مدارس کا اپنا کوئی وجود اور نظام باقی نہیں
یکم جولائی سے اتراکھنڈ میں مدارس کا اپنا کوئی وجود اور نظام باقی نہیں رہا، سب تحلیل کر دیا گیا ہے۔ جو لوگ یہ تسلی دیے بیٹھے تھے کہ اس کارروائی کی زد میں صرف سرکاری مدارس آئیں گے اور پرائیویٹ محفوظ رہیں گے، انہیں جان لینا چاہیے کہ وہاں پرائیویٹ مدارس پر بھی مکمل حکومتی اجارہ داری قائم کر دی گئی ہے۔
ہمارے نوجوانوں کو لاحاصل بحثوں میں مزہ آتا ہے۔ کس مدرسے کا معیار کتنا گر چکا ہے، اس پر طویل تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بحثیں تو اس وقت ہوں گی نا جب مدرسے بچیں گے! حکومت خاموشی سے اپنا کام کرتی جا رہی ہے اور ہم بے پرواہ بنے بیٹھے ہیں۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ہماری جان نکلتی ہے، اپنے حصے کا کام کرنے میں مصروفیت آڑے آ جاتی ہے، لیکن بے جا اور بے موقع اختلافی بحثوں کے لیے ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے۔
جب ہم کسی سے اس حوالے سے بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ "ہم کیا کر سکتے ہیں، حکومت تو باز آنے والی نہیں" یا "یہ سب تو چلتا ہی رہے گا"۔
تو کیا اگر یہ سلسلہ نہیں رکے گا تو آپ کچھ بھی نہیں کریں گے؟ عجیب منطق ہے۔
جب ہم نے آسام میں مدارس کو اسکولوں میں تبدیل کیے جانے پر رپورٹنگ کی اور لکھا، تو کئی موقر علماء نے کہا کہ سرکاری مدارس پر تو کارروائی ہونی ہی تھی۔ ان کے بقول اکابرین نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، اس لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔ ہمارے 'قومی مدارس' محفوظ رہیں گے۔ لیکن یاد رکھیے، جس کی لاٹھی اسی کی بھینس۔
اتراکھنڈ کی تازہ مثال مقامِ عبرت ہے۔ ہم نے اس پر کئی تفصیلی تجزیاتی مضامین لکھے، سب کو بروقت آگاہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اب عمل درآمد کا وقت آ چکا ہے۔ ہم اب بھی نہ سمجھے تو کیا ہوگا۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم سب کچھ لٹ جانے کے بعد واویلا کرتے ہیں۔
کتنا اچھا ہوتا کہ مدارس پر تنقید اور ان کی تحقیر کے بجائے ہم ان کے موجودہ ماڈل پر سنجیدگی سے غور کرتے کہ انہیں حکومتی عتاب سے بچانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں مدارس کا نصاب ہی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ اب وہاں صرف وہ سرکاری نصاب چلے گا جسے بنانے والی کمیٹی میں ایک بھی عالمِ دین شامل نہیں۔
روز روز کے انہدام اور مدرسے بند ہونے کی خبروں سے اس حد تک بیزار ہو چکا ہوں کہ بیان نہیں کر سکتا۔ ہمارے ایک درد مند مشفق مسلسل اس فکر میں رہتے ہیں کہ اس سیلاب کو کیسے روکا جائے۔ ہم کم از کم اتنا تو کر سکتے تھے کہ سوشل میڈیا کا ہی مفید استعمال کرتے، لکھتے، اور غور کرتے کہ مدرسوں کو ان حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کون سی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ حکومت 'ماڈرن ایجوکیشن' اور 'یکساں تعلیمی مواقع' کو بہانہ بناتی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ سب سراب ہے، ایک فریب ہے۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ حکومت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا جائے، لیکن اس کا کوئی تو ٹھوس حل نکالنا پڑے گا تا کہ انہیں کارروائی کا بہانہ نہ ملے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اختلافی اور فروعی مسائل میں ہر نوجوان کود پڑتا ہے، لیکن موجودہ مسائل میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں، بلکہ اس میں بڑی حد تک ہماری غفلت اور بے پروائی شامل ہے؟
0 تبصرے