر پارلیمنٹ جناب جاوید صاحب کی جانب سے ایک نَشِست کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی، سماجی، ملی اور فکری شخصیات نے شرکت کی۔ اس مجلس میں ممبر پارلیمنٹ جناب طارق انور صاحب، ممبر قانون ساز کونسل قاری صہیب صاحب،ممبر اسمبلی قمر عالم صاحب،سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی صاحب، سابق ممبر پارلیمنٹ قیصر علی صاحب،سابق ممبر اسمبلی ابودوجانہ صاحب،سابق ممبر اسمبلی اظہار صاحب، امارت شرعیہ کی ناظم مفتی سعید الرحمٰن صاحب سمیت مختلف جماعتوں کے نمائندگان، دانشوران، سماجی کارکنان اور کئی اہم شخصیات موجود تھیں۔

اس نشست کا موضوع ملک اور بہار کے اندر مسلمانوں کو درپیش موجودہ چیلنجز تھا۔ یہ خود ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم تھا، کیونکہ پٹنہ میں پچھلے کچھ برسوں میں اس نوعیت کی سنجیدہ اور مشترکہ نشستیں کم دیکھنے کو ملی ہیں۔ اس لحاظ سے اس کوشش کی تحسین ہونی چاہیے اور امید رکھنی چاہیے کہ آئندہ بھی اس طرح کے اجتماعات ہوتے رہیں گے۔

لیکن ایک شریک اور ایک فکر مند نوجوان کی حیثیت سے یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اس نشست سے ایک بڑی مایوسی وابستہ رہی۔

بہت سے لوگ اس امید کے ساتھ آئے تھے کہ جب موضوع مسلمانوں کے موجودہ چیلنجز ہیں تو گفتگو بھی انہی مسائل کے گرد ہوگی، ان کی ترجیح متعین ہوگی، اور کوئی ابتدائی روڈ میپ سامنے آئے گا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موضوع کے مطابق سنجیدہ، منظم اور نتیجہ خیز گفتگو نہ ہونے کے برابر رہی۔

اس وقت ملک میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک نفرت پر مبنی جرائم (Hate Crimes) کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا ہے، کہیں ہجومی تشدد، کہیں ادارہ جاتی کارروائیاں، کہیں گرفتاریوں کے حوالے سے بحث، کہیں مدارس و مساجد سے متعلق تنازعات، کہیں وقف یا مذہبی اداروں سے متعلق پالیسی مباحث۔

امید تھی کہ اس پر بات ہوگی کہ ایسے حالات میں قانونی، سماجی، میڈیا اور سول سوسائٹی کی سطح پر کیا لائحۂ عمل ہونا چاہیے؟ ایسے واقعات کی دستاویز بندی کیسے ہو؟ عوامی سطح پر شعور اور ادارہ جاتی رابطہ کیسے مضبوط کیا جائے؟ لیکن اس سمت میں کوئی ٹھوس گفتگو سامنے نہ آسکی۔

اسی طرح ایک بڑا مسئلہ شناخت اور بیانیے کا بھی ہے، یہ حقیقت ہے کہ ایک طویل عرصے سے مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں مختلف سطحوں پر ایسے بیانیے تشکیل دیے گئے ہیں جنہوں نے سماج میں غلط فہمیاں پیدا کی ہیں۔ سوال یہ تھا کہ اس کا جواب کیا ہوگا؟ مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی سماجی تصویر اور اپنی مثبت خدمات کو کس طرح بہتر انداز میں پیش کرنا چاہیے؟ کمیونٹی کے اندر اعتماد اور خود اعتمادی کیسے بحال کی جائے؟ کیونکہ قومیں صرف وسائل سے نہیں، جود اعتمادی سے زندہ رہتی ہیں۔

اگر کسی قوم کے اندر خود اعتمادی باقی ہو تو وہ مشکلات کے باوجود کھڑی رہ سکتی ہے، لیکن اگر خود اعتمادی ختم ہو جائے تو وسائل بھی اسے زیادہ دیر زندہ نہیں رکھ سکتے۔

تعلیم پر گفتگو ہوئی، لیکن بدقسمتی سے وہی روایتی دائرہ کہ تعلیم حاصل کریں، سول سروس میں جائیں، ڈاکٹر بنیں۔ جبکہ اصل سوال یہ ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی کیا ہوگی؟ رہنمائی کون دے گا؟ کمیونٹی کے نوجوانوں کو کن نئے میدانوں کی طرف لے جایا جائے گا؟

ہمیں صرف بیوروکریٹس نہیں چاہیے؛ ہمیں مؤرخین، ماہرینِ اقتصادیات، سماجی سائنس دان، قانون دان، صحافی، میڈیا پروفیشنلز، محققین، پالیسی ایکسپرٹس اور فکری رہنما بھی چاہیے۔ اس کیلئے قوم کو زمینی سطح پر رہنمائی کیسے دی جاسکتی ہے، اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی

اسی طرح میڈیا کے موضوع پر بھی سنجیدہ گفتگو کی ضرورت تھی۔ اگر کسی قوم کو خود اعتمادی دینا ہو، اس کے بیانیے کو مضبوط کرنا ہو، اس کے نوجوانوں کو وژن دینا ہو، تو اس کے لیے ادب، میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارم، یوٹیوب، ویب سائٹس اور فکری ادارے ناگزیر ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ میڈیا پلیٹ فارم موجود ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسے پلیٹ فارم ہیں جو قوم کو تعلیم دیں، سوچ دیں، رہنمائی دیں اور مستقبل کی سمت متعین کریں؟

سوشل الائنس پر بھی گفتگو سطحی رہی۔ صرف “ہندو مسلم اتحاد” کہہ دینا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اتحاد کس بنیاد پر ہوگا؟ کس ماڈل پر ہوگا؟ ملک کے اندر دلت، آدیواسی، پسماندہ طبقات، سکھ، عیسائی اور دیگر طبقات کے ساتھ آئینی، سماجی اور عوامی سطح پر تعمیری اشتراک کیسے بنایا جائے؟ کیا ہم بس انتخابات میں کسی غیر مسلم لیڈر کے پیچھے کھڑے ہوجانے کو ہندو مسلم اتحاد و سماجی اتحاد کا راستہ سمجھتے ہیں یا ہمیں لگتا ہیکہ انتخابی سیاست سے اوپر اٹھ کر سماجی میں اتحاد و محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ضرورت ہے تو اس پر زمینی کام کیسے ہوسکتا ہے، وہاں اس سمت میں کوئی تعمیری گفتگو نہ ہوئی

اسی طرح معاشی مضبوطی کے سوال کو بھی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ معاشی طاقت کے بغیر سماجی اور سیاسی اثر کمزور رہتا ہے۔ اس لیے تجارت، صنعت، پیشہ ورانہ ترقی اور اجتماعی معاشی منصوبہ بندی پر بھی مستقل کام کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ موضوع گفتگو سے مکمل طورپر ندارد رہا

سیاسی نمائندگی کی بات آئی لیکن نمائندگی بڑھانے کیلئے کیسی کوششیں ہونی چاہیے اس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی،اسمبلی اور لوک سبھا کے علاوہ پنچایت و نگر نگم تک میں بھی ہمارے سیاسی حالات اب بدتر ہورہے ہیں جبکہ ہمیں معلوم ہیکہ نگر نگم و پنچایت سیاسی زمین کی بنیاد ہے، مگر ہمیشہ کی طرح آج بھی اس معاملے میں خاموشی رہی

سیاسی لیڈران کے کرنے کے اہم کاموں میں سے ایک ہوتا ہے پالیسی سازی و اسکیم سازی میں اپنا کردار نبھانا،لیکن وہاں ایسی کوئی گفتگو نہیں ہوئی کہ کیسے حکومتوں سے بات چیت کر سماج کے مفادات سے متعلق پالیسی سازی پر کام کیا جاسکتا ہے اور جو اسکیمیں موجود ہیں اس سے کیسے فائدہ اٹھانا ملت کو سکھایا جائے

ایک اور افسوسناک پہلو یہ رہا کہ کئی قائدین محدود وقت کے ساتھ آئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پوری کمیونٹی کے پیچیدہ مسائل کا حل دو گھنٹے کی نشستوں میں کیسے نکل سکتا ہے؟

گرچہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مسائل کو سمجھنے و اس کے حل پر گفتگو کی کوئی سنجیدہ کوشش کسی مہمان کی طرف سے نہیں ہوئی، سبھی نے روایتی باتیں کرکے رسم حاضری نبھا لیا

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی نشستیں مسلسل ہوں، موضوعاتی ہوں، ان میں ورکنگ گروپس بنیں، فالو اپ ہو، نوجوانوں اور خواتین کو شامل کیا جائے، اور ہر نشست سے عملی اقدامات نکلیں۔

اس کے باوجود ایک مثبت بات ضرور نظر آئی کہ درد موجود تھا۔ منتظمین کے اندر بھی، قائدین کے اندر بھی، نوجوانوں کے اندر بھی۔ کمی شاید نیت میں نہیں، منصوبہ بندی، ترجیحات اور طریقۂ کار میں تھی۔

ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ ایسی نشستیں زیادہ تیاری، زیادہ سنجیدگی، واضح ایجنڈے اور تعمیری نتائج کے ساتھ منعقد ہوں گی، تاکہ صرف گفتگو نہ ہو بلکہ راستے بھی نکلیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو تعمیری کام کرنے، بہتر منصوبہ بندی اختیار کرنے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


मुस्लिम नेताओं की बैठक: अच्छी नीयत, लेकिन अधूरी बैठक, मुस्लिम चुनौतियों पर गंभीर चर्चा की ज़रूरत


सैफ़ुर रहमान
चीफ एडिटर: इंसाफ टाइम्स (उर्दू,हिंदी,अंग्रेज़ी न्यूज़ वेबसाइट)
संयोजक: कोगिटो मीडिया फाउंडेशन (CMF)

आज पटना के हारून नगर कम्युनिटी सेंटर में कांग्रेस के वरिष्ठ नेता और सांसद जनाब जावेद साहब की ओर से एक बैठक का आयोजन किया गया, जिसमें विभिन्न राजनीतिक, सामाजिक, मिल्ली और वैचारिक हस्तियों ने भाग लिया। इस बैठक में सांसद जनाब तारिक अनवर साहब, विधान परिषद सदस्य क़ारी सोहेब साहब, विधायक क़मर आलम साहब, पूर्व केंद्रीय मंत्री अली अशरफ़ फ़ातमी साहब, पूर्व सांसद क़ैसर अली साहब, पूर्व विधायक अबू दोजाना साहब, पूर्व विधायक इज़हार साहब, इमारत-ए-शरिया के नाज़िम मुफ़्ती सईदुर्रहमान साहब सहित विभिन्न दलों के प्रतिनिधि, बुद्धिजीवी, सामाजिक कार्यकर्ता और कई महत्वपूर्ण हस्तियां मौजूद थीं।

इस बैठक का विषय देश और बिहार के अंदर मुसलमानों के सामने मौजूद वर्तमान चुनौतियां थीं। यह स्वयं एक सकारात्मक और सराहनीय कदम था, क्योंकि पटना में पिछले कुछ वर्षों में इस प्रकार की गंभीर और साझा बैठकें कम देखने को मिली हैं। इस लिहाज़ से इस प्रयास की सराहना की जानी चाहिए और उम्मीद रखनी चाहिए कि आगे भी इस तरह के आयोजन होते रहेंगे।

लेकिन एक सहभागी और एक चिंतित युवा की हैसियत से यह कहना भी ज़रूरी है कि इस बैठक से एक बड़ी निराशा जुड़ी रही।

बहुत से लोग इस उम्मीद के साथ आए थे कि जब विषय मुसलमानों की मौजूदा चुनौतियां हैं तो चर्चा भी इन्हीं मुद्दों के इर्द-गिर्द होगी, उनकी प्राथमिकता तय होगी, और कोई प्रारंभिक रोडमैप सामने आएगा। लेकिन अफसोस के साथ कहना पड़ता है कि विषय के अनुसार गंभीर, संगठित और परिणामकारी चर्चा न के बराबर रही।

इस समय देश में मुसलमानों के सामने सबसे बड़े मुद्दों में से एक नफ़रत आधारित अपराध (Hate Crimes) का मुद्दा है। यह समस्या विभिन्न रूपों में सामने आती है, कहीं भीड़ हिंसा, कहीं संस्थागत कार्रवाई, कहीं गिरफ्तारियों से संबंधित बहस, कहीं मदरसों व मस्जिदों से जुड़े विवाद, कहीं वक्फ़ या धार्मिक संस्थानों से संबंधित नीतिगत बहस।

उम्मीद थी कि इस पर चर्चा होगी कि ऐसे हालात में कानूनी, सामाजिक, मीडिया और सिविल सोसायटी के स्तर पर क्या कार्ययोजना होनी चाहिए? ऐसे मामलों का दस्तावेजीकरण कैसे हो? जनस्तर पर जागरूकता और संस्थागत संपर्क कैसे मज़बूत किया जाए? लेकिन इस दिशा में कोई ठोस चर्चा सामने नहीं आ सकी।

इसी तरह एक बड़ा मुद्दा पहचान और नैरेटिव का भी है। यह वास्तविकता है कि लंबे समय से मुसलमानों और इस्लाम के बारे में विभिन्न स्तरों पर ऐसे नैरेटिव बनाए गए हैं जिन्होंने समाज में गलतफहमियां पैदा की हैं। सवाल यह था कि इसका जवाब क्या होगा? मुसलमान अपनी पहचान, अपनी सामाजिक छवि और अपने सकारात्मक योगदान को किस प्रकार बेहतर तरीके से प्रस्तुत करें? समुदाय के अंदर विश्वास और आत्मविश्वास कैसे बहाल किया जाए? क्योंकि कौमें सिर्फ संसाधनों से नहीं, आत्मविश्वास से जीवित रहती हैं।

अगर किसी समुदाय के भीतर आत्मविश्वास बचा हो तो वह कठिन परिस्थितियों में भी खड़ा रह सकता है, लेकिन यदि आत्मविश्वास समाप्त हो जाए तो संसाधन भी उसे अधिक समय तक जीवित नहीं रख सकते।

शिक्षा पर चर्चा हुई, लेकिन दुर्भाग्य से वही पारंपरिक दायरा— शिक्षा हासिल करें, सिविल सेवा में जाएं, डॉक्टर बनें। जबकि असली सवाल यह है कि शैक्षणिक योजना क्या होगी? मार्गदर्शन कौन देगा? समुदाय के युवाओं को किन नए क्षेत्रों की ओर ले जाया जाएगा?

हमें सिर्फ नौकरशाह नहीं चाहिए; हमें इतिहासकार, अर्थशास्त्री, समाज वैज्ञानिक, विधि विशेषज्ञ, पत्रकार, मीडिया प्रोफेशनल्स, शोधकर्ता, नीति विशेषज्ञ और वैचारिक नेतृत्व भी चाहिए। इसके लिए समुदाय को ज़मीनी स्तर पर मार्गदर्शन कैसे दिया जा सकता है, इस पर कोई चर्चा नहीं हुई।

इसी तरह मीडिया के विषय पर भी गंभीर चर्चा की आवश्यकता थी। यदि किसी समुदाय को आत्मविश्वास देना हो, उसके नैरेटिव को मजबूत करना हो, उसके युवाओं को दृष्टि देनी हो, तो उसके लिए साहित्य, मीडिया, डिजिटल प्लेटफ़ॉर्म, यूट्यूब, वेबसाइट्स और वैचारिक संस्थाएं अनिवार्य होती हैं। सवाल यह नहीं कि मीडिया प्लेटफ़ॉर्म मौजूद हैं या नहीं; सवाल यह है कि क्या हमारे पास ऐसे प्लेटफ़ॉर्म हैं जो समुदाय को शिक्षा दें, सोच दें, मार्गदर्शन दें और भविष्य की दिशा तय करें?

सामाजिक गठबंधन पर भी चर्चा सतही रही। केवल “हिंदू-मुस्लिम एकता” कह देना पर्याप्त नहीं। वास्तविक प्रश्न यह है कि एकता किस आधार पर होगी? किस मॉडल पर होगी? देश के भीतर दलित, आदिवासी, पिछड़े वर्ग, सिख, ईसाई और अन्य वर्गों के साथ संवैधानिक, सामाजिक और जनस्तरीय रचनात्मक सहयोग कैसे बनाया जाए? क्या हम केवल चुनाव में किसी गैर-मुस्लिम नेता के पीछे खड़े हो जाने को हिंदू-मुस्लिम एकता और सामाजिक गठबंधन का रास्ता मानते हैं या हमें लगता है कि चुनावी राजनीति से ऊपर उठकर समाज में एकता और प्रेम पैदा करने की आवश्यकता है? और यदि आवश्यकता है तो इस पर ज़मीनी काम कैसे हो सकता है? वहां इस दिशा में कोई रचनात्मक चर्चा नहीं हुई।

इसी तरह आर्थिक सशक्तिकरण के प्रश्न को भी गंभीरता से लेने की आवश्यकता है। आर्थिक शक्ति के बिना सामाजिक और राजनीतिक प्रभाव कमज़ोर रहता है। इसलिए व्यापार, उद्योग, पेशेवर विकास और सामूहिक आर्थिक योजना पर भी निरंतर काम की आवश्यकता है। लेकिन यह विषय चर्चा से पूरी तरह गायब रहा।

राजनीतिक प्रतिनिधित्व की बात आई लेकिन प्रतिनिधित्व बढ़ाने के लिए कैसी कोशिशें होनी चाहिए, इस पर कोई चर्चा नहीं हुई। विधानसभा और लोकसभा के अलावा पंचायत और नगर निगम तक में भी हमारी राजनीतिक स्थिति अब बदतर हो रही है, जबकि हमें मालूम है कि नगर निगम और पंचायत राजनीतिक ज़मीन की बुनियाद हैं, मगर हमेशा की तरह आज भी इस मामले में खामोशी रही।

राजनीतिक नेताओं के महत्वपूर्ण कार्यों में से एक नीति निर्माण और योजनाओं के निर्माण में अपनी भूमिका निभाना होता है, लेकिन वहां ऐसी कोई चर्चा नहीं हुई कि सरकारों से बातचीत कर समाज के हितों से जुड़ी नीतियों पर कैसे काम किया जा सकता है और जो योजनाएं मौजूद हैं उनसे समुदाय को लाभ उठाना कैसे सिखाया जाए।

एक और अफसोसनाक पहलू यह रहा कि कई नेता सीमित समय के साथ आए। सवाल यह है कि क्या पूरे समुदाय की जटिल समस्याओं का समाधान दो घंटे की बैठकों में निकल सकता है?

यद्यपि यह कहने में कोई हर्ज नहीं कि समस्याओं को समझने और उनके समाधान पर चर्चा की कोई गंभीर कोशिश किसी भी अतिथि की ओर से नहीं हुई, सभी ने पारंपरिक बातें करके केवल औपचारिक उपस्थिति निभाई।

ज़रूरत इस बात की है कि ऐसी बैठकें लगातार हों, विषय आधारित हों, उनमें वर्किंग ग्रुप बनाए जाएं, फॉलो-अप हो, युवाओं और महिलाओं को शामिल किया जाए, और हर बैठक से व्यावहारिक कदम निकलें।

इसके बावजूद एक सकारात्मक बात ज़रूर दिखाई दी कि दर्द मौजूद था। आयोजकों में भी, नेताओं में भी, युवाओं में भी। कमी शायद नीयत में नहीं, बल्कि योजना, प्राथमिकताओं और कार्यप्रणाली में थी।

हम उम्मीद करते हैं कि आगे ऐसी बैठकें अधिक तैयारी, अधिक गंभीरता, स्पष्ट एजेंडा और रचनात्मक परिणामों के साथ आयोजित होंगी, ताकि केवल चर्चा न हो बल्कि रास्ते भी निकलें।

अल्लाह तआला हम सबको रचनात्मक कार्य करने, बेहतर योजना अपनाने और अपनी ज़िम्मेदारी निभाने की तौफीक़ अता फरमाए।

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے