ابن صفی کی کردار نگاری
کلاسیکل اردو ادب میں ”طلسم ہوشربا“ میں عمر عیار، افراسیاب، سب رس میں، عقل، دل، عشق وغیرہ، مثنوی گل بکاؤلی میں تاج الملک اور دیگر کردار، چچا چھکن، سرشار کے کردار آزاد اور خوجی، ایک زمانے تک قارئین کرام کے ذہنوں پر نقش رہے۔ ان کرداروں میں بیشتر دیو مالائی۔ اساطیری داستانوں سے مربوط فوق البشر، تخیلی و تصوراتی کردار جن کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مین یا اسپائیڈر مین کی طرز کے ہیری پوٹر سیریز بھی اسی نوعیت کی ہے ۔ہاں ۔۔شیخ چلی اور ملا نصیر الدین بھی اسی قبیل میں ہیں ۔۔داستانوں اور داستان کوؤں نے حد کردی۔ پھر کوہ قاف کی پریوں نے سبز، لال اور نیلم و دیگر رنگ بکھیر دیے۔
فیروز پوری نے کچھ حقیقت نگاری سے کام لیا ۔۔اور پھر آرتھر کانن ڈائل کے شرلاک ہومز کا جادو چلا۔ ان سب سے ہٹ کر ابن صفی نے کردار نگاری کو بام عروج تک پہنچا دیا ۔۔اور وہ اس طرح کہ یہ کالپنک کردار ہوتے ہوئے بھی زندگی سے قریب تر رہے ۔۔تخیلاتی ہوتے ہوئے بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے آس پاس بکھرے ہوئے ہیں ۔۔تصوراتی ہوتے ہوئے بھی زندہ و جاوید ہیں ۔۔اور اس عالم فانی میں ۔۔لافانی ہیں ۔۔جب تک اردو زبان زندہ رہے گی ابن صفی کے کردار امر رہیں گےفریدی کے کردار کو لے لیجیے ۔۔فادر ہارڈ اسٹون جو ذہانت و طاقت کا مجسمہ ہے ۔۔جس کے شوق بھی عجیب ہیں ۔۔سانپوں کو پالنا ،کتوں سے عشق ۔۔کتابوں کا کیڑا ۔تمام علوم کو گھول کر پی گیا ۔۔جسے نسخۂ کیمیا معلوم ،سانپوں کی اقسام اور ان کے زہر سے آشنا ،جڑی بوٹیوں سے باخبر ۔۔آمیزن کے جنگلات اور جغرافیائی حالات سے باخبر ۔۔وہ کبھی برفیلی وادیوں میں نظر آتا ہے تو کبھی صحراؤں کی خاک چھانتا ہے تو کبھی جنگلوں میں درختوں کی شاخوں کو کاٹ کر راستہ بناتا ہے ۔۔غاروں میں رہ کر پیال کے بستر پر شب گزارتا ہے تو وقت پڑنے پر مشاق گڈریا بن جاتا ہے ۔ مگر کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ اس زمین سے جڑا ہوا نہیں ہے ۔۔وہ جرم سے نفرت کرتا ہے مگر مجرم سے نہیں ۔۔قانون کا احترام اور فسطائی طاقتوں ،سامراجیت سے نفرت ۔۔ایک نوید سناتا ہے کہ ایشیا و افریقہ خواب خرگوش سے جاگیں گے
حمید ڈاکٹر زیٹو اپنی الگ دنیا بسائے ہوئے ہے ۔۔فریدی سے مرعوب ۔۔قاسم سے دل لگی کر ۔۔چپاتی بیگم ودیگر سے چھڑخانی کر ہنسی کے فوارے چھوڑتا ہے ۔۔مجال کہ ادب سے گری ہوئی حرکت یا اوچھے مذاق سے دلبستگی کا سامان کرتا ہو !!یہی ابن صفی کے قلم کا اعجاز ہے کہ وہ کھلنڈرے ،عاشق مزاج حمید کو اپنے حدود میں رکھتا ہے۔
اب آئیے آفاقی کردار عمران کی طرف ۔۔جو حمایت و ذہانت کا مرقع ہے ۔۔بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اور معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔۔وہ جوزف جیسے بلا نوش کو بھی قابو میں کرتا ہے توسلیمان جیسے ملازم کو منہ چڑھا رکھا ہے ۔۔ساتھ ہی گلرخ بھی ۔۔صفدر اور بلیک زیرو کے ساتھ ایکسٹو کی ٹیم ۔۔عجیب مخمصے میں گرفتار ۔۔گومگو کی کیفیت لیے کہ ایکسٹو کون ؟۔۔قاری سمجھتے ہیں مگر جولیا وغیرہ اندازہ قائم کرتے ہیں کہ عمران ہے مگر عمران صفائی سے ان کی خوش فہمی دور کردیتا ہے ۔۔۔وااہ ابن صفی آپ کے قلم کو سلام کہ کیا قلمی فضا بکھیری ہے !!!۔۔عمران اپنا الو سیدھا کرنے میں ماہر ۔۔کام ہونے کے بعد پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا ۔۔انجان بن جاتا ہے ۔۔جولیا ،تھریسیا ،روشی سب اس کے سحر میں گرفتار مگر کسی کو گھاس نہیں ڈالتا ۔۔سوپر فیاض سے تعلقات اور اپنے والد رحمان صاحب سے روابط کو ابن صفی نے منفرد انداز میں پیش کیا ہے ۔۔کوڈ ورڈس کا بادشاہ ۔۔فے گراف اور جدید ٹیکنالوجی کا ماہر ۔۔حماقت سے ذہانت کے موتی چرانے والا ،ماہر نفسیات عمران کے کردار میں قاری الگ جہانوں کر سیر کرتا ۔۔گویا دنیا و مافیہا سے بے خبر ۔۔اور وہ دنیا تکیوں کے نیچے رکھی ہوتی ہے ۔۔کسی الماری میں بند دیمک کی نذر نہیں ہوتی ۔۔لائبریریوں میں اس کا دم نہیں گھٹا ۔۔اور یہ کردار قاری کو بار بار پڑھنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ۔۔تھکے تھکے بوجھل لمحوں کے لیے اکسیر۔
ابن صفی کی تحریر
ابن صفی کے قلم کا اعجاز ہے کہ انھوں نے جو بھی کردار صفحہ قرطاس پر بکھیرا جاوداں ہوگیا ۔کمال یہ کہ ایک کردار کی عادتیں ،جبلتیں، خصائل ۔۔فریدی ،عمران وغیرہم کے علاوہ منفی کردار بھی اگر مختلف ناولوں میں نظر آتے ہیں تو اسی حشر سامانیوں کے ساتھ ۔۔اسی انداز میں ۔۔مجال کہ سربمو جھول آجائے ۔۔تھریسیا بمبل ۔۔عمران کے ساتھ شکرال کے سفر میں ۔۔اور دیگر ناولوں میں ۔۔مخصوص فن کے ساتھ کہ پیروں میں پلا۔۔چاؤں چاؤں کررہا ہے ۔۔دشمن کی لمحہ بھر کی حیرت سے بازی پلٹ دینے والا حربہ ۔۔ابن صفی کی جدت طرازی کی تمثیل ۔۔۔سنگ ہی جیسے گرد میں اٹے۔۔زرد دنداں ،پچکے گال ،دراز قد۔۔طاقتور چینی بازار حسن کی سیر۔۔بھی کرتا ہے اور اس سے پٹتا بھی ہے ۔۔یہ دراصل ہر کردار کی ہمہ جہتی کو درشاتا ہے کہ
ہر آدمی میں رہتے ہیں دس بیس آدمی
جیرالڈ شاستری ۔۔انگریز کے ساتھ ۔۔شاستری ؟۔۔ہے نا عجیب ۔۔مگر ابن صفی کے قلم نے انگریز بھی جیوتش بنادیا ۔۔اوہام پرستی پر بھی یہاں ابن صفی کا نشتر چلتا۔
جیرالڈ شاستری ایسا کردار ۔۔۔جو کانوں سے چپکی ہوئی پگڑی پہنتا ہے ۔۔۔عجیب سی آنکھیں ۔۔کیا کردار وضع کیا ہے ابن صفی صاحب نے ۔۔موت کی چٹان و لاشوں کا آبشار ناول ذہن پر نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔۔ٹی اے جھوس ۔۔۔منحنی سا۔۔چارلی چپلن ٹائپ۔
دولت کی ہوس۔۔خود سے بےگآنہ۔۔ایسے بیسیوں کردار ہمارے اطراف میں بکھرے ہوئے ہیں جنھیں ابن صفی کے قلم نے احاطہ تحریر میں لایا ہے ۔۔ہمپ دی گریٹ کو لے لو۔۔یا پھر ڈاکٹر ڈریڈ کو ۔۔۔شعلہ سیریز کا کردار جس نے کنول کو نفسیاتی مریضہ بنادیا ۔۔مڈونگا کو کون بھول پائے گا !!!۔۔ایک ایسے عہد میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی گھٹنوں کے بل چل رہی تھی ۔۔۔فولامی۔۔لاسلکی ٹرانسمیٹر ،۔۔زمین کے بادل میں اسپنچ نما اسپیکر ،دھویں کی تحریر ،فے گراف اور درجنوں ابن صفی کے زرخیز ذہن کی اپچ آج ہمارے درمیان موجود ہیں !!!۔۔ہے نا تعجّب خیز !!!
عمران کے کردار پر ہم ایک بار اور نظر ڈالیں تو حیرت کے در وا ہوتے ہیں ۔۔۔کہ بظاہر احمق، گاؤدی ،ہونق نظر آنے والا کتنا ذہین ہے ؟۔۔جو خود اعتراف کیا کرتا ہے کہ ،،میں انسلٹ پروف ہوں ،،۔۔ایسے کسی کے رویے کی پروا نہیں ۔۔وہ اقرار کرتا ہے کہ ،،میں پچھتا رہا ہوں کہ پیدا ہونے سے انکار کیوں نہ کر سکا!،، اس بات کی علامت ہے کہ اپنے اطراف میں پلتے جرائم کو دیکھ کر ۔۔نابرابری، ابن الوقتی، لاقانونیت ، سیاس قسم کے کرداروں کو دیکھ ۔۔وہ خیال کرتا ہے کہ سادہ لوحوں کے لیے یہاں جگہ نہیں ۔۔احمق بن کر اپنا کام نکالو۔۔اسی لیے اپنا کام نکالنے کے بعد لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے ۔۔ایسے ٹریٹ کرتا ہے کہ ۔۔جانتا نہیں (۔۔قارئین !۔یہ میرا تجزیہ ہے ۔متفق ہونا ضروری نہیں )
دوسرے عمران کے کردار کی خصوصیات کہ وہ مرتبہ کے لحاظ سے برتاؤ کرتا ہے ۔۔سلیمان کے ساتھ رویہ الگ ہے تو جوزف کے ساتھ الگ ،صفدر کے ،جولیا کے ،بلیک زیرو کے ،روشی کے ،جیمسن کے ۔۔سبھی کے ۔۔ان کرداروں کے جھرمٹ میں کہیں بھی جھول نظر نہیں آتا ۔۔یہی کمال فن ہے !!
ڈاکٹر ارشاد خان
0 تبصرے