جو بھی سہہ سکتے ہو تُم، عشق میں سہتے ہو گے : تازہ غزل
تازہ غزل
مقصود جعفری
جو بھی سہہ سکتے ہو تُم، عشق میں سہتے ہو گے
کُنجِ غم خانۂ احساس میں رہتے ہو گے
ایسے کہنے کو میں کہنا تو نہیں کہہ سکتا
تُم جو کہتے ہو، تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہو گے
دل تو بہہ جاتا ہے اس سیلِ بلا میں اب بھی
تُم بھی اِس سیلِ بلا خیز میں بہتے ہو گے
بعد مدّت کے ہوا مجھ پہ نزولِ اشعار
غمِ اشعار مرا تُم بھی تو سہتے ہو گے
جعفری ! ہے یہ خموشی بھی تو اِک طرزِ فغاں
کہنے والوں سے کوئی بات تو کہتے ہو گے
۸ جون ۲۰۲۶
اسلام آباد
0 تبصرے