افسانہ: تنویرِ تازہ
جمہوریت اور فیس بک کی برکات میں سے ایک برکت یہ بھی ہے کہ اب کسی کو شاعر بننے کے لیے پڑھنا نہیں پڑتا۔ پرانے دور کے اوزان، بحور اور عروض کی آمریت کو سوشل میڈیا کے جمہوری انقلاب نے ایسا پامال کیا ہے کہ اب شاعری دردِ دل سے نہیں، صرف ڈیٹا پیکیج سے برآمد ہوتی ہے۔
ہمارے محلے کے رانا بشیر، جو فیس بک پر "رانا غمزہ حسرتی" کے نام سے دادِ سخن دیتے ہیں، اس نئے مکتبِ فکر کے امام ہیں۔ وہ غزل کہنے کے لیے احساسِ زیان سے زیادہ ٹچ سکرین کی روانی پر تکیہ کرتے ہیں۔
ایک صبح فیس بک کھولتے ہی رانا صاحب کا تازہ ترین کلام نظر سے گزرا۔ ماتھے پر جلی حروف میں ایک لفظ جڑا تھا: "۔۔۔ تازہ ۔۔۔" نیچے درج تھا:
تم جو یوں مجھ سے خفا بیٹھے ہو،
لگتا ہے کسی اور کی گود میں جا بیٹھے ہو!
ہم نے ملک میں رائج آزادیِ اظہار کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت دھیمے سروں میں ایک مصلحانہ تبصرہ کیا:
"رانا صاحب! 'گود' کی جگہ اگر 'دل' یا 'محفل' فرما دیتے، تو اخلاقیات کا جنازہ اتنی دھوم دھام سے نہ نکلتا۔"
پندرہ منٹ بعد رانا صاحب کا فون آگیا۔ ان کا لہجہ کسی غصیلے آمر جیسا تھا، مگر الفاظ جمہوریت کے لبادے میں لپٹے ہوئے تھے۔ بولے:
"نعمان صاحب! آپ ہماری انفرادیت پر قدامت پسندی کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور شاعر اپنے تخیل میں خودمختار۔ اگر میں نے بھی 'دل' لکھ دیا، تو جدت اور روایتی شاعری میں کیا فرق رہا؟ آج کا جدید دور 'گود' کا تقاضا کرتا ہے۔ اور یہ جو میں نے 'تازہ' لکھا ہے، یہ پبلک کو یقین دلانے کے لیے ہے کہ مال باسی نہیں، ابھی پانچ منٹ پہلے ذہنِ رسا سے اترا ہے۔"
ہم نے ان کے اس سحر انگیز جمہوری استدلال کے آگے فوری ہتھیار ڈال دیے۔
اسی شام ان کے ڈیرے پر ایک "جدید مشاعرہ" برپا تھا۔ فضا میں چائے کے دھوئیں کے ساتھ ساتھ جدیدیت کی دھند بھی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک نوآموز نوجوان، جو انفرادیت کے زعمِ باطل میں الٹی قمیض پہنے ہوئے تھے، مائیک پر نمودار ہوئے اور مسکرا کر بولے:
"سماعت فرمائیے، بالکل تازہ ہے!"
چائے کی پیالی میں ابال آ رہا ہے،
مجھے تمہارا بار بار خیال آ رہا ہے!
تم نے جو بلاک کیا ہے مجھے واٹس ایپ پر،
دیکھو! اب مجھے غصہ بے مثال آ رہا ہے!
مجمعے سے ایسی "واہ واہ" برآمد ہوئی جو صرف مفت کی الائچی والی چائے پینے والے ہی نکال سکتے ہیں۔ ہم نے برابر بیٹھے ایک بزرگ سے سرگوشی کی:
"حضرت! اس غزل میں قافیہ اور ردیف کا آپسی رشتہ کیا ہے؟"
بزرگ نے ہمیں تاسف سے دیکھا اور لقمہ چباتے ہوئے کہا:
"میاں! یہ آزاد شاعری ہے۔ اس میں قافیہ ردیف کی قید لگانا فاشزم ہے۔ ہم آزاد وطن کے آزاد شہری ہیں، اپنی مرضی کا ابال لائیں گے اور اپنی مرضی کا خیال!"
آخر میں رانا غمزہ حسرتی صاحب بذاتِ خود اسٹیج پر آئے۔ انہوں نے مائیک کو سنبھالا، روایتی نقادوں کی طرف ایک فاتحانہ اور حقارت آمیز نظر ڈالی اور گویا ہوئے:
"دوستو! اب میں وہ شاہکار پیش کر رہا ہوں جس پر صبح کچھ لکیر کے فقیروں نے اعتراض کیا تھا، مگر میں کسی بیرونی دباؤ میں آئے بغیر، بالکل آزادانہ ماحول میں اپنے دل کی بات کروں گا۔"
کاغذ کھلا اور رانا صاحب نے اپنے مخصوص ترنم اور لہراتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ پڑھا:
دل میرا ٹوٹ گیا، جیسے شیشے کا گلاس،
اب میں کہاں سے پاؤں گا، تمہارا احساس؟
تم تو چلی گئیں پیزا ہٹ، مجھے تڑپتا چھوڑ کر،
اب میں کھا رہا ہوں، گھر بیٹھ کے ٹنڈے پیاز!
"ٹنڈے پیاز" کا سننا تھا کہ مجمعے پر ایک وجدانی اور صوفیانہ کیفیت طاری ہو گئی۔ دو نوجوان تو جذبات سے مغلوب ہو کر رانا صاحب کے گلے لگ کر رونے لگے۔ ہمیں شدت سے محسوس ہوا کہ پاکستان واقعی دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نہ صرف اختلافِ رائے برداشت کیا جاتا ہے، بلکہ ایسی "تازہ" شاعری کو جھیلنے کے لیے پبلک کا جگر بھی فولاد کا بنا دیا جاتا ہے۔
مشاعرے کے اختتام پر رانا صاحب چائے کا کپ لیے فاتحانہ انداز میں ہمارے پاس آئے۔ چہرے پر نوبل پرائز جیتنے والا اطمینان و سکون تھا۔ بولے:
"ہاں بھئی رانا نعمان انجم صاحب! اب کہیے، کچھ مزہ آیا؟"
ہم نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور مسکرا کر کہا:
"رانا صاحب! شاعری واقعی بہت 'مزے دار'، 'زود ہضم' اور 'کثیر المقاصد' تھی۔ بس میری ایک جمہوری رائے ہے کہ اگلی بار جب فیس بک پر 'تازہ' لکھیں، تو نیچے بریکٹ میں یہ بھی لکھ دیا کیجیے کہ 'کمزور دل اور نازک نظامِ ہضم والے حضرات پڑھنے سے گریز کریں'، تاکہ ملک میں جمہوریت کے ساتھ ساتھ معصوم پبلک کی صحت بھی برقرار رہے۔"
رانا صاحب نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور ہماری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے:
"نعمان صاحب! چلو، آپ کی اس اختلافی رائے کا بھی احترام کرتے ہیں، آخر ملک جمہوری جو ہے!"
رانا محمد نعمان انجم
0 تبصرے