Ticker

6/recent/ticker-posts

اجالے ان کی یادوں کے

اجالے ان کی یادوں کے

قسط سوم
تحریر : سعید الرحمن سعدی قاسمی
(عزیزم سعید الرحمن سعدی قاسمی، ماموں جان مولانا عزیز الرحمن قاسمی رح کے لائق و فاضل پوتے اور شاگرد ہیں، عماد قاسمی )

مولانا عزیز الرحمن قاسمی: تعلیم و تربیت کا منفرد اسلوب

مولانا عزیز الرحمن قاسمی نے اس بچے کو اس کے ننھیال سے واپس لا کر اپنے گھر کی دہلیز پر زیادہ دیر نہیں ٹھہرایا۔ شاید وہ اس ننھے دل پر ترحم آمیز نگاہوں، سرگوشیوں اور سوالیہ نظروں کی گرد نہیں جمنے دینا چاہتے تھے۔ شاید وہ اس ٹوٹے ہوئے خاندانی قصے کو بار بار دہرانے والوں سے بچے کو دور لے جانا چاہتے تھے۔ شاید وہ اس بچے کی پہلی یادوں میں طعنوں کی تلخی نہیں، علم کی خوشبو بسانا چاہتے تھے۔ یا شاید انہیں یہ یقین تھا کہ بعض بچوں کی قسمتیں گھر کے صحنوں میں نہیں، درس گاہوں کے برآمدوں میں لکھی جاتی ہیں؛ جہاں آنسوؤں کی جگہ سبق لیتے ہیں، محرومیوں کی جگہ مقاصد جنم لیتے ہیں، اور ٹوٹے ہوئے بچوں کے اندر آہستہ آہستہ ایک نئی دنیا آباد کی جاتی ہے۔

ان دنوں وہ اتر پردیش کے ضلع فتح پور، بندکی میں واقع ایک چھوٹی سی بستی "عالم گنج" میں قائم "مدرسہ اصلاح العلوم" میں صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ مدرسہ بھی اپنی نوعیت کی ایک خاموش داستان تھا۔ اسّی کی دہائی میں جب اس علاقے کے گرد و پیش جہالت کے دھندلکے گہرے ہوچکے تھے، ملک کے معروف صاحب دل عالم و بزرگ اور جامعہ عربیہ ہتھوڑا، باندہ کے بانی و ناظم حضرت قاری سید صدیق احمد باندویؒ کی ایما پر ان کے مسترشدِ خاص حضرت مولانا طیب صاحب مظاہری، کچ بچی پوری ثم آواپوری رحمہ اللّٰہ نے اس ویرانے میں علم کا ایک چراغ روشن کیا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ چراغ ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو چکا تھا، جہاں دو ڈھائی سو طلبہ، دس بارہ اساتذہ، دینیات، حفظ، فارسی اور عربی کی ابتدائی جماعتوں کے ذریعے اپنے اپنے حصے کا نور سمیٹ رہے تھے۔ پچاس ساٹھ مقیم طلبہ، دور دراز سے آنے والے بچے، سیتا مڑھی اور اس کے اطراف سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ، اور ان سب کے درمیان ایک خاموش، متین اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر موجود تھے، مولانا عزیز الرحمن قاسمی۔

رہائش کے لیے انھوں نے گاؤں کے ایک حاجی صاحب کا خالی پڑا ہوا گھر منتخب کیا۔ دادی جان، اہلِ خانہ اور اس چار سالہ بچے کو ساتھ لے کر وہ وہاں آ بسے۔ بچے کے لیے یہ ایک نئی اور انوکھی دنیا تھی، نیا آنگن، نئے چہرے، نئی آوازیں، نئے راستے۔ وہ بچہ جو چند روز پہلے تک ننھیال کی گلیوں میں ماں کو پکارتا پھر رہا تھا، ابھی تک رات کو سوتے وقت ماں کو یاد کر کے سسک پڑتا تھا۔ اب مدرسے کے صحن میں اپنے دادا کی انگلی تھامے چل رہا تھا۔ وہ اسے روز ساتھ لے جاتے۔ کبھی کسی استاد سے تعارف کرواتے، کبھی ہم وطن طلبہ سے روشناس کرواتے اور کہتے: "یہ بھی تمہاری طرح طالب علم ہیں۔" کبھی درس گاہ کی طرف اشارہ کرتے، کہ یہاں تمھیں پڑھنا ہے، کبھی مسجد کی طرف رہنمائی کرتے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بچے کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کر رہے، بلکہ اس کے اندر ایک نئی دنیا سے مانوس ہونے کی صلاحیت پیدا کر رہے ہوں۔

چند دن گزرے ہوں گے کہ ایک صبح پلاسٹک کا ایک صفحے والا "بغدادی قاعدہ" اس کے سامنے رکھ دیا گیا۔ سامنے سے دیکھنے پر وہ قاعدہ نہایت معمولی سا معلوم ہوتا تھا؛ مگر شاید عظیم سفر ہمیشہ معمولی چیزوں سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ اس میں اوپر کی طرف مکمل عربی حروفِ تہجی، پیچھے ان ہی حروف کے ساتھ زبر، زیر، پیش، جزم اور تشدید کی مشق، اور نیچے ابجد کے اعداد درج تھے۔ انہوں نے پہلے حروف سے دوستی کروائی۔ پھر تختی پر لکھ کر دکھایا، بورڈ پر لکھ کر سمجھایا، ہوا میں انگلی سے حروف بنوائے، مختلف طریقوں سے ان کی پہچان راسخ کی۔ حروف کی ادائیگی درست مخارج کے ساتھ سکھائی۔ رواں اور ہجے دونوں طرح سے پڑھنے کی مشق بھی کروائی۔ اور اس اطمینان سے ان اسباق کو دہرایا جیسے انہیں کسی قسم کی کوئی جلدی نہ ہو، کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ علم کی عمارت رفتار سے نہیں، بنیاد سے مضبوط ہوتی ہے۔

اور پھر وہ حیرت انگیز مرحلہ آیا جسے آج بھی یاد کیا جائے تو تعجب ہوتا ہے کہ یہ تدبیر تھی، تجربہ تھا، الہام تھا یا ایک مربی کا خالص فطری اجتہاد۔ (1) انہوں نے نہ ناظرۂ قرآن کی باضابطہ ابتدا کروائی، نہ یسرنا القرآن اور نورانی قاعدے جیسے مروجہ مراحل سے گزارا، نہ " بغدادی قاعدے" کی تکرار میں مہینوں صرف کیے بلکہ "بغدادی قاعدے" کی تکمیل کے  معاً بعد ایک دن قرآنِ مجید کھول کر آخری صفحہ اس کے سامنے رکھ دیا۔ سورۂ ناس کی پہلی آیت پر انگلی رکھ کر پوچھا: "یہ کون سا حرف ہے؟"۔ چوں کہ بچے نے اب تک حروف کو بغدادی قاعدے میں ان کی الگ الگ اور مکمل شکلوں میں پڑھا تھا، جب کہ یہاں وہی حروف مختلف صورتوں میں، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے سامنے آ رہے تھے۔ اس لیے کبھی وہ فوراً پہچان لیتا اور کبھی ٹھٹھک جاتا۔ جہاں جواب درست ہوتا، وہاں شاباشی ملتی؛ اور جہاں غلطی ہوتی، فوراً قاعدہ کھل جاتا۔ پھر بڑی محبت اور صبر کے ساتھ سمجھایا جاتا: "دیکھو، یہ بھی وہی قاف ہے، بس لفظ کے شروع میں آ گیا ہے، اس لیے اس کی صورت ایسی ہے... اور یہ لام ہے، یہ تو ویسے ہی ہے نا بیٹا! جیسے آپ نے قاعدے میں پڑھا تھا… اور یہ قاف پر کیا ہے؟۔۔۔۔ اس پر تو پیش ہے... پھر لام ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ دیکھو، اس پر جزم ہے… اب ہم دونوں کو آپس میں جوڑیں گے، پتہ ہے کیا بن جائے گا؟۔۔۔۔۔ یہ ہو جائے گا۔۔۔۔ قُل..." (جب لفظ مکمل ہوا تو انہیں اپنے ایک بنگالی طالبِ علم کا دلچسپ واقعہ یاد آ گیا۔ مسکراتے ہوئے فرمانے لگے: "ایک بار میں نے ایک بنگالی بچے سے 'قُل' کا ہجا پوچھا تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا: 'قافو کو پیشو دے لو، لامو کو جوجوم، قافو کو لامو میں ٹھیلو دے لو... بھیگے لو قُل!''۔ پھر خود ہی ہنسنے لگے۔ بچہ بھی ان کی ہنسی دیکھ کر مسکرا دیا۔ شاید وہ اس وقت قصے کا لطف پوری طرح نہ لے سکا ہو، مگر اس کے دل سے قرآن کے پہلے سبق کا خوف ضرور کم ہو گیا) یوں ایک ایک حرف اپنی نئی پہچان کے ساتھ اس کے سامنے کھلتا چلا گیا۔ بچہ ان کے پیچھے دہراتا، اور یوں ایک لفظ وجود میں آ جاتا۔ ایک آیت مکمل ہوئی تو فرمایا: "اب جاؤ، صحن میں ٹہلتے ہوئے اسے یاد کر کے آؤ۔" حیرت انگیز طور پر وہ آیت کچھ ہی دیر میں یاد ہو گئی۔ پھر دوسری آیت شروع ہوئی، پھر تیسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری سورۂ ناس سینے میں اتر گئی۔ اس کے بعد یہی ترتیب معمول بنتی چلی گئی۔ ایک طرف نئے حروف اور الفاظ کی پہچان بڑھتی رہی، دوسری طرف یادداشت کے دامن میں آیات جمع ہوتی رہیں۔ یوں قرآن پڑھنا اور قرآن یاد کرنا اس کے لیے دو الگ الگ مرحلے نہیں رہے، بلکہ دونوں سفر ایک ہی راستے پر ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جب اس بچے کے مقدر میں حفظِ قرآن کی سعادت لکھ دی گئی، اگرچہ اس وقت نہ بچے کو اس کا شعور تھا اور نہ دیکھنے والوں کو اس کا اندازہ، بلکہ ابھی دنیا نے تو اسے باقاعدہ طالب علم بھی تسلیم نہ کیا تھا۔

حفظ کا یہ سفر بھی رسمی اور روایتی نہ تھا۔ خلافِ معمول آخری منزل سے آغاز ہوا۔ پھر سورہ در سورہ، پارہ در پارہ، الٹی سمت سے قرآن سینے میں اترتا چلا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تجوید کے بنیادی اصول، مخارج کی درستی اور لہجے کی اصلاح بھی جاری رہی۔ جب آخری منزل مکمل ہوگئی تو پھر سورۂ فاتحہ سے قرآن کا سیدھا سفر شروع ہوا۔ روزانہ تھوڑا سا سبق، اس کے ساتھ سبق پارہ، پھر آموختہ۔ تکرار ایسی کہ بھولنے کی گنجائش کم سے کم رہ جائے، اور تدریج ایسی کہ طبیعت پر بوجھ محسوس نہ ہو۔ اس پورے نظام کی سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کے معمار خود حافظِ قرآن نہ تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں بچوں کے مزاج، ان کی یادداشت اور ان کے ذہنی دریچوں تک رسائی کا ایک غیر معمولی سلیقہ عطا فرمایا تھا، جو محض اَسناد و القاب سے حاصل نہیں ہوتا۔ وہ جانتے تھے کہ کس مرحلے پر کتنا کام لینا ہے، کہاں حوصلہ دینا ہے، کہاں آسانی پیدا کرنی ہے، اور کس طرح ایک ننھے ذہن کو تھکائے بغیر منزل کی طرف بڑھاتے رہنا ہے۔ شاید اسی لیے وہ بچہ جس نے ابھی زندگی کے ابتدائی زخموں سے سنبھلنا بھی نہ سیکھا تھا، آہستہ آہستہ کلامِ الٰہی کا امین بنتا جا رہا تھا۔

اسلامیات کی تعلیم میں بھی ان کا انداز جداگانہ تھا۔ انہوں نے کبھی اس موضوع کی کسی کتاب کو ہاتھ میں لے کر سبق نہیں پڑھایا، اول کلمہ سے ابتدا ہوئی، پھر دوسرے کلمات، ان کے ترجمے، مختصر دعائیں،ان کے مفاہیم، منتخب احادیث، ان کی روشنی، نماز کے مسائل، عقائد کی بنیادی باتیں، آدابِ زندگی اور عبادات کے طریقے۔ سب کچھ روزانہ کی نشستوں میں، تھوڑا تھوڑا، زبانی اور بے تکلف انداز میں سکھایا جاتا رہا۔ نماز اور وضو جیسے عملی امور میں محض مسائل کے بتانے پر اکتفا نہ کرتے، بلکہ خود مشق کرواتے، غلطی کی اصلاح کرتے اور بار بار دہرا کر پختگی پیدا کرتے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ تعلیم نہیں دے رہے، بلکہ بچے کی فطرت میں دین کو آہستہ آہستہ جذب کر رہے ہوں۔

ان کی یہ ندرت صرف دینیات تک محدود نہ تھی۔ سیرتِ نبویؐ، تاریخ، عمومی معلومات اور خاندانی روایات کے لیے بھی کوئی الگ وقت مقرر نہ تھا۔ ان چیزوں کو ذہن نشین کرانے کے لیے بھی وہ غیر رسمی طریقہ اختیار کرتے۔ عصر اور عشاء کے بعد مدرسے سے گھر جانے کے دوران انگلی پکڑ کر چلتے ہوئے کبھی درختوں کے نام بتاتے، کبھی فصلوں کی پہچان کرواتے، کبھی راستے میں ملنے والے لوگوں کے تعارف سے خاندان کی شاخیں سمجھاتے، کبھی کسی تاریخی واقعے کا ذکر چھیڑ دیتے اور کبھی انبیا و صالحین کے واقعات سنانے لگتے۔ سیرت کی باتیں اکثر سوال و جواب اور کوئز کے انداز میں ہوتیں۔ پہلے خود سوال کرتے، پھر جواب بھی خود ہی بتا دیتے۔ اس کے بعد دو تین مرتبہ جواب دہرانے کو کہتے تاکہ بات ذہن نشین ہو جائے۔ پھر مسکرا کر کہتے: "اچھا، اب تم پوچھو، میں جواب دیتا ہوں۔" یوں سبق سوال و جواب کے ایک دل چسپ کھیل میں بدل جاتا اور بات بے مشقت حافظے میں اترتی چلی جاتی۔ اپنے خاندان اور شجرے سے انہیں خاص شغف تھا۔ چنانچہ موقع بہ موقع اپنے آباؤ و اجداد کے نام، ان کا مختصر تعارف، باہمی رشتے اور مختلف شاخوں کی تفصیلات بھی بتلاتے رہتے۔ نتیجہ یہ تھا کہ ابھی عمر ہی کیا تھی، مگر سات پشتوں تک کے نام اور خاندان کی متعدد شاخیں ذہن نشین ہو چکی تھیں۔ پھر( گھر سے مدرسہ) واپسی کے سفر میں وہ سوال کرتے: "اب بتاؤ، آتے ہوئے کیا کیا باتیں بتائی تھیں؟" یوں راستہ درس گاہ بن جاتا، سفر سبق میں ڈھل جاتا، اور زندگی خود ایک کھلی ہوئی کتاب کی صورت اختیار کر لیتی۔

اردو کی تعلیم کا مزاج بھی کم و بیش یہی تھا۔ ابتدا حروف کی شناخت سے ہوئی۔ پھر تختی پر لکھنا، مٹانا، دوبارہ لکھنا، شکلوں کو پہچاننا اور آوازوں کو جوڑنا۔ اس کے بعد مولوی اسماعیل میرٹھی کی “اردو زبان کا قاعدہ” اور “اردو زبان کی پہلی” سامنے آئی۔ پھر رجسٹروں، اخبارات، رسائل، درسی کتابوں، حتیٰ کہ سامنے پڑے ہوئے کاغذ کے ہر ٹکڑے سے تعلیم کشید کی جانے لگی۔ وہ خود سے پڑھنے کی ترغیب دیتے؛ جہاں غلطی ہوتی وہاں لمبی سی “ہوں…” کی آواز سنائی دیتی تاکہ بچہ اپنی غلطی خود ہی محسوس کرے اور درستگی کی طرف بڑھے۔ صحیح پڑھنے پر شاباش دی جاتی، کبھی معمولی سا انعام، کبھی کھیل کی اضافی مہلت۔ (چنانچہ اُردو زبان کی دوسری سے پانچویں تک اور دینی تعلیم کا رسالہ مکمل اسی طرز سے پورا ہوا)  اردو املا میں ایک حرفی الفاظ سے ابتدا ہوئی اور پھر چھ حرفی تک کا سفر طے ہوا۔ بعد میں روزمرہ زندگی کی چیزوں کے نام لکھوائے گئے، بڑی جماعتوں کے بچوں کے ساتھ بٹھایا گیا، دوسروں کی کاپیاں چیک کروائی گئیں، اور کبھی خود سے چھوٹے بچوں کے اسباق سنانے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ محض تعلیم حاصل نہ کی جائے؛ اعتماد بھی پروان چڑھایا جائے۔

حفظ کے دوسرے سال سے ایک اور معمول شروع ہوا، جسے آج بھی یاد کیا جائے تو روح کے اندر تک سحر کی ٹھنڈی ہوا محسوس ہونے لگتی ہے۔ فجر سے پہلے جگا دیا جاتا تاکہ رات کے یاد کردہ سبق کو تازہ کرکے سنادیا جائے۔ فرماتے: "دنیا کا سب سے سنہرا وقت یہی ہے۔ اس وقت یاد کیا ہوا سبق دل میں اتر جاتا ہے، اور اللہ کی رحمت بھی اپنے بندوں کے قریب ہوتی ہے۔" بچہ نیند بھری آنکھوں سے سبق دہراتا رہتا۔ اور وہ تہجد اور نوافل میں مشغول ہو جاتے۔ اس طرح  فجر سے پہلے سبق سن لیا جاتا۔ نماز کے بعد وہ تلاوت اور اشراق میں مصروف ہو جاتے اور حکم ہوتا کہ سبق پارہ یاد کیا جائے۔ اشراق کے بعد اس کی سماعت ہوتی، پھر ہلکے ناشتے کے ساتھ ساتھ مدرسے جانے کی تیاری میں مصروف ہو جاتے۔

سبھی جانتے ہیں کہ تعلیم، خصوصاً حفظِ قرآن کے لیے، جسمانی صحت اور قوتِ حافظہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، اور اس کے لیے اچھی غذا ناگزیر ہے۔ اسی لیے صبح کے ہلکے ناشتے میں خاص اہتمام کیا جاتا۔ چنانچہ جب تک حفظ اور دور کا سلسلہ جاری رہا، رات کو چند بادام پانی میں بھگو دیے جاتے، صبح ان کا چھلکا اتار کر سل پر رگڑا جاتا، پھر اس میں خالص شہد ملا کر اپنے ہاتھ سے کھلایا جاتا۔ کبھی رات کے بھگوئے ہوئے چنے گڑ کے ساتھ  پیش کیے جاتے، کبھی انڈے، دودھ اور گھی ملا کر نرم سا حلوہ تیار کیا جاتا اور کبھی رات کی بچی ہوئی روٹی کو دودھ میں بھگو کر ناشتے کا حصہ بنا دیا جاتا۔ یہ سب اہتمام اس یقین کے ساتھ تھا کہ کمزور بدن پر علم کا بوجھ ڈالنا انصاف نہیں۔

مدرسے میں اس وقت ناشتے سے پہلے تین اور ناشتے کے بعد تین گھنٹیاں ہوا کرتی تھیں۔ چنانچہ اس بچے کے لیے بھی ان گھنٹیوں کا ایک باقاعدہ نظام متعین تھا تاکہ اس کا ایک لمحہ ضائع نہ ہو۔ پہلی گھنٹی آموختہ یاد کرنے کے لیے ہوتی، دوسری میں آموختہ سنایا جاتا، اور تیسری میں نیا سبق اپنے خاص انداز سے پڑھایا جاتا اور پھر اسے بار بار دہرانے کی تاکید کی جاتی۔ اس طرح ناشتے کی چھٹی تک حفظ کا تقریباً سارا کام مکمل ہو جاتا۔

ناشتے کی چھٹی کے بعد کا وقت بظاہر فارغ تھا، مگر درحقیقت وہیں سے اصل آزمائش شروع ہوتی، کیونکہ اس وقت کوئی باقاعدہ تعلیمی سرگرمی متعین نہ تھی۔ وہ چاہتے کہ بچہ دوبارہ درس گاہ میں بیٹھ کر باضابطہ پڑھائی کرے، جبکہ بچے کا خیال یہ تھا کہ سبق تو مکمل ہو چکا، اب کھیل کا وقت ہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ اس وقت کھیل کے لیے کوئی مستقل رفیق بھی میسر نہ ہوتا، اس لیے کبھی وہ کسی طالب علم کے پاس جا کر اس سے بات کرتا، کبھی کسی دوسرے کے پاس جا کر کچھ پوچھنے لگتا۔ جیسے ہی ان کی نظر پڑتی، کبھی اسے ڈانٹ پڑتی اور کبھی دوسرے بچوں کو سرزنش کا سامنا کرنا پڑتا۔ آخر کار اس بچے نے رفتہ رفتہ یہ معمول بنا لیا کہ کچھ دیر ان کی گود میں بیٹھ کر انہیں پڑھاتے دیکھتا، سنتا، اور بیچ بیچ میں بچوں اور اپنی فہم کے مطابق پڑھائے جانے والے مواد پر تبصرہ بھی کرتا۔ پھر کسی بہانے درس گاہ سے نکل جاتا، صحن کے چکر لگاتا، دوسرے اساتذہ کی درس گاہوں میں جا کر کچھ وقت گزارتا، اور پھر چھٹی سے پہلے واپس آ کر ان کے پاس بیٹھ جاتا۔

ظہر بعد کا وقت اردو نقل و املا کے لیے مقرر تھا اور عصر کے بعد کھیل کود اور سیر و تفریح کے لیے، مگر ان کے نزدیک کھیل بھی محض تفریح نہ تھا، بلکہ تربیت کا ایک حصہ تھا۔ چند ایسے بچے منتخب تھے جن کی صحبت پرانھیں اعتماد تھا، صرف ان کی بچوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت تھی۔ کبھی وہ خود سامنے بیٹھے رہتے، کبھی اساتذہ کے ساتھ گفتگو کے دوران نگاہ رکھتے، اور کبھی ہاتھ پکڑ کر اسے سیر کے لیے لے جاتے، جہاں درختوں، راستوں اور خاموشیوں کے درمیان بھی کوئی نہ کوئی سبق چھپا ہوتا تھا۔

کھیل سے انہیں انکار نہ تھا، مگر وہ کھیل کو بھی تربیت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کا اصول تھا کہ ایسا کھیل ہونا چاہیے جو جسم کے ساتھ ذہن کو بھی متحرک رکھے؛ محض وقت گزاری اور ذہنی عیاشی انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ اسی لیے بچوں کے حوالے سے 'کبڈی'، 'کشتی'، 'شطرنج' اور 'تعلیمی تاش' انہیں پسند تھے۔ وہ بازو لڑوانے کی مشق کرواتے، مٹھی کھلوانے کی ترکیبیں سکھاتے، اور کبھی افسوس سے کہتے: "کاش یہاں گھوڑا میسر ہوتا تو گھڑسواری کرواتا۔" جب ضد بڑھتی تو مسکرا کر اپنی پشت جھکا دیتے: "آؤ، آج اسی پر گھڑسواری کر لو۔" ایک مرتبہ 'کرکٹ' کھیلنے کی خواہش ظاہر کی گئی تو پہلے اس کے نقصانات سمجھائے، پھر خود بلا بنوایا، گیند پھینکی اور بیٹنگ کروائی۔ 'لوڈو' کھیلنے کی ضد پر بازار سے منگوانے کے بجائے اپنے قلم سے لوڈو اور سانپ سیڑھی تیار کی؛ فرق صرف یہ تھا کہ اس سانپ سیڑھی میں ہر سیڑھی پر اس کے قد و قامت کے تناسب سے کوئی اچھا وصف لکھا ہوتا  اور ہر سانپ کے منہ پر کوئی اخلاقی برائی، یوں کھیل بھی رہتا اور تربیت بھی جاری رہتی۔ اسی مجموعی ماحول نے میل جول کے باب میں بھی ایک خاص مزاج پیدا کیا۔ بے تحاشا دوستیوں اور ہر محفل میں شریک ہونے کی خواہش کو وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک بچے کی شخصیت سازی میں اس کے رفقا کا اہم کردار ہوا کرتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں وہ بے حد محتاط تھے۔ آزادی بھی دیتے مگر انتخاب کے ساتھ، اعتماد بھی کرتے مگر نگرانی کے ساتھ ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بعد کی زندگی میں بھی بچے کی طبیعت میں ہجوم کے بجائے منتخب اور بامعنی رفاقت کا رجحان زیادہ مضبوط رہا۔

مدرسے کی دنیا میں اگرچہ عصر کے بعد کا وقت طلبہ کی نظر میں کھیل کے لیے مخصوص تھا، مگر اس بچے کی طبیعت اپنے ہم عمروں سے مختلف تھی۔ اسے شور مچاتے میدانوں سے زیادہ کشش ان مجلسوں میں محسوس ہوتی جہاں دادا محترم اپنے احباب اور دگر اساتذہ کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ نائب ناظم حضرت مولانا فضل کریم صاحب مظاہری کنہوانوی، استاذِ محترم مولانا بشیر احمد صاحب مظاہری آواپوری، مولانا بقاء اللہ صاحب نیپالی اور کبھی کبھار ناظمِ مدرسہ حضرت مولانا طیب صاحب مظاہری۔ ان اہلِ علم کی موجودگی میں یہ نشستیں محض گفتگو نہیں ہوتیں بلکہ علم کے موتی بکھرتے، ادب کی باریکیاں کھلتیں، تاریخ کے دریچے وا ہوتے ، اسلاف کے واقعات سنائے جاتے اور اخلاق کی لطافتیں سمجھی جاتیں۔ کبھی ظرافت کی چاشنی سے ماحول ہلکا ہو جاتا، کبھی علمی گفتگو میں سنجیدگی چھا جاتی۔ مولانا عزیز الرحمن قاسمی ان محفلوں کے میرِ مجلس ہوتے، اور ایک بچہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھا یہ سب سنتا رہتا، اور بے خبر ہوتا کہ یہ سب اس کی شخصیت کے اندر آہستہ آہستہ اتر رہا ہے۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے تین برس اور چند ماہ گزر گئے، اور الحمدللہ بچے کا حفظِ قرآن مکمل ہوگیا۔ لوگ جب ایک سات سالہ حافظِ قرآن کو دیکھتے تو اس کی ذہانت کی تعریف کرتے، اس کی محنت کو سراہتے اور اس کے نصیب پر رشک کرتے۔ مگر کم لوگ جانتے تھے کہ اس کامیابی کے پس منظر میں ایک ایسا شخص کھڑا تھا جس نے خود حافظ نہ ہونے کے باوجود اس کے لیے حفظ کا ایک مکمل نظام ترتیب دیا، جس نے معلمی کے ساتھ ساتھ مربی ہونے کا فریضہ انجام دیا اور جس نے ایک یتیم ہوتے ہوئے بچے کی بکھری ہوئی دنیا کو سحر کی ساعتوں، شفقت بھری شاباشیوں اور بے شمار دعاؤں کے ذریعے ازسرِ نو تعمیر کیا۔

تکمیل حفظ کے قریب ان کے کردار کا ایک اور پہلو سامنے آیا جس نے ان کی علمی دیانت اور ظرف کو مزید نمایاں کر دیا۔ انہوں نے ابتدا سے انتہا تک اس پورے سفر کو اپنی طرف منسوب رکھنے کے بجائے، بچے کو شعبۂ حفظ کے صدر اور باکمال استاذ، جناب حافظ جلال الدین صاحب پرتاب پوری کی درس گاہ میں منتقل کر دیا۔ اگرچہ روزمرہ نگرانی، شفقت اور تربیت میں کوئی کمی نہ آنے دی، مگر تکمیلِ حفظ کے بعد ہر طرف اسی استاد کا ذکر ہوا۔ 'جشنِ تکمیلِ حفظ ' کی تقریب میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر انھیں اکرامیہ پیش کیا اور لوگوں سے کہا: "میرے پوتے نے حافظ جلال الدین صاحب کے پاس پڑھ کر حفظ مکمل کیا۔" یہاں تک کہ جب ایک ہفت روزہ اخبار ( شاید فراست المومنین)  نے اس غیر معمولی کامیابی پر تفصیلی مضمون شائع کیا تو بطورِ استاد ان ہی کا نام درج کروایا۔ مغرب کے بعد چوں کہ ان کے معمولات میں ذکر و اذکار ، اوابین اور پھر مطالعہ کتب شامل تھا؛ اس لیے بچے کو سبق یاد کرنے کے لیے مدرسے کے ایک ہر دل عزیز استاذ قاری منظر صاحب کی نگرانی میں بیٹھا دیتے، لہذا اس تقریب میں ان کی خدمات کا اعتراف و اکرام بھی کیا گیا۔ یہ انداز اس بات کی علامت تھا کہ وہ روشنی بانٹنے کے قائل تھے، سمیٹنے کے نہیں۔

اس عمر میں ان کے اس عمل اور رویے کی وجہ سمجھ میں نہیں آسکی مگر اب غور کرنے سے ان کے اس رویے کی تہہ میں کئی پہلو جھلکتے ہیں۔ ایک طرف یہ ان کی علمی دیانت اور انا سے بے نیازی کا ثبوت تھا کہ جہاں حقِ نسبت دوسرے کا بنتا تھا وہاں انہوں نے بلا جھجک اسے تسلیم کیا۔ وہ چاہتے تو ابتدا سے انتہا تک اس پورے سفر کو اپنی طرف منسوب رکھ سکتے تھے، اور یہ دعویٰ غلط بھی نہ ہوتا، مگر انہوں نے جان بوجھ کر اپنے حصے کو پس منظر میں رکھا تاکہ حق اپنے مقام پر رہے۔ دوسری طرف یہ فن کی توقیر اور تخصص کا احترام بھی تھا کہ وہ ہر مرحلے پر اس بچے کو اسی ہاتھ میں دیتے رہے جو اس فن میں زیادہ ماہر تھا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ "سب کچھ خود کرنے" کے قائل نہیں تھے؛ بلکہ ان کے نزدیک تربیت کا حسن یہ تھا کہ بچہ مختلف اسالیب، مزاجوں اور تربیتی زاویوں سے فیض یاب ہو۔

حفظ کی تکمیل کے بعد، اگر چاہتے تو فوراً عربی تعلیم کا آغاز کروا سکتے تھے۔ ذہانت، حافظہ اور شوق کے اعتبار سے اس میں کوئی ظاہری رکاوٹ بھی نہ تھی۔ مگر مولانا عزیز الرحمن قاسمی کو تعلیمی نفسیات کا وہ فطری ادراک حاصل تھا جو ہر استاد کے حصے میں نہیں آتا۔ ان کے نزدیک ہر عمر کی اپنی ضرورتیں اور اپنی غذائیں ہوتی ہیں۔ اس لیے انہوں نے جلد بازی کے بجائے توقف کو ترجیح دی، اور عربی کی کتابیں کھولنے کے بجائے دو برس تک "دورِ قرآن" کو اس بچے کا اوڑھنا بچھونا بنا دیا۔

یہ محض قرآن سنانے یا تلاوت کی مشق کا زمانہ نہ تھا۔ انہی دنوں وہ سورتوں کے پس منظر بیان کرتے، انبیائے کرام کے واقعات سناتے، آیات کے اندر پوشیدہ وہ بنیادی پیغامات سمجھاتے جو ایک بچے کا ذہن قبول کر سکتا تھا۔ کبھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر چھیڑ دیتے، کبھی ناشکری کے انجام کی بات کرتے، کبھی کسی نبی کی استقامت کو قصے کی صورت میں سناتے، کبھی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کرتے اور کبھی جہنم کی وعید سے اتنا ہی متعارف کراتے جتنا خوف کے بجائے ذمہ داری پیدا کر سکے۔ یہ نہ باقاعدہ درسِ تفسیر تھا، نہ علمی موشگافیوں کی مجلس؛ بلکہ قرآن کے ساتھ ابتدائی شناسائی کی ایک دل نشین صورت تھی، جس میں معانی کو عمر کے پیمانے سے ناپ کر پیش کیا جاتا تھا۔

اس وقت شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ یہ بظاہر معمولی سی گفتگوئیں شعور کی تہوں میں کہاں جا کر محفوظ ہو رہی ہیں۔ مگر برسوں بعد، جب عربی تعلیم کے مراحل طے ہوتے ہوئے تفاسیر کی کتابیں سامنے آئیں، مفسرین کی آرا پڑھنے کا موقع ملا اور آیات کے شانِ نزول و مضامین زیرِ بحث آنے لگے، تو بارہا ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی۔ دل بے اختیار کہہ اٹھتا: ارے! یہ واقعہ تو کہیں سنا ہوا ہے... یہ بات تو پہلے سے معلوم ہے... اس مقام پر تو فلاں پہلو بھی ہونا چاہیے تھا...۔ اور پھر ایک انجانی سی خوشی پورے وجود میں پھیل جاتی؛ جیسے زمانے کی گرد میں کھوئی ہوئی کوئی مانوس آواز اچانک پھر سنائی دے گئی ہو، یا بچپن کی کسی صبح میں سنا ہوا سبق برسوں بعد ایک نئے معنی کے ساتھ واپس آ گیا ہو۔

تب سمجھ میں آیا کہ مولانا عزیز الرحمن قاسمی ان دو برسوں میں دراصل قرآن کی تفسیر نہیں پڑھا رہے تھے؛ وہ ایک بچے کے دل میں تفہیمِ قرآن کا ذوق بو رہے تھے۔ وہ ذوق، جو علم کے سفر میں آگے بڑھتے ہوئے بار بار ہاتھ پکڑتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ قرآن صرف پڑھنے اور یاد رکھنے کی کتاب نہیں، بلکہ ہر عمر میں نئے سرے سے دریافت کیے جانے والا ایک زندہ مکالمہ بھی ہے۔

مطالعے کا ذوق بھی ان ہی دنوں خاموشی سے وجود میں آیا۔ ابتدا میں اردو کی درسی کتابیں ہی پوری کائنات معلوم ہوتی تھیں، مگر ان کا تصورِ تعلیم نصابی حدود میں قید نہ تھا۔ ان کے سرہانے ہمیشہ چند کتابیں رکھی رہتیں۔ وہی اس بچے کا پہلا کتب خانہ تھا۔ کبھی "تذکرۃ النعمان" ہاتھ میں آجاتی، کبھی "حیاتِ صدیق" کے اوراق پلٹنے لگتے، کبھی "ارواحِ طیبہ" کے واقعات دل میں اترتے۔ دوسری طرف "پیامِ تعلیم" اور "ہلال" جیسے رسائل باقاعدگی سے سامنے رکھ دیے جاتے۔ ابتدا میں یہ  محض تفریح محسوس ہوئی، پھر آگے چل کر عادت بنی، عادت چسکے میں بدلی، اور چسکہ آہستہ آہستہ جنون کا روپ دھارتا چلا گیا۔ شاید مولانا جانتے تھے کہ کتاب سے دوستی کرنے والا بچہ تنہائیوں سے نہیں ہارتا، اور جس کے ہاتھ میں کتاب آجائے، دنیا اسے کبھی مکمل طور پر یتیم نہیں چھوڑتی۔

تربیت کے اس روشن باب کے پس منظر میں ایک ایسی آزمائش بھی تھی جس کا ذکر کیے بغیر اس شفقت کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ بچپن سے ایک بیماری ساتھ لگی ہوئی تھی۔ عمر گزرنے کے باوجود رات میں بستر پر پیشاب ہو جاتا۔ پہلے اسے کم سنی کی عادت سمجھا گیا، پھر جسمانی علاج ہوئے، روحانی تدبیریں اختیار کی گئیں، تعویذ، دعائیں، احتیاطیں... مگر سلسلہ پوری طرح ختم نہ ہوا، اگرچہ بتدریج کم ضرور ہو گیا۔ ایسے میں اکثر گھر والے جھنجھلا جاتے ہیں، ڈانٹ دیتے ہیں، شرمندہ کرتے ہیں، مگر مولانا عزیز الرحمن قاسمی نے اسے آزمائش سمجھ کر قبول کیا۔ سونے سے پہلے پابندی سے پیشاب کروانا، رات کے کسی پہر اٹھا کر دوبارہ بیت الخلا لے جانا، اور اگر اس کے باوجود بستر گیلا ہو جاتا تو جاڑے کی ٹھٹھرتی ہوئی صبحوں میں بھی اپنے ہاتھوں سے بستر دھونا، بچے کو غسل کروانا، کپڑے بدلوانا اور اس کے چہرے پر شرمندگی کی ایک لکیر تک نہ آنے دینا۔ سچ ہے انسان کی عظمت پوشاک ، عہدہ، دولت اور ڈگریوں میں نہیں، ان کاموں میں ظاہر ہوتی ہے جنہیں دنیا معمولی اور گھریلو سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہے۔

اور شاید ان کی تربیت کا سب سے دل نشین پہلو وہ مختصر سی مجلس تھی جو اکثر رات سونے سے پہلے سجتی۔ جب چراغ مدھم کردیے جاتے، دنیا کی آوازیں دھیرے دھیرے خاموش ہوجاتیں۔ تب دن بھر کی تھکن کے بعد وہ بچے کو اپنے ساتھ لٹاتے اور پوچھتے: "آج کیا سیکھا؟ کیا یاد کیا؟ کس غلطی پر نادم ہو؟ کس بات پر خوشی محسوس ہوئی؟ کس بات کا افسوس ہے؟" پھر مستقبل کی بات ہوتی، ذمہ داریوں کا ذکر آتا، سچ بولنے کی تلقین، نعمتوں پر شکر، خطاؤں پر اعتراف اور آئندہ کے لیے بہتر عزم۔ یوں ایک چھوٹے سے بستر پر بیٹھ کر ایک بچے کو محض سبق یاد نہیں کروایا جا رہا تھا؛ اس کے اندر ایک ایسا ضمیر بیدار کیا جا رہا تھا جو خود اپنا محاسبہ کرنا سیکھ لے۔ شاید انہیں معلوم تھا کہ حافظ بنانا نسبتاً آسان ہے، مگر انسان بنانا عمر بھر کی ریاضت مانگتا ہے۔ اور وہ اسی ریاضت میں مصروف تھے۔ اور اسی ریاضت کے اگلے مرحلے میں وہ دروازہ بھی کھلنے والا تھا جہاں سے فارسی و عربی کی تعلیم اس بچے کے ذہن میں ان کے خاص اسلوب، مجتہدانہ مزاج اور انوکھے تعلیمی تجربے کے ساتھ داخل ہونے والی تھی؛ وہ اسلوب جس کے بارے میں آج یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ان کے اندر عاجزی، سادگی اور خود فراموشی کا مزاج نہ ہوتا تو وہ فنِ تعلیم میں ایک مستقل مکتبِ فکر بن جاتے۔

(1) یہ طریقہ انہوں نے دار العلوم دیوبند کے کسی استاذ سے سیکھا ہو ، ابھی چند ہفتے قبل چھوٹے ماموں شکیل الرحمٰن انجم صاحب نے بتایا کہ انہوں نے بھی ناظرہ قرآن پڑھے بغیر چار پانچ  سال کی عمر میں چند پارے حفظ کیے تھے ، ماموں جان مولانا عزیز الرحمن قاسمی رح 1960 کے آس پاس جب دار العلوم دیوبند میں درجات علیا میں تھے تو  تین چار سالہ اپنے چھوٹے بھائی شکیل الرحمٰن انجم کو بھی دیوبند لے گئے تھے ۔ ( عماد قاسمی )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے