Ticker

6/recent/ticker-posts

حرفِ شکست

حرفِ شکست


اندر کا صاف ذہن بھی ویران ہو گیا
میں خود ہی اپنے خون کا عنوان ہو گیا

آواز کوئی دیتا ہے اندر سے رات بھر
برباد میری ذات کا ایوان ہوگیا

بستر پہ لیٹے لیٹے سسکتی رہی حیات
فرقت زدہ یہ خاک کا مہمان ہو گیا

ہم نے تو عمر کاٹی ہے کانٹوں کی سیج پر
دل کو نئی حیات کا ارمان ہوگیا

اب تو گریز کرتی ہے مجھ سے ہر اک خوشی
لگتا ہے جیسے شہر یہ زندان ہوگیا

پہچانتا نہیں ہے، کوئی میرِ کارواں
رستہ تو کیا یہ شہر بھی انجان ہوگیا

دم توڑتی امید کو کس طرح اب جئے ؟
انجم! تَو اپنی ذات سے انجان ہوگیا

ایم ایس انجم دربھنگوی
استاذ مدرسہ فلاح دارین چنچوٹی پالگھر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے