Ticker

6/recent/ticker-posts

رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ

رحلت نبوی ﷺ سے 12 دن پہلے:مرض الوفات کی ابتدا: یکم ربیع الال سن 11 ہجری مطابق 27 مئی632ء بدھ


بسلسلہ: رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ


محمد یاسین جہازی

قسط نمبر(04)

رسول اکرم ﷺ کی آخری بیماری کا آغاز یکم ربیع الال سن 11 ہجری مطابق 27 مئی632ء بدھ کے دن ہوا۔ اس دن آپ ﷺ ایک جنازہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ راستے ہی میں سر درد کی شدت محسوس ہوئی، جو آگے چل کر مرضِ وفات ثابت ہوا۔
حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک پر کپڑا بندھا ہوا تھا اور بخار اس قدر شدید تھا کہ ہاتھ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔
مرض بڑھتا گیا تو ازواجِ مطہراتؓ نے آپ ﷺ کی اجازت سے آپ کا قیام مستقل طور پر حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں کر دیا۔
کمزوری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ آپ ﷺ خود چل کر حجرہ تک نہ جا سکے۔ حضرت علیؓ اور حضرت فضل بن عباسؓ نے آپ کے بازو تھام کر سہارا دیا اور بڑی مشقت سے حجرہ تک پہنچایا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دعا پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ نے خود دعا پڑھنے کو ترجیح دی اور فرمایا:
"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى"(اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے رفیقِ اعلیٰ کے ساتھ ملا دے)

رحلت نبوی ﷺ سے چار روز پہلے: 4 جون 632ء، مطابق 9 ربیع الاول 11 ھ، جمعرات

رحلت نبوی ﷺ سے چار روز پہلے: 4 جون 632ء، مطابق 9 ربیع الاول 11 ھ، جمعرات


بسلسلہ:رحلت نبوی ﷺ: تاریخ بہ تاریخ لمحہ بہ لمحہ


قسط نمبر(05)

محمد یاسین جہازی

وفات اقدس ﷺکے چار روز پہلے، 4؍جون 632ء، مطابق 9؍ ربیع الاول 11 ھ، جمعرات کے دن پتھر کے ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سر اقدس پر پانی کی سات مشکیں ڈالوائیں ۔ جس سے مزاج اقدس میں تھوڑی خنکی اور تسکین ہوئی تو مسجد نبوی تشریف لے گئے اور ایک مختصر تقریر فرمائی، جس میں آپ نے یہود و نصاریٰ کی طرح انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو ترجیح دے، مگر اس نے آخرت کو قبول کیا۔ یہ سن کر رمز شناس نبوت حضرت ابو بکر صدیق ؓ زاروقطار رونے لگے، جس پر حاضرین نے انھیں تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک شخص کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ حضرت ابوبکر کی یہ حالت دیکھ کرخیال اشرف سے ارشاد ہوا کہ میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں کسی شخص کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کرتا تو وہ ابوبکر ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میرے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے رخ پر سوائے دریچہ ابوبکر کے سب کو بند کرنے کا حکم دیا۔علالت نبوی پر انصار کو روتے ہوئے دیکھا تو انصار کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرنے کی وصیت فرمائی۔پھر حضرت اسامہ بن زید کو شام پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ حلال وحرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا میں نے وہی چیز حلال یا حرام کیا ہے جسے قرآن اور خدا نے حلال یا حرام قرار دیا ہے۔پھر اپنے اہل بیت کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ائے رسول کی بیٹی فاطمہ اور ائے پیغمبر خدا کی پھوپھی صفیہ ! خدا کے ہاں کے لیے کچھ کرلو میں تمھیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتا ۔

رحلت نبوی ﷺ سے تین روز پہلے: 10 ربیع الاول 11 ھ، مطابق 5جون 632ء، بروز جمعہ

(جاری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے