Ticker

6/recent/ticker-posts

عمرِ رفتہ کی کوئی ایک نشانی دیتے : غزل

عمرِ رفتہ کی کوئی ایک نشانی دیتے : غزل


غزل

عمرِ رفتہ کی کوئی ایک نشانی دیتے
مجھ کو بچپن نہ سہی میری جوانی دیتے

پیڑ جو ہم نے لگایا تھا کبھی آنگن میں
خشک ہوتا نہ اگر پیار کا پانی دیتے

ایک مدت سے بسا تھا جو مری آنکھوں میں
چھو کے اُس خواب کو تعبیر سہانی دیتے

قتل کرکے بھی ہمیں ان کو تسلی نہ ہوئی
زخم پھر کوئی نیا دشمنِ جانی دیتے

کوئی دریا ہے جو موجود ہے میرے اندر
تم سمندر تھے، اُسے اِذنِ روانی دیتے

دل عزادارِ ازل ہے سو تقاضا تھا یہی
پھر غمِ شہ میں اسے اشک فشانی دیتے

زندگی خانہ بدوشی میں گزاری منصورؔ
کیسے آوارہ مزاجی کو معانی دیتے

منصور نقوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے