Ticker

6/recent/ticker-posts

مدرسہ احمدیہ ابابکر پور خاموش انقلاب اور تعلیمی بیداری نعرہ کی شاندار رسمِ اجرا

مدرسہ احمدیہ ابابکر پور خاموش انقلاب اور تعلیمی بیداری نعرہ کی شاندار رسمِ اجرا


مدرسہ احمدیہ ابابکرپور، ویشالی میں خاموش انقلاب اور ڈاکٹر ذاکر حسین کا تعلیمی بیداری نعرہ کی شاندار رسمِ اجرا کی تقریب کا انعقاد

ڈاکٹر ذاکر حسین، 8002988177

کسی بھی قوم کی ترقی، تہذیب اور خوشحالی کی بنیاد تعلیم ہے۔ وہ قومیں جو علم کو اپنی ترجیح بناتی ہیں، تاریخ میں ہمیشہ عزت و وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔ اسی طرح اپنے اکابر کی حیات و خدمات کو محفوظ کرنا بھی زندہ قوموں کی علامت ہے۔ انہی دو عظیم مقاصد—تعلیم کے فروغ اور اکابر کی خدمات کے تحفظ—کو سامنے رکھتے ہوئے مدرسہ احمدیہ ابابکرپور، ضلع ویشالی میں ایک شاندار اور باوقار رسمِ اجرا تقریب منعقد ہوئی، جو علمی، ادبی اور فکری اعتبار سے ایک یادگار اجتماع ثابت ہوئی۔ مدرسہ احمدیہ ابابکرپور، ویشالی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان رسمِ اجرا تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت حضرت مولانا سید مظاہر عالم شمسی، سجادہ نشین خانقاہ شمسیہ چک اولیاء، ویشالی نے فرمائی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر ذاکر حسین، ریاستی اساتذہ ایوارڈ 2025 یافتہ جنرل سیکریٹری ضلع اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن ویشالی نے نہایت عمدگی سے انجام دی، جبکہ پروگرام کی قیادت مولانا قمر عالم ندوی نے کی۔ مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام مدرسہ کے پرنسپل مولانا شمیم احمد شمسی نے کیا۔ اس موقع پر نوجوان مؤلف مولانا اعجاز کریم قاسمی کی پہلی تالیف کتاب "خاموش انقلاب: حضرت مولانا عبد القیوم شمسیؒ کی شخصیت، حیات اور خدمات" کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ تقریب میں بہار سرکار کے ذریعے ریاستی اساتذہ ایوارڈ 2025یافتہ ڈاکٹر ذاکر حسین کا تیار کردہ تعلیمی بیداری نعرہ "جو پڑھے گا وہ بڑھے گا، جتنا پڑھے گا اتنا بڑھے گا، اور جب پڑھے گا تب بڑھے گا" کو پروفیسر توقیر عالم، سابق وائس چانسلر مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ، ایس۔ ایم۔ اشرف فرید، چیف ایڈیٹر روزنامہ قومی تنظیم، انوار الہدیٰ، سیکریٹری اردو ایکشن کمیٹی بہار، ڈاکٹر ریحان غنی، اشرف النبی قیصر، مفتی نافع عارفی آل انڈیا ملی کونسل بہار پٹنہ، ڈاکٹر کلیم اشرف، شاہنواز عطا، اعجاز عادل کے مبارک ہاتھوں سے رسم اجرا کیا گیا ۔ دوسرا اہم پہلو ڈاکٹر ذاکر حسین کے تیار کردہ تعلیمی بیداری نعرہ کی پیش کش تھی: "جو پڑھے گا وہ بڑھے گا، جتنا پڑھے گا اتنا بڑھے گا، اور جب پڑھے گا تب بڑھے گا۔"

یہ مختصر مگر جامع نعرہ حاضرین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ مقررین نے کہا کہ یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ معاشرے میں تعلیمی انقلاب کی دعوت ہے۔ اس میں بچوں، نوجوانوں، والدین اور اساتذہ سب کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ترقی، عزت اور خوشحالی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر اس پیغام کو اسکولوں، مدارس، محلوں اور دیہات تک پہنچایا جائے تو ناخواندگی کے خلاف ایک مضبوط عوامی تحریک وجود میں آ سکتی ہے۔

تقریب میں مقررین حضرات نے ڈاکٹر ذاکر حسین کے تعلیمی بیداری کا نعرہ کو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس پیغام کو گھر گھر اور اسکول اسکول پہنچایا جائے تو معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی جملہ نہیں بلکہ ایک کامیاب تحریک ہے۔ جو قوم کو تعلیم حاصل کرنے اور دین و دنیا میں آگے بڑھنے میں انقلاب پیدا کر سکتا ہے۔دلشیر عالم، ماسٹر محمد عظیم الدین انصاری، امیر الحق، حافظ توقیر عالم، صدر عالم ندوی، مولانا مفتی توقیر عالم (پرنسپل مدرسہ اسلامیہ چہرا کلاں) سمیت ویشالی کے متعدد علمائے کرام، دانشوروں، اساتذہ اور سماجی شخصیات نے اپنے اپنےخیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ "خاموش انقلاب" حضرت مولانا عبد القیوم شمسیؒ کی علمی، دینی، اصلاحی اور سماجی خدمات کا ایک مستند اور قابلِ قدر دستاویز ہے، جو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ انہوں نےمؤلف مولانا اعجاز کریم قاسمی کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے اسے دینی و ادبی حلقوں کے لیے ایک اہم اضافہ قرار دیا۔ اور ڈاکٹر ذاکر حسین کے تعلیمی بیداری کے نعرہ کو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس پیغام کو گھر گھر اور اسکول اسکول پہنچایا جائے تو معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ مقررین نے ڈاکٹر ذاکر حسین کے تعلیمی بیداری کے نعرہ کو بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس پیغام کو گھر گھر اور اسکول اسکول پہنچایا جائے تو معاشرے میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ دلشیر عالم، ماسٹر محمد عظیم الدین انصاری، امیر الحق، حافظ توقیر عالم، صدر عالم ندوی، مولانا مفتی توقیر عالم (پرنسپل مدرسہ اسلامیہ چہرا کلاں) سمیت ویشالی کے متعدد علمائے کرام، دانشوران اساتذہ کرام اور سماجی شخصیات تمام مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ "خاموش انقلاب" جیسی کتابیں علمی ورثے کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی بزرگ کی خدمات کو قلم بند کیا جاتا ہے تو درحقیقت تاریخ محفوظ ہوتی ہے، نئی نسل کو اپنے اسلاف سے وابستگی حاصل ہوتی ہے اور معاشرے میں علمی شعور پیدا ہوتا ہے۔

مقررین نے ڈاکٹر ذاکر حسین کی تعلیمی خدمات کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کامیاب معلم صرف درس نہیں دیتا بلکہ معاشرے میں علم کی شمع روشن کرتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنے تعلیمی سفر، سماجی سرگرمیوں، اردو زبان کے فروغ اور تعلیمی بیداری کی مسلسل کوششوں کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک مخلص استاد پوری نسل کی سوچ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا تعلیمی بیداری کا نعرہ اسی جذبے کی ترجمانی کرتا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں ایک عوامی تعلیمی مہم کی صورت اختیار کرے گا۔

تقریب کے اختتام پر مولانا اعجاز کریم قاسمی کو ان کی پہلی تالیف کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی گئی، حضرت مولانا عبد القیوم شمسیؒ کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ڈاکٹر ذاکر حسین کو ان کی تعلیمی خدمات، ریاستی اساتذہ ایوارڈ 2025 اور تعلیمی بیداری کی منفرد کاوش پر بھرپور مبارکباد دی گئی۔یہ تقریب اس حقیقت کا عملی ثبوت تھی کہ جب مدارس، اہلِ قلم، اساتذہ، صحافی، دانشور اور سماجی رہنما ایک مقصد کے لیے یکجا ہوتے ہیں تو علم، ادب، تحقیق اور تعلیم کے فروغ کی نئی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ آج کے دور میں ایسی تقریبات نہ صرف کتابوں کی رونمائی کا ذریعہ ہیں بلکہ معاشرے میں علمی بیداری، تعلیمی شعور اور فکری استحکام پیدا کرنے کا مؤثر وسیلہ بھی ہیں۔ یہی اس تقریب کا سب سے بڑا پیغام اور کامیابی تھی۔اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مولانا اعجاز کریم قاسمی، حضرت مولانا عبد القیوم شمسیؒ اور ڈاکٹر ذاکر حسین کو دلی مبارکباد پیش کی اور ان کی علمی و تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر ملک و ملت کی ترقی، فروغِ تعلیم، اردو زبان کی سربلندی اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے