Ticker

6/recent/ticker-posts

مفت کتابیں بانٹنے کا شوق اور ایک تلخ سبق

مفت کتابیں بانٹنے کا شوق اور ایک تلخ سبق

۔۔۔۔
ڈاکٹر منور احمد کنڈے
۔۔۔۔
زندگی میں بعض اسباق کتابوں سے نہیں ملتے بلکہ زندگی خود پڑھاتی ہے۔ یہ اسباق کبھی مہنگے ہوتے ہیں اور کبھی اتنے مہنگے کہ انسان برسوں تک انہیں بھلا نہیں پاتا۔ اہلِ قلم خصوصاً شعراء اور ادباء کی زندگی میں بھی ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ اپنے جذبے، اخلاص اور محبت کو دوسروں کی قدردانی سمجھ بیٹھتے ہیں، لیکن وقت انہیں حقیقت کا آئینہ دکھا دیتا ہے۔
میں بھی ایک زمانے میں اپنی شاعری کی کتابیں بڑی تعداد میں شائع کرواتا تھا۔ اشاعت کا بہت خرچ ہوتا تھا، ترسیل کا خرچ الگ۔ ہندوستان اور پاکستان کی یونیورسٹیوں، کالجوں، لائبریریوں اور اردو شعبوں کے بیسیوں اساتذہ کو اہتمام سے کتابیں بھیجتا تھا۔ برطانیہ میں سینکڑوں نسخے منگواتا اور پھر دوستوں، ادیبوں، شاعروں اور ادبی تنظیموں میں تقسیم کرتا۔ یورپ، کینیڈا اور امریکہ تک پارسل بھیجتا۔ ہزاروں پاؤنڈ اس شوق پر صرف ہو جاتے تھے۔ دل کو ایک ناقابلِ بیان مسرت ہوتی تھی۔
اس وقت میرا خیال تھا کہ شاید یہی کتاب کی خدمت ہے۔ شاید اسی طرح ادب پھیلتا ہے۔ شاید لوگ کتابیں پڑھیں گے، ان سے فائدہ اٹھائیں گے اور مصنف کی محنت کا احترام کریں گے۔
لیکن زندگی نے ایک دن مجھے ایک ایسا منظر دکھایا جس نے میری سوچ یکسر بدل دی۔
برمنگھم کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے تقریباً تیس پینتیس دوستوں کو اپنی نئی کتاب تحفے میں دی۔ سب نے خوشی سے کتاب لی، شکریہ ادا کیا، جزاک اللہ کہا اور مصافحہ کرکے رخصت ہوئے۔
میں مطمئن تھا کہ آج میری کتاب کئی گھروں تک پہنچ گئی ہے۔
نماز کے بعد جب میں اپنی کار کی طرف جا رہا تھا تو اچانک ایک بلند آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ان دنوں مجھے ضعفِ سماعت نہیں ہوتا تھا۔۔ میں غیر ارادی طور پر رک گیا۔
ایک صاحب اپنے دوست سے کہہ رہے تھے:
"اوئے احسان یار، ایہہ کتاب میرے کولوں لے جا۔ مینوں منور دے گیا یار۔ میں تے پڑھنی نئیں۔ توں پڑھ لئیں۔"
احسان نے جواب دیا:
"انکل، میرے کول وی ہیگی آ اہ کتاب۔ میں وی نئیں پڑھنی۔ میں سیکیورٹی روم چہ رکھن لگاں۔ اوتھوں کوئی آپے چک کے لے جائے گا۔ تہاڈی وی اوتھے رکھ دناں۔"
یہ الفاظ میرے دل پر کسی ہتھوڑے کی طرح لگے۔
میں چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔
وہ کتاب جسے لکھنے میں مہینے اور برس صرف ہوئے تھے، جس کے لیے ناشر کو رقم ادا کی گئی تھی، جسے محبت سے تحفہ بنا کر پیش کیا گیا تھا، وہ چند منٹ کے اندر ہی بوجھ بن چکی تھی۔
میں تقریباً پندرہ منٹ تک اپنی کار کے پاس کھڑا سوچتا رہا۔ اس دوران میں دوسروں سے زیادہ خود کو ملامت کر رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ غلطی ان لوگوں کی نہیں تھی۔ غلطی میری اپنی تھی۔ میں نے بغیر طلب کے چیزیں لوگوں پر مسلط کرنی شروع کر دی تھیں۔ میں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ جو چیز میرے لیے قیمتی ہے وہ دوسروں کے لیے بھی اتنی ہی قیمتی ہوگی۔
آخرکار میں واپس مسجد کی طرف گیا۔ سیدھا سیکیورٹی روم میں داخل ہوا۔ وہاں ایک میز پر میری دونوں کتابیں رکھی تھیں۔ میں نے خاموشی سے وہ کتابیں اٹھائیں، اپنے بیگ میں رکھیں اور گھر واپس آ گیا۔
اس دن میں نے ایک بڑا سبق سیکھا۔
تحفہ وہی دینا چاہیے جس کی ضرورت اور خواہش موجود ہو۔ ہر شخص کتاب کا قاری نہیں ہوتا۔ ہر شخص شاعری سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ بعض لوگ محض اخلاقاً تحفہ قبول کر لیتے ہیں لیکن دل سے اس کی قدر نہیں کرتے۔
اس واقعے کے بعد میں نے کتابیں اندھا دھند تقسیم کرنا بالکل چھوڑ دیا۔ اب میں کتاب صرف اسے دیتا ہوں جو خود مانگے، پڑھنے کی خواہش ظاہر کرے یا جس کے بارے میں مجھے یقین ہو کہ وہ واقعی اس کا مطالعہ کرے گا۔
وقت نے مجھے یہ بھی سکھایا کہ مصنف کی اصل کامیابی مفت تقسیم کیے گئے نسخوں کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ ان چند قارئین میں ہوتی ہے جو کتاب کو کھولتے ہیں، پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں اور پھر برسوں بعد بھی اس کی کسی سطر کو یاد رکھتے ہیں۔
آج جب میں ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہزاروں تقسیم شدہ کتابوں سے زیادہ قیمتی وہ کتاب کے چند نسخے تھے جو واقعی پڑھے گئے۔ ادب کی اصل منزل الماری نہیں بلکہ دل ہے۔ جو کتاب دل تک نہ پہنچ سکے، وہ چاہے ہزاروں ہاتھوں میں کیوں نہ چلی جائے، اپنی منزل تک نہیں پہنچتی۔
یہ واقعہ میرے لیے ایک تلخ تجربہ ضرور تھا، لیکن اسی تلخی میں ایک ایسی مٹھاس پوشیدہ تھی جس نے مجھے حقیقت پسند بنا دیا۔ بعض اوقات زندگی ہمیں نقصان دے کر بچا لیتی ہے، اور بعض اوقات ایک مختصر سا واقعہ انسان کو وہ حکمت سکھا دیتا ہے جو سینکڑوں کتابیں نہیں سکھا سکتیں۔
والسلام۔۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے۔ ٦ جون ٢٠٢٦

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے