حمد پاک
ہر دل میں محبت کی تو شمعوں کو جلا دے
نفرت کے اندھیروں کو جہاں سے ہی مٹا دے
خالق ہے جہاں کا تو ہیں محتاج ترے سب
روتوں کو ہنسا دے تو ہی انساں کو شفا دے
یہ بادِ مخالف ہے سفینے کی ہی دشمن
اللہ مری کشتی کو کنارے پہ لگا دے
شاداب ۓ گلشن کو بھی دیکھا ہے خزاں میں
صحرا کی زمینوں میں تو پھولوں کو کھلا دے
بھٹکے ہیں خرد والے نا فرمان ہیں تیرے
بے علم پرندے تو ہواؤں میں اڑا دے
کر دے تو کرم اپنا ہیں تیرے ہی تو بندے
اس آج کے انساں کو تباہی سے بچا دے
چشموں میں ثنا ہے کہیں صحرا میں ہے ظاہر
اسلام کے دل کو بھی تو ایسا ہی بنا دے
اسلام شکارپوری
شکارپور انڈیا
0 تبصرے