خدمت یا معاشی مجبوری
پہلے کے مقابلے ۔۔۔۔ لڑکیوں کے دینی اقامتی اداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور بظاہر مستقبل میں بھی یہ سلسلہ غیر متوقع نہیں ۔ یقیناً دینی تعلیم کی اشاعت ایک مبارک مقصد ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا خدمتِ دین کا واحد راستہ صرف مدارس پر مدارس کا قیام ہے، یا وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم، ہنر، سماجی خدمت اور معاشی خود کفالت کے دیگر میدان بھی اسی قدر اہم ہیں؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ملک میں غربت اور بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ روزگار اور بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ایسے حالات میں ہر جائز اور باعزت ذریعۂ معاش اختیار کرنا نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ دینِ اسلام نے بھی محنت، کسبِ حلال اور خود انحصاری کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے۔
البتہ اس بات سے بھی احتراز ضروری ہے کہ دین کو غربت کا مترادف بنا کر پیش کیا جائے، یا یہ تاثر عام ہو کہ دین سے وابستگی لازماً معاشی محرومی کا سبب بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین انسان کو عزتِ نفس، محنت، دیانت اور خود کفالت کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم خدمتِ دین کے ساتھ معاشی استحکام کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں تو ہم نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی زیادہ مؤثر اور مفید کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوٹ: برائے مہربانی ( اپنی بات ) واٹس ایپ چینل کو Follow کریں، آپ کی یہ ادنی توجہ ناچیز کی بڑی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا۔
0 تبصرے