مراثیِ انیس کا سائنسی رنگ و آہنگ
ڈاکٹرمحمد عادل فراز، علی گڑھ
میر ببر علی انیس اردو مرثیہ نگاری کے وہ عظیم المرتبت فنکار ہیں جنہوں نے اپنی قادر الکلامی سے زمینِ سخن کو آسمان کی وسعت عطا کی۔ ان کی شاعری محض مذہبی عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ فطرت کے مشاہدے، کائناتی نظام کے فہم اور انسانی نفسیات کی گہرائیوں کا ایک حسین و جمیل انسائیکلوپیڈیا ہے جہاں ادب اور سائنس ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ انیس کا دور برصغیر میں سائنسی ترقی کا ابتدائی زمانہ تھا، مگر ان کا تخیلاتی شعور اور فطری مشاہدہ اس قدر وسیع تھا کہ وہ ان کائناتی مظاہر کی حقیقت تک پہنچ گئے جن کی وضاحت آج جدید فزکس، حیاتیات اور ماحولیاتی علوم کر رہے ہیں۔
آئیے ایک ایک کر خدائے سخن میرانیس کے کلام میں آئے مختلف سائنسی عناصر پر روشنی ڈالتے ہیں۔اور دیکھتے ہیں کس طرح میر انیس نے اپنی شاعری کے کینوس پر سائنسی پیکر تراشے ہیں۔
کوانٹم فزکس اور بصریات:
میر انیس کے کلام میں مادہ اور روشنی کے تعامل کی ایسی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جو جدید کوانٹم میکینکس کے تصورات سے حیرت انگیز مطابقت رکھتی ہیں۔ مرثیہ کے ایک شعر کے مصرعہ پر غور کریں۔کہتے ہیں:
ماہ کو مہر کروں ذروں کو انجم کر دوں
یہ مصرع روشنی کی دوہری فطرت کی طرف اشارہ کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق روشنی بیک وقت لہر اور ذرہ دونوں خصوصیات رکھتی ہے۔ انیس نے "ماہ" اور "مہر" کے استعاروں کے ذریعے روشنی کی لطافت اور شدت کو ایک ہی تخلیقی دائرے میں سمو دیا ہے۔
اسی طرح جب وہ کہتے ہیں:
قطرے کو جو دوں آب تو گوہر سے ملا دوں
تو یہ پانی کے قطرے میں روشنی کے انعکاس کی شعری تعبیر بن جاتا ہے۔ سائنس بھی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ شفاف اجسام روشنی کو اس انداز سے منعکس کرتے ہیں کہ ان میں موتی جیسی چمک پیدا ہو جاتی ہے۔
ماحولیاتی سائنس اور گلوبل وارمنگ:
انیس نے میدانِ کربلا کی گرمی اور ماحول کی شدت کو اس قدر حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا ہے کہ ان کے اشعار آج کے ماحولیاتی بحران کی علامت محسوس ہوتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
گردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے
بظاہر اس مصرع میں مبالغہ آرائی کا احساس ہوتا ہے لیکن عصر حاضرمیں ظاہر ہونے والے ماحولیاتی مسائل نے اس مصرع کو جیتے جاگتے پس منظر میں تبدیل کر دیا ہے۔جو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور زمینی حرارت کے تصور کو نمایاں کرتا ہے۔ جدید سائنس جس گلوبل وارمنگ اور گرین ہاؤس اثرات کی بات کرتی ہے، اسی تناظر میں میر انیس کا یہ مصرع ایک حقیقی استعارے کے طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے۔
شدید گرمی سے نباتات کے متاثر ہونے کی منظر کشی بھی ان کے ہاں نمایاں ہے:
سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے
یہ منظر نباتاتی حیات میں کلوروفل کی کمی اور شدید گرمی کے اثرات کی یاد دلاتا ہے۔ اسی طرح پانی کی کمی، خشک سالی اور ماحول کی بے رونقی کو انیس نے بڑے مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔
:سمندریات اور آبیات
میر انیس کے یہاں پانی، بادل اور سمندر کے استعارے صرف شعری صنعت نہیں بلکہ فطرت کے سائنسی نظام کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ان کی دعا:
یارب چمنِ نظم کو گلزارِ اِرم کر
اے ابرِ کرم خشک زراعت پہ کرم کر
پانی کے چکر اور بارش کے نظام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بخارات سے بادل بننا اور پھر بارش کی صورت میں زمین کو زندگی عطا کرنا ایک ایسا فطری عمل ہے جسے انیس نے شاعرانہ لطافت کے ساتھ بیان کیا۔
اسی طرح:
ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کر دوں
ایک معمولی قطرے کو سمندر کی وسعت دینا دراصل اس فکری قوت کا استعارہ ہے جس میں ایک چھوٹی شے بڑے نظام پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ تصور جدید سمندریات اور توانائی کی منتقلی کے اصولوں سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے۔
کائناتی نور اور ذراتی شعور:
انیس کے بعض اشعار میں کائنات کے ذروں میں پوشیدہ نور اور عظمت کا احساس بھی نمایاں ہے:
دشتِ وغا میں نورِ خدا کا ظہور ہے
ذروں میں روشنیِ تجلیِ طور ہے
یہ اشعار اس تصور کو اجاگر کرتے ہیں کہ کائنات کا ہر ذرہ کسی عظیم حقیقت سے وابستہ ہے۔ جدید طبیعیات میں بھی کائنات کو توانائی کے ایک ہمہ گیر نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جہاں ہر ذرہ ایک بنیادی قوت سے جڑا ہوا ہے۔
:نیوروسائنس اور جمالیاتی اثر
انیس کی شاعری کا اثر صرف جذبات تک محدود نہیں بلکہ انسانی ذہن اور نفسیات پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب وہ صبح، ہوا اور فطرت کے مناظر بیان کرتے ہیں تو قاری کے ذہن میں ایک مکمل بصری دنیا آباد ہو جاتی ہے:
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں، وہ بیاباں، وہ سحر
دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر
ایسے مناظر انسانی دماغ میں سکون، طمانیت اور وجد کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ جدید نفسیات کے مطابق فطرت سے قربت انسانی ذہن میں مثبت کیمیائی اثرات پیدا کرتی ہے اور جمالیاتی احساس کو بیدار کرتی ہے۔
فلکیات اور ارضیات:
انیس نے ستاروں، ثریا اور قطبِ شمالی جیسے فلکیاتی مظاہر کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا:
ایک ایک لڑی نظمِ ثریا سے ہو عالی
عالم کی نگاہوں سے گرے قطبِ شمالی
یہ اشعار فلکیاتی نظام، ستاروں کی ترتیب اور کائناتی توازن کی علامت بن جاتے ہیں۔ اسی طرح معدنیات اور سنگریزوں کی چمک کو بھی انہوں نے شعری حسن عطا کیا، جو ارضیاتی حقائق کی یاد دلاتی ہے۔
الغرض میر انیس کی شاعری ادب، سائنس اور روحانیت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ان کا کلام صرف ماضی کی ادبی روایت نہیں بلکہ فطرت، انسان اور کائنات کے باہمی ربط کا ایک فکری مطالعہ بھی ہے۔ ان کا سائنسی شعور ان کے وسیع مشاہدے، گہرے تدبر اور تخلیقی بصیرت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے مرثیہ نگاری کو ایسی فکری بلندی عطا کی جہاں انسانی جذبات کے ساتھ ساتھ کائناتی حقائق بھی روشن ہو کر سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انیس کی شاعری آج بھی ادب کے طالب علموں، محققین اور فکر و دانش کے متلاشی افراد کے لیے تازگی، حیرت اور بصیرت کا سرچشمہ ہے۔
ڈاکٹر محمد عادل فرازؔ علی گڑھ
ہلال ہاؤس4/114
نگلہ ملّاح سول لائن علی گڑھ
Dr. MOHAMMAD ADIL FARAZ
HILAL HOUSE
HNO.4/114 JAGJEEVAN COLONY
NAGLAH MALLAH CIVIL LINE
ALIGARH 202002
Mob:8273672110
Email:mohdadil75@yahoo.com
0 تبصرے