Ticker

6/recent/ticker-posts

یوپی کے مسلمان اپنے حالات دیکھ کر خود فیصلہ کریں اویسی اور ان کے مریدوں کی نہ مانیں

یوپی کے مسلمان اپنے حالات دیکھ کر خود فیصلہ کریں اویسی اور ان کے مریدوں کی نہ مانیں


عماد عاقب مظفر پوری
19/6/2026

مجلس والے خود کو بی ٹیم کہ کر اپنی عزت خود خراب کرتے ہیں ۔

کیا مجلس والے ایک لسٹ بناسکتے ہیں کہ کب کس سیکولر لیڈر نے مجلس کو بی ٹیم کہا، جب باطل مضبوط ہوتا ہے تو ہر زمانے میں اچھوں کی جماعت میں کچھ ڈرپوک اور لالچی ہوتے ہیں۔ ابھی تو خود اسد الدین اویسی صاحب پر یوسف پٹھان کو ڈرانے کا الزام لگ رہا ہے، اویسی صاحب کو صاف صاف بتانا چاہیے کہ روح اللہ اور مہوا مترا کے الزامات غلط ہیں۔

مجلس کو انڈیا اتحاد میں جانے کی جلدی کیوں ہے، ؟ کسی بھی پارٹی سے اتحاد ضرورت اور طاقت کی بنیاد پر ہوتا ہے، مجلس پہلے بھی کانگریس کے ساتھ رہ چکی ہے، اور ہوسکتا ہے کہ آئندہ بھی کانگریس کی اتحادی بن جائے، مگر فی الحال مجلس میں اتنے بدتمیز اور بڑبولے ہیں کہ کوئی بھی پارٹی مجلس سے اتحاد کرنے میں سوبار سوچے گی۔

ہمیں شکایت اس بات کی ہے کہ اویسی صاحب تلنگانہ میں 2009 سے اپنے سات ممبران اسمبلی ہوتے ہوئے بھی 2018 میں صرف 8 اور 2023 میں صرف 9 امیدوار اتارتے ہیں جب کہ اتر پردیش میں ان کا کوئی ممبر اسمبلی نہیں ہے اور نہ ماضی میں رہا ہے پھر بھی 2027 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں 200 امیدوار اتارے جانے کی بات مجلس والے کر رہے ہیں، 2017 میں 38 اور 2022 میں 94 امیدوار اتارے تھے مگر ایک امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا تھا۔

مجلس کو اتر پردیش میں صرف ان نشستوں پر امیدوار اتارنے چاہییں جہاں وہ 2022 میں دوسرے نمبر پر تھی یا جہاں 25000 ووٹ ملے تھے۔

یوپی میں بی جے پی کمزور یا مضبوط، اس سے اویسی صاحب کو کوئی فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ ان کا گھر اور کاروبار حیدرآباد میں ہے اور حیدرآباد میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اور نہ وہ اپوزیشن پارٹی ہے۔

مگر اگر یوپی میں سہ بارہ یوگی آگیا تو وہ پہلے سے زیادہ مسلمانوں پر ظلم ڈھائے گا، مساجد شہید کرے گا، اس لیے یوپی کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اویسی کی باتوں میں نہ آئیں اور اپنے حالات دیکھ کر فیصلہ کریں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے