حضرتِ امیر معاویہ اور یزید پلید
قسط اول ۔۔
حضرتِ امیر معاویہ اور یزید پلید
1. اہلِ سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرتِ امیر معاویہ صحابی رسول اور کاتبِ وحی ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ہادی اور مہدی جیسی دعاؤں سے نوازا۔
2.مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا: لوگو ! امیر معاویہ کی حکومت کو برا نہ سمجھو کیونکہ جب یہ تمہارے سروں سے اٹھ جائیں گے تو تم دیکھو گے کتنے سر جسموں سے جدا کیئے جاتے ہیں۔
3.امام ابنِ ابی دنیا اور امام ابو بکر بن عاصم نے حضرتِ امیر معاویہ کے حِلم پر ایک مکمل کتاب تصنیف فرمائی ہے۔
4.امام بخاری کے استاد امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے ایک حدیث پاک تحریر فرمائی کہ حضرتِ امیر معاویہ نے فرمایا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے معاویہ ! جب تو بادشاہ بنے گا تو لوگوں سے اچھا سلوک کرنا اس وقت سے میرے دل کے اندر بادشاہ بننے کی خواہش پیدا ہوتی رہی۔۔۔
20 سال تک ملکِ شام کے گورنر رہے پھر 20 سال بعد ان کو حاکم بنایا گیا اور یوں 40 سالہ ان کا دورِ حکومت ہے۔
5.صحابہ کرام کے بارے میں جتنے فضائل و کمالات قرآن و حدیث میں وارد ہوئے بالعموم اس میں آپ بھی شامل ہیں۔
6. آپ نے 163 احادیث حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنی اور امام بخاری اور ان جیسے بڑے بڑے محدثین کرام نے ان احادیث کو امت تک پہنچایا۔
7. 14 صدیاں گزرنے کے باوجود کسی بھی مُحقق، مُدقق،مُحدث نے آپ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی نہیں کی اور کر بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ آپ صحابی رسول ہیں اور صحابہ کرام کے بارے میں پوری اُمتِ مُسلمہ کا اجماعی فیصلہ یہی ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل تھے، حضور کی تربیت یافتہ تھے اور قیامت کے دن اللہ رب العزت ان کی بے حساب مغفرت فرما دے گا ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی رضا کی خوشخبریاں قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔۔۔
0 تبصرے