Ticker

6/recent/ticker-posts

بلتستان کے حسن میں پڑے داغ - Baltistan Ke Husn Mein Daag

بلتستان کے حسن میں پڑے داغ

صنف : کالم نگاری
 عنوان : بلتستان کے حسن میں پڑے داغ

از قلم: آمینہ یونس، بلتستانی

گلگت بلتستان جہاں ایک پُرامن خطہ ہے، وہیں قدرتی حسن اور قدرتی معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کی معیشت کو سیاحت کے ذریعے مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور ننگا پربت ہے، جہاں آنے والے غیر ملکی سیاح ہزاروں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ دوسری طرف گزشتہ کئی برسوں سے گلگت بلتستان میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر جس طرح چاند بے حد حسین ہونے کے باوجود اپنے داغ کی وجہ سے مکمل نہیں لگتا، اسی طرح بلتستان کے حسن پر بھی کچھ ایسے داغ ہیں جو اس کی خوبصورتی کو گہنا دیتے ہیں۔ بلتستان کے حسن سے پاکستان اور قومی ایئرلائنز بھرپور مالی فائدہ اٹھا رہی ہیں ۔مگر اس فائدے کا ایک فیصد بھی خود حسن کی ملکہ بلتستان کو نہیں پہنچتا۔ آخر کیوں؟ ذرا آج کل کی صورتِ حال ہی دیکھ لیجیے۔ اسلام آباد سے سکردو کا صرف پینتالیس منٹ کا فضائی سفر ہے مگر آج کل ایک طرفہ ہوائی جہاز کا کرایہ چالیس سے پچاس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ بلتستان کے عوام کی اکثریت اتنی مالی استطاعت نہیں رکھتی کہ وہ اتنا مہنگا کرایہ ادا کر کے ہوائی سفر کر سکے۔ پچاس ہزار روپے میں ایک غریب خاندان کئی ماہ تک اپنے گھر کے اخراجات پورے کر سکتا ہے۔ کیا بلتستان والے انسان نہیں؟ کیا ان کی خواہش نہیں کہ وہ بھی قراقرم کی خطرناک شاہراہ، جہاں آئے روز پہاڑی تودے گرتے ہیں اور قیمتی جانیں نگل جاتے ہیں، کے بجائے ہوائی جہاز میں سفر کر کے اپنی جان محفوظ رکھ سکیں؟ مگر مجبوری یہ ہے کہ بلتستان کے عوام کے لیے ہوائی سفر اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ انہی لوگوں کی سرزمین کو استعمال کر کے دوسرے لوگ کروڑوں روپے کمائیں، مگر وہی لوگ، جن کی زمین سونا اگلتی ہے، صرف اس سونے کی چمک دیکھنے تک محدود رہ جائیں۔ آخر یہ کیسا انصاف اور کیسا قانون ہے؟ کیوں وہی لوگ محرومی محروم رہ جاتے ہیں جو اس دھرتی کے اصل وارث ہیں؟ کیا ان کا حق صرف خواب دیکھنا یا آسمان پر اڑتے سفید جہازوں کو حسرت سے تکتے رہنا ہے؟ افسوس کہ اس ناانصافی پر نہ بلتستان کے عوام پوری طرح بیدار ہوئے ہیں اور نہ ہی حکومتِ وقت کو ان پر ترس آتا ہے۔ بقولِ شاعر:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ محمد اقبال

اس کے علاوہ بھی بلتستان کو بے شمار ایسے مسائل درپیش ہیں جو فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ اس وقت بلتستان کا صدر مقام سکردو سیاحوں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے دیوسائی، شنگریلا، کھرمنگ ،شگر اور خپلو جیسے خوبصورت مقامات کا سفر کیا جاتا ہے۔ مگر سکردو شہر کا سب سے بڑا مسئلہ پانی اور بجلی کی قلت ہے۔ گرمیوں میں تو بجلی کبھی کبھار اپنا دیدار کرا دیتی ہے، مگر سردیوں میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہاں اندھیرا ہی مقدر بن گیا ہو۔ دوسری طرف تعلیمی اداروں، کالجوں اور یونیورسٹی کی وجہ سے سکردو کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگر اسی رفتار سے پانی اور بجلی کی قلت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ افسوس کہ ان مسائل کے سدباب کے لیے متعلقہ ادارے کہیں فعال نظر نہیں آتے۔ نہ کوئی منصوبہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی کوئی پرسانِ حال۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر بلتستان پاکستان کی سیاحت کا روشن چہرہ ہے تو پھر گلگت بلتستان کے عوام بنیادی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟ اگر اس سرزمین سے اربوں روپے کمائے جا سکتے ہیں تو اس کے باسیوں کو ان کا بنیادی حق کب ملے گا؟ جب تک ان سوالوں کا جواب نہیں ملتا، تب تک بلتستان کے حسن پر پڑے یہ داغ مٹ نہیں سکتے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے