تعمیر فکر
کتابیں مہنگی، مطالعہ کمزور
آئیے بک فیسٹیول کی تیاری کریں
غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
تمہیدی کلمات
اس وقت جو مختصر مضمون پیش کیا جا رہا ہے، اس میں میں نے کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مطالعے کے کم ہوتے رجحان اور نوجوان نسل کی علمی ضروریات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔ میرا احساس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں بہت سے غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے ضروری کتابوں کی خریداری بھی ایک مشکل مرحلہ بنتی جا رہی ہے۔ اس لئے میری اہلِ خیر اور صاحبِ ثروت افراد سے گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے ضرورت مند اور باصلاحیت طلبہ کی کتابوں کی خریداری میں مالی تعاون کریں۔ اللہ نے چاہا ، یہ بھی باعث ہوگا ۔
میرا یقین ہے کہ علم کی سرپرستی اور اہلِ علم کی مدد دراصل قوم کے فکری مستقبل کی حفاظت ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو کتاب سے جوڑنا چاہتے ہیں تو صرف مطالعے کی تلقین کافی نہیں، بلکہ انہیں کتاب تک رسائی فراہم کرنا بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک طالب علم کے ہاتھ میں اچھی کتاب دینا درحقیقت اس کے روشن مستقبل اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں حصہ ڈالنا ہے۔
مزید یہ کہ مطالعے اور کتب بینی کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ہم نوجوانوں کو منشیات، بے مقصد سرگرمیوں اور دیگر سماجی برائیوں سے بھی محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک اچھی کتاب نہ صرف علم میں اضافہ کرتی ہے بلکہ انسان کی فکر، کردار اور زندگی کے رخ کو بھی مثبت سمت عطا کرتی ہے۔
کل ایک ضروری کام کے سلسلے میں کافی دنوں بعد سرینگر کی معروف اور تاریخی مارکیٹ لال چوک جانے کا موقع ملا۔ وہاں سے فارغ ہوکر میں دو تین مکتبوں پر بھی گیا۔ دیکھا کہ اس عرصے میں بہت سی نئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں، لیکن ان کی قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ کتابوں کی خریداری عام طالب علم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
جو کتابیں دو تین سال پہلے ڈیڑھ سو سے دو سو روپے تک مل جاتی تھیں، آج ان کی قیمتیں چار گنا بڑھ کر آٹھ سو سے پندرہ سو روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں طلبہ اور عام قارئین کے لئے کتابوں کی خریداری آسان نہیں رہتی۔
میرے خیال میں اس صورتِ حال کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ سوشل میڈیا کی آمد کے بعد کتابوں کے باقاعدہ مطالعے کا رجحان خاصا متاثر ہوا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ آج اکثر لوگ کتابوں کے پی ڈی ایف تلاش کرتے ہیں اور مفت میں مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر بیشمار کتابوں کے پی ڈی ایف آسانی سے دستیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً ناشرین نئی کتابوں کی بہت محدود تعداد، یعنی سو دو سو نسخے ہی شائع کرتے ہیں، جس سے طباعت کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور بالآخر کتابوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
میں نے بھی چند کتابیں دیکھیں، جن میں تین عربی اور ایک اردو زبان میں تھی۔ اگرچہ سب ایک ایک جلد پر مشتمل تھیں، لیکن ان کی قیمتیں خاصی زیادہ تھیں، اس لیے ان کی خریداری سے معذور رہا۔ البتہ اپنی ضرورت کی ایک کتاب خرید لی اور ایک دوسری کتاب بطورِ تحفہ مل گئی۔
یہ صورتحال نوجوان نسل کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ کتابوں کی خریداری اور مطالعہ دونوں ہی ایک اہم مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ میری رائے میں اگر کوئی مصنف یا ناشر واقعی دینی اور علمی خدمت کو رضائے الٰہی کے لیے انجام دے رہا ہے تو اسے حتی الامکان کتابوں کی اشاعت اور خریداری کو آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس میدان کو محض تجارتی نفع و نقصان کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
قارئین کے لیے پیشگی اطلاع ہے کہ اس سال کتاب میلہ (Book Festival) معمول سے تقریباً ایک ماہ پہلے، 18 تا 26 جولائی 2026ء کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC) میں منعقد ہو رہا ہے۔ طلبہ اور نوجوانوں کو چاہئے کہ آج ہی سے اس کی تیاری کریں، اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرکے کچھ رقم کتابوں کے لیے محفوظ رکھیں اور ایسی تعمیری، اصلاحی اور علمی کتابوں کی خریداری کریں جو ان کے دین، ایمان اور فکر کو مضبوط بنائیں۔
میری مخلصانہ گزارش یہ بھی ہے کہ ایسے لٹریچر سے اجتناب کیا جائے جو دین کے بنیادی مصادر، یعنی قرآن و سنت سے دوری پیدا کرے یا فکری انتشار کا سبب بنے۔ اسی طرح فرقہ بندی، مسلکی تعصب اور مناظرہ بازی پر مبنی کتابوں سے بھی حتی الامکان گریز کرنا چاہئے۔ اس کے بجائے قرآنِ مجید، حدیثِ نبوی، سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تاریخ و تہذیب سے متعلق ایسی کتابوں کا انتخاب کیا جائے جو علم میں اضافہ کریں، کردار کی تعمیر کریں اور امت کے اتحاد و اصلاح کا ذریعہ بنیں۔
اسی کے ساتھ ساتھ عالمی مسائل، عصری تقاضوں اور انسانی معاشرے کو درپیش چیلنجوں پر لکھی گئی مفید اور معیاری کتابوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے، تاکہ ایک مسلمان اپنے دین سے وابستگی کے ساتھ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے بھی باخبر رہ سکے۔
آخر پر عرض ہے کہ قوموں کی فکری زندگی علمی کتابوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب کتاب سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے تو فکر سطحی اور رائے جذبات کی اسیر بن جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم مطالعے کی روایت کو زندہ رکھیں اور اپنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
0 تبصرے