محاورہ آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا
مایوسی کفر ہے
ضلع ویشالی کے ایک گاؤں میں امین نام کا ایک محنتی نوجوان رہتا تھا۔ اس کے والد کسان تھے اور بڑی محنت سے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ امین نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی بہت کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی۔ آخرکار اسے ایک نجی کمپنی میں معمولی تنخواہ پر ملازمت مل گئی۔ اس نے سوچا کہ اب اس کی پریشانیاں ختم ہوجائیں گی اور گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔
چند ہی مہینے گزرے تھے کہ کمپنی کو شدید مالی نقصان ہوا اور اچانک اسے بند کردیا گیا۔ تمام ملازمین بے روزگار ہوگئے۔ امین کو بہت صدمہ پہنچا، کیونکہ اس کی واحد آمدنی کا ذریعہ ختم ہوگیا تھا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے ایک دوست کے مشورے پر قرض لے کر کپڑوں کی چھوٹی سی دکان کھول لی۔
شروع کے چند دن کاروبار اچھا چلا۔ گاہک بھی آنے لگے اور امین کو امید بندھ گئی کہ اب حالات سنبھل جائیں گے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک رات بازار میں اچانک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگ گئی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں امین کی دکان بھی شامل تھی۔ اس کا سارا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔ قرض اپنی جگہ باقی تھا اور سرمایہ بھی ختم ہوگیا۔
مایوس ہو کر اس نے ایک رشتہ دار سے مدد مانگی۔ رشتہ دار نے اسے اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرلیا۔ امین نے پوری دیانت داری سے کام کیا، مگر چند مہینوں بعد معلوم ہوا کہ اس کا شریک دھوکے باز ہے۔ اس نے تمام رقم لے کر فرار ہونے کی کوشش کی اور نقصان کا بوجھ امین پر ڈال دیا۔ اب اس کے سر پر قرض بھی تھا، دکان بھی ختم ہوچکی تھی اور شریک کی دھوکے بازی نے اسے مزید مشکلات میں ڈال دیا۔
ایک دن وہ گاؤں کی مسجد کے صحن میں بیٹھا اپنی قسمت پر غور کر رہا تھا۔ گاؤں کے ایک بزرگ وہاں آئے اور اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی۔ امین نے شروع سے آخر تک اپنی تمام داستان سنادی۔ بزرگ نے شفقت سے کہا:
"بیٹا! زندگی میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ ایک مشکل سے نکلتے ہوئے کبھی انسان دوسری مشکل میں بھی پھنس جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہمارے بزرگ ایک محاورہ بولتے ہیں: 'آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا۔' مگر یاد رکھو، مایوسی مؤمن کا شیوہ نہیں۔ صبر، محنت اور اللہ پر بھروسا رکھنے والا آخرکار کامیاب ہوتا ہے۔"
بزرگ کی نصیحت نے امین کے دل میں نئی امید پیدا کردی۔ اس نے دوبارہ محنت شروع کی، قرض آہستہ آہستہ ادا کیا اور کئی سال کی مسلسل کوشش کے بعد ایک کامیاب تاجر بن گیا۔ اس نے اپنی زندگی سے یہ سبق سیکھا کہ مشکلات خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، صبر، ہمت اور مسلسل جد و جہد انسان کو منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
نصیحت
"آسمان سے گرا، کھجور میں اٹکا" اس حالت کو کہتے ہیں جب کوئی شخص ایک مصیبت سے نکلنے کی کوشش میں دوسری، اور کبھی اس سے بھی بڑی، مصیبت میں گرفتار ہوجائے۔ اس کہانی میں امین پہلے ملازمت سے محروم ہوا، پھر کاروبار میں نقصان اٹھایا، اور اس کے بعد شریک کے دھوکے کا شکار ہوگیا۔ اس لیے یہ محاورہ اس کی حالت پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ ساتھ ہی کہانی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھنا چاہیے، کیونکہ مسلسل محنت کے بعد کامیابی ضرور ملتی ہے۔
0 تبصرے