مینڈک کی کہانی کا اصل نکتہ پانی کا درجۂ حرارت نہیں، بلکہ برداشت کی قیمت ہے
جب لیباٹری میں ڈڈو پر تجربات کیے گیے تو تجربات کرنے والوں نے محسوس کیا کہ ڈڈو کی آنکھوں میں امید ہوتی ہے اور بھروسہ ہوتا ہے کہ میں بچ جاؤں گا ۔ اور تجربہ کرنے والے کو بھی امید ہوتی ہے کہ اب نکلا۔۔۔۔۔۔ اب نکلا ۔۔۔لیکن وہ نکلتا نہیں بائولوجسٹ کہتے ہیں اسکی تمام طاقت برداشت میں خرچ ہو جاتی ہے کیونکہ ساری توانائی وہ ایڈجسٹ کرنے میں لگا دیتا ہے۔
اگر اسی مینڈک کو اچانک کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دیا جائے تو وہ فوراً پھدک کر باہر نکلنے کی کوشش کرے گا۔
تیسری دنیا کی تہذیبوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ سوچنے والے ذہن حالات کا دباؤ برداشت کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہر نئی خرابی کو وقتی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ ہر سمجھوتے کے بعد کہتے ہیں: " *ابھی نہیں، اگلے موڑ پر تبدیلی آئے گی۔ ابھی نہیں،۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بڑا آدمی اٹھے گا۔
کوئی رہنما چھلانگ لگائے گا، ہم بھی اس کی دم پکڑ کر نکل جائیں گے۔"
مگر حضرت بھی آخر انسان ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایڈجسٹ کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ جن سے انقلاب کی امید تھی، ان میں خود چھلانگ لگانے کی جان باقی نہیں رہتی۔
پھر معاشرہ اپنے آپ کو تسلیاں دیتا ہے:
"ڈڈو زندہ باد!"
"دیکھیے ڈڈو نے کیسا مقابلہ کیا!"
"ڈڈو کی شادی بھی ہوگی، ڈڈو کے بچے بھی ہوں گے!"
اور یہ سب کچھ اسی دیگچی کے اندر ہوتا رہتا ہے۔
یہاں تک کہ ایک دن ڈڈو مر جاتا ہے۔
وہ اس لیے نہیں مرتا کہ پانی اچانک بہت گرم ہو گیا تھا؛ وہ اس لیے مرتا ہے کہ وہ مسلسل ایڈجسٹ کرتے کرتے اپنی آخری قوت بھی کھو بیٹھا تھا۔
انسانی ذہن بھی ایسے ہی تھکتے ہیں، تہذیبیں بھی ایسے ہی تھکتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ صرف حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا رہے اور ان حالات کو جانچنے کے لیے اپنے سے بلند کوئی معیار نہ رکھے، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی قوتِ مزاحمت کھو دیتا ہے۔
شاید اسی لیے اہلِ ایمان کہتے ہیں کہ ہماری امید صرف انسانی قوت میں نہیں۔ اگر ہم صرف اپنی طاقت، اپنی عقل اور اپنی خواہشات کے اسیر ہوں تو ہم بھی اسی دیگچی کے مکین ہیں۔ ہماری اصل طاقت اس "ورٹیکل سورس" میں ہے؛ اس تعلق میں جو زمین سے نہیں، آسمان سے جڑتا ہے۔
کیونکہ جو صرف حالات کو دیکھتا ہے، وہ ایڈجسٹ کرتا رہتا ہے۔
اور جو مقصد کو دیکھتا ہے، وہ ایک دن چھلانگ لگا دیتا ہے۔
خالد
0 تبصرے