Ticker

6/recent/ticker-posts

محاورہ پسینے پسینے ہونا سچ کی طاقت

محاورہ پسینے پسینے ہونا سچ کی طاقت


سچ کی طاقت
صدر عالم اپنے مدرسہ میں ایک ذہین لیکن تھوڑا شرارتی طالب علم تھا۔ ایک دن ناشتہ کی چھٹی میں وہ درس گاہ میں اکیلا گیند سے کھیل رہا تھا، جبکہ مدرسہ کے ضابطہ کے مطابق درس گاہ کے اندر کھیلنے کی سخت ممانعت تھی۔

اچانک صدر عالم نے زور سے بلا کو ہوا میں اڑایا اور گیند سیدھی جا کر کھڑکی کے قیمتی شیشے پر لگی۔ ایک زوردار آواز کے ساتھ شیشہ چور چور ہو کر زمین پر گر گیا۔ صدر عالم کا دل دھک سے رہ گیا، وہ بری طرح ڈر گیا اور خاموشی سے درس گاہ سے باہر نکل گیا۔

تھوڑی دیر بعد جب صدر مدرس صاحب درس گاہ میں آئے اور ٹوٹا ہوا شیشہ دیکھا تو وہ سخت غصے میں آ گئے۔ انہوں نے پوری درس گاہ کو کھڑا کر دیا اور بارعب آواز میں پوچھا:
”یہ شیشہ کس نے توڑا ہے؟ سچ سچ بتا دو، ورنہ پوری درس گاہ کو سخت سزا ملے گی!“

درس گاہ میں اچانک خاموشی چھاگئی۔ صدر عالم کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ پکڑے جانے کے خوف اور اپنی وجہ سے پوری درس گاہ کو سزا ملنے کے احساس سے اندر ہی اندر گھبرانے لگا۔ اس کی پیشانی پر سردی کے باوجود پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔ وہ خوف اور شرمندگی کے مارے پسینے پسینے ہو گیا۔

جب صدر عالم سے رہا نہ گیا، تو اس نے ہمت کی، کانپتے ہوئے ہاتھ اٹھایا اور دھیمی آواز میں کہا:
”حضرت ! یہ مجھ سے غلطی سے ٹوٹا ہے۔ میں درس گاہ میں کھیل رہا تھا۔ مجھے معاف کر دیں!“
مہتم صاحب کا غصہ صدر عالم کا سچ سن کر کچھ دھیما ہوا۔ انہوں نے صدر عالم کو سمجھایا:
”صدر عالم ! تمہاری حرکت غلط تھی، جس پر تمہیں جرمانہ تو دینا ہوگا، لیکن تمہارے سچ نے تمہیں ایک بڑی سزا سے بچا لیا۔“

صدر عالم نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اس دن اس نے دو سبق سیکھے: ایک یہ کہ کبھی اسکول کے قوانین نہیں توڑنے چاہئیں، اور دوسرا یہ کہ جھوٹ انسان کو اندر سے ڈرا کر پسینے پسینے کر دیتا ہے، جبکہ سچ ہمیشہ سکون دیتا ہے۔

نصیحت آموز سبق

اس کہانی میں صدر عالم نامی ایک شرارتی طالب علم مدرسہ کے ضابطہ کے خلاف درس گاہ میں گیند کھیلتا ہے، جس سے کھڑکی کا قیمتی شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔ پکڑے جانے کے خوف اور اپنی وجہ سے پوری کلاس کو سزا ملنے کے ڈر سے وہ شرمندگی اور خوف کے مارے پسینے پسینے ہو جاتا ہے۔ آخر کار، وہ ہمت کر کے مہتمم صاحب کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے۔ مہتمم صاحب اس کے سچ بولنے کی وجہ سے اسے معاف کر دیتے ہیں اور صدر عالم کو سبق ملتا ہے کہ جھوٹ انسان کو خوفزدہ رکھتا ہے جبکہ سچ انسان کو سرخرو کرتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے