Ticker

6/recent/ticker-posts

مقدس خاندان - Muqaddas Khandaan

مقدس خاندان ؟

آج کل چونکہ موسم چل رہا ہے اھلِ بیت کی تقدیس کا ۔۔
لہٰذا موسم کی مناسبت سے کچھ تجزیہ پیش کر دوں۔
اصل میں یہ ( مقدس خاندان ) کا تصور ہی باطل اور قرآنی اُصولوں کے خلاف ہے۔

خاندانی تقدیس کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔نہ یہ تقدیس ہوتی ہے، ورنہ [ نوح کی بیوی بیٹا ، ابراہیم کا باپ لوط کی بیوی ] مورود الزام نہ ٹھہرتے۔
قرآن نے ایک اُصول دیا ہے ( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ :49/13 ) یقیناً تم سب کے درمیان جو سب سے زیادہ متقی ہے اللّٰه کے نزدیک وہی انسان یا چیز سب سے زیادہ باعزت ہے یعنی عزت کی بنیاد پر، نہ کہ خاندان کی بنیاد پر۔
اب جن آیات سے یہ خاندانی تقدس نکالتے ہیں تو لامحالہ اُس آیت کے ساتھ کھیل کھیلا گیا ہے ورنہ آیات دوسری آیات سے ٹکراتی ہی نہیں ۔
1۔ یہ آیت جِسے اُنہوں نے آیت ( تطہیر ) کا نام دیا ہوا ہے اُس
 آیت { 33/33 )میں صرف نبی کی بیویوں کو مخاطب کیا گیا ہے آیت 32-33-34 تینوں آیات میں مخاطب صرف نبی کی بیویاں ہیں بیچ میں ایک ضمیر ( عَنْكُمُ ) مذکر کی بھی لائی گئی ہے تاکہ نبی کو بھی اُس تنبیہ میں شامل کرلیا جائے کیونکہ ازواج نبی کی ہیں تو بگاڑ کے میٹر میں کسی نہ کسی درجہ میں فریق ثانی کو بھی رکھا جاتا ہے کہ کہیں اس بگاڑ میں تمہاری کوئی انوالومنٹ ہو تو تم بھی نظر ثانی کرلو ۔۔ یہ آیت ( تنبیہ ) کرنے کے لئے ہے نہ تکریم کے لئے؟

دیکھیں تنبیہ
( وَ قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا : 33/33 ) پس اے ازواج النبی تم ایامِ جاہلیت کی طرح سے بن سنور کر مت پھرا کرو۔ صلوٰہ قائم کیا کرو اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی پابندی بھی کیا کرو اللّٰه رسول کی تابع دار بن کر رہا کرو۔

یہ تنبیہ کرکے کہہ رہا ہے کہ اللّٰه تو چاہتا ہے کہ نبی کا گھرانہ برائیوں سے پاک کرے ۔۔ پاک کرنے کی تنبیہ کر رہا ہے (کُن ) کہنے سے پاک نہیں کر رہا وہ کُن کہنے سے کسی کو پاک نہیں کرتا ۔ اُس پورے بیان میں نبی کی بیویوں کے علاؤہ دوسرا کوئی شامل نہیں اور نبی بحیثت کیس کا فریق ثانی شامل ہے ۔

2 آیت ( مودة 42/32 ) اُس آیت کا نام بھی خود سے رکھ چھوڑا ۔ پہلے اُنہی الفاظ کی دوسری آیات دیکھیں۔
چنانچہ نوح علیہ السلام کہتے ہیں !

”وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ : 26/109 میں تم سے اُس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمہ ہے ۔۔۔
 یہی بات ھود علیہ السلام کہتے ہیں !
يٰقَوْمِ لَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱلَّذِى فَطَرَنِىٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ :سورہ ھ ود: آیت 51) ۔۔۔ 

یہی بات صالح علیہ السلام کہتے ہیں !
{ وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ : 26/145 ۔۔

یہی بات لوط علیہ السلام کہتے ہیں !
[ وَمَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ :26/164 ] 

یہی بات شعیب علیہ السلام کہتے ہیں!
{ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ الْعَالَمِينَ : 26/180} سارے انبیاء یہی کہتے آئے تھے ۔

مطلب سارے انبیاء یہی کہتے ہیں کہ تبلیغ دین پر مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے میرا اجر تو اللّٰه کے ذمہ ہے ۔۔۔ ماسوائے محمد کے کہ وہ کہتے ہیں:
{ لَّاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡهِ اَجۡرًا اِلَّا الۡمَوَدَّۃَ فِی الۡقُرۡبٰی: 42/23 ) مجھے اِس تبلیغِ دین پر تم سے کچھ نہیں چاہئے سوائے اِس کے کہ میرے اھلِ بیت سے محبت کرو۔

مطلب تمام انبیاء کو تو کچھ نہیں چاہئے تھا ۔ لیکن محمد جو اُس کا اجر چاہئے تھا اُس صورت میں کہ اُس کے بدلے اُن کے رشتہ داروں سے محبت کرو ۔۔ 
مطلب تمام انبیاء میں صرف محمد مطلب پرست نکلے ۔کسی نہ کسی شکل میں اُنہیں دنیا والوں سے اجر لینا ہے ۔ حالانکہ اُس آیت کا یہ مطلب قطعی نہیں۔ اُس کا مطلب کیا ہے ؟ ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔
اے ایس انصاری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے