لا تقنطوا
شفاءزینب بنت ڈاکٹر عدیل ارشد خان
رات کی تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ ماحول پر موت کا سا سکوت طاری تھا۔ کبھی کبھی کسی کتے کے بھونکنے کی آواز اس خاموشی کو چیر دیتی۔ تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں محوِ استراحت تھے، بس ایک وہ تھی جو کھڑکی سے باہر تاریکی میں تکتے ہوئے نہ جانے کیا ڈھونڈنے کی سعی کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ویران تھیں، جیسے ان میں صدیوں کی تھکن منجمد ہو۔ چند ٹوٹے بکھرے خوابوں کی کرچیوں کی چبھن اس کے چہرے پر واضح تھی۔ تمام جسم جیسے جادوئی سوئیوں کے زیرِ اثر کسی مسیحا کا منتظر تھا، جو انہیں نکال کر اسے زندگی کی نوید سنا دے۔
اچانک اس کی نظریں تاریکی میں ایک سمت مرتکز ہو گئیں۔ وہاں روشنی کی ایک ننھی سی رمق نظر آرہی تھی۔ اس نے غور کیا تو ایک ننھا سا جگنو اندھیرے کو ختم کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ ٹھیک اسی وقت کہیں دور آسمان سے ایک تارا ٹوٹتا ہوا دکھائی دیا، جیسے اس تارے نے خود کو فنا کر کے اندھیری رات کو منور کرنے کی کوشش کی ہو۔
نہ جانے کہاں سے اس کی ویران، بنجر آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر اس کے گال پر پھسل آیا۔ وہ آنسو نہیں بلکہ جادوئی جمود کے پگھلنے کا آغاز تھا۔ بہت پہلے کا پڑھا گیا رومی کا ایک قول اس کے ذہن کے بند دریچوں پر دستک دے گیا: *"زخم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی آپ کے اندر داخل ہوتی ہے"*۔ اس نے محسوس کیا کہ جیسے وہ بند گلی سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لے رہی ہو۔ یہ مصائب دراصل روح کے دریچے ہیں جہاں سے رحمتیں داخل ہو کر روح کو ارتقا کے مراحل سے گزارتی ہیں۔
اب اس کے بدن میں پیوست اداسی کی وہ زہریلی سوئیاں بھی اسے خود نکالنی تھیں کیونکہ، "اس کی کہانی کا مسیحا وہ خود تھی"۔
اس نے کسی کا انتظار کیے بغیر خود آگے بڑھ کر کھڑکی کے دونوں پٹ پوری طاقت سے کھول دیے۔ افق کے پار اجالا اندھیرے پر حاوی ہونے لگا تھا؛ زندگی نے آخر کار اپنی رمق پا لی تھی.........
شفاء زینب بنت عدیل ارشد خان
کھام گاؤں ۔۔۔۔انڈیا
0 تبصرے