ادبی شذرات : اجمالی جائزہ
مصنّف ڈاکٹر جاوید احمد کامٹوی
اسلم چشتی پونے( انڈیا)
اُردو زبان میں بہت سارے ایسے لکھنے والے ہیں جو ادبی سیاست سے دور رہ کر ادبی خدمات کو ترجیح دیتے ہیں ایسے لوگ ادب کے main stream میں نہیں ہوتے ہوئے بھی اپنے وجود کا احساس دلاتے رہتے - انھیں میں سے ایک جاوید احمد بھی ہیں جن کا پیشہ درس و تدریس اور جن کا موضوع سائنس رہا ہے - اُردو زبان کی دلچسپی کی وجہ سے انھوں نے اُردو اور فارسی کی اعلٰی تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی ناگپور یونیورسٹی سے کی - رفیع احمد قدوائی جونیئر کالج آف سائنس چندر پور ( مہاراشٹرا) میں پرنسپل کے خدمات انجام دینے کے بعد وظیفہ پر سبکدوش ہوئے - سروس کے دوران ان کے سائنسی اور ادبی مضامین اور بچّوں کے لیے کہانیاں ادبی رسائل میں شایع ہوتے رہے - ہمیشہ درسی ، علمی ، ادبی ، سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی سے نوازے گئے - وظیفہ کے بعد بھی لکھنے کا سلسلہ جاری رہا - " ادبی شذرات " سے پہلے ان کی دو کتابیں " ماحولیات اور انسان " اور" اصلی پونجی " شایع ہو چُکی ہیں - ان کتابوں کے بارے میں اقتباسات مُلاحظہ فرمائیں۔
" مشمولات پر ایک نظر ڈالی ہے جس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپنے سلگتے موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے - اُردو میں سائنسی اور ماحولیاتی کتابیات کا فقدان تو نہیں مگر اس طرف لوگوں نے کم توجہ دی ہے - آپنے اپنی اس کتاب کے ذریعے ایک حوصلہ افزا اقدام کیا ہے"
( مُختار ٹونکی ، پُشت پر چھپی مُشاہیر کی آراء سے )
" میں آپ کی مُختلف کہانیاں دیر تک پڑھتا رہا بڑا لُطف آیا - یہ محسوس کر کے مزید خوشی ہوئی کہ ادبِ اطفال کے سلسلے میں میری اور آپ کی ترجیحات یکساں ہیں - آپ کی تحریریں معیاری اور بڑی شگفتہ ہیں - اس کے لیے مبارکباد قبول فرمائیں"
( ضمیر کاظمی ممبئی ، پُشت پر چھپی مُشاہیر کی آراء سے )
سائنس اور بچّوں کی کہانیوں کی یہ کتابیں جاوید احمد کا قابلِ ذکر کام ہے - اب" ادبی شذرات " کی اشاعت نے ادبی حلقوں کو چونکا دیا ہے - اس میں ان کے وقفے وقفے سے لکھے گئے مُختلف ادبی موضوعات پر مضامین ہیں اور انشائیے بھی - یہ انتخاب معیاری اور مطالعہ کے قابل ہے - آسان زبان میں موثر انداز میں قارئین کے لیے پیش کیا گیا ہے - مصنّف نے جن موضوعات پر لکھا ہے سبھی اہم ہیں اور جس زاویئے سے اظہار کیا وہ بھی توجہ طلب ہے - میرے اس خیال کی دلیل کے طور پر اقتباس مُلاحظہ فرمائیں۔
" ادب الاطفال سے مراد ادب کی وہ شق جس کا تعلق بالخصوص بچّوں سے ہو - دُنیا کی ترقّی یافتہ زبانوں میں اسے اہم مقام دیا جا تا ہے - بچّوں کا ذہن کچّا ہوتا ہے - ان میں نقالی ، تجسّس کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے - نئے نظریات اور خیالات کو سمو لینے کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے - تخیّل ایک ایسے مرحلے میں ہوتا ہے کہ اسے کسی بھی رنگ سے بھرا جا سکتا ہے - اس اعتبار سے ان ننھے ذہنوں کو جو دیا جائے وہ بالغوں کے ادب سے قطعی مُختلف ہو - لہذا بچّوں کے ادب کی تیاری اور پیش کش میں غایت درجہ احتیاط لازم ہے - ایک ترقّی یافت سماج اس سے غفلت برتنے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا "
( ص 49 کتاب ہذا )
یہ اقتباس" ودربھ میں ادب الاطفال کی روایت " سے لیا گیا ہے - اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جاوید احمد موضوع کے ساتھ انصاف کس طرح کرتے ہیں اور ان کا طریقئہ کار کیا ہے - یہ اقتباس بطور مثال پیش کیا گیا ہے - مشمولات میں شامل ہر مضمون میں مصنّف نے حوالوں مثالوں کے ساتھ جو اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان کے مطالعہ ، تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ ہے - بُنیادی طور پر سائنسی ذہن رکھنے والے جاوید احمد کا ادبی مضامین لکھنا فالِ نیک اس لیے بھی ہے کہ سائنسی اُصولوں کے تحت جس طرح موضوع کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے اسی طرح جاوید احمد نے ادبی موضوعات میں تہہ تک پہنچ کر قارئین کے لیے زرّین خیالات کے موتی نکالنے کی سعئ کی ہے۔
اجمالی جائزے میں مثالوں کی گنجائش کم ہوتی ہے ورنہ تہہ تک پہنچ کر موتی نکالنے کی کئی باتیں میرے ذہن میں ہیں قارئین غور کریں تو ان مضامین میں وہ ساری باتیں مُنکشف ہو جائیں گی یہ وہ باتیں ہوں گی جو ان موضوعات پر لکھے گئے مضامین میں کم ہی پائی جاتی ہیں - اہلِ نظر اس سے ضرور فیضیاب ہوں گے۔
فہرستِ مضامین کے عنوانات یہاں پیش کیے جا رہے ہیں - یہ عنوانات ہی موضوعات ہیں اور موضوعات کی اپنی اہمیت ہے جو مصنّف کے قوّتِ اظہار سے روشن ہے۔
حصّہ ( الف) ادبی و تنقید مضامین
) 1) اُردو گیت - مُختصر جائزہ (2) اُردو ڈرامہ کے پسِ پردہ(3) اُردو اور جنگِ آزادی (4) مُختصر افسانہ - مُختصر تاریخ و تعریف (5) ودربھ میں ادب الاطفال کی روایت (6) ودربھ میں اُردو صحافت کے خد و خال (7) انیس کے مراثی میں نسوانی کردار۔
حصّہ ( ب) گوشئہ صالحہ عابد حسین
) 8) یادگارِ حالی - صالحہ عابد حسین (9) صالحہ عابد حسین کی افسانہ نگاری (10) صالحہ عابد حسین کی ناول نویسی (11( بچّوں کی ادیبہ صالحہ عابد حسین۔
حصّہ ( ج)
) 12) الفاظ کے افسوں ، جذبات کے جادو کا شاعر - راز (13( واحد علی بانگے کی غزل گوئی (14) شکیل شاہجہاں کی ڈرامہ نویسی - " کنویں کی چوری" کی روشنی میں (15) علی سردار جعفری اور ترقّی پسند تحریک (16) علی سردار جعفری اور مرثیہ نویسی (17) جدید ہندوستانی ادب کے معمار - قاضی نذر السلام۔
اس کے علاوہ حصّہ ( د) انشائیے کے عنوانات ہیں - ہم نے بھی کُتّا پالا ، کچھ انتظار کے بارے میں ، ہیلمیٹ پر ہنگامہ ، تھیلی ، لوٹ پیچھے کی طرف - یہ انشائیے مصنّف کی شوخ مزاجی کی غمّازی کرتے ہیں اور صفتِ انشائیہ پر پورے اترتے ہیں - ہلکا پھلکا مزاح اور لطیف طنز مصنّف کے فنِ تحریر کو قاری پر روشن کرتا ہے - انشائیے کے موضوعات عصر کے سماج کی پرچھائیاں پیش کرتے ہیں - رواں زبان میں دلچسپ اظہار خوب تر ہے - کچھ اقتباسات مُلاحظہ فرمائیں۔
" بھلے سماج کے دوسرے طبقے بجلی کی بے وفائی سے ناراض ہوں مگر ہمارے طلبہ کے حق میں تو یہ کسی نعمت سے کم ثابت نہیں ہوئی کہ چلو کسی بہانے تو اسٹڈی سے چھٹکارا ملا - نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی"
( انشائیہ " لوٹ پیچھے کی طرف" ص 230)
" دادی اور نانی اماں کی تھیلیوں کے تو کیا کہنے ! یہ تھیلیاں سکّے اور روپے رکھنے کے لیے کم سپاری ، لونگ ، الائچی اور بعض دفعہ کچھ جڑی بوٹیاں رکھنے کے زیادہ کام آتی ہیں - وہ موخر الذکر اشیاء کا استعمال موقعہ ملتے ہی کرنا چاہتی ہیں مگر آج کے زمانے میں ان پر یقین کون لاتا ہے ؟ آج تو انجکشن ، گولیوں ، کیپسول اور آپریشن پر ہمارا ایمان ہے اس لیے ان ضعیفوں کی جڑی بوٹیاں ، ویسے ہی دھری رہ جاتی ہیں "
( انشائیہ" تھیلی " ص 222 )
جاوید احمد انشائیہ نگاری میں بھی کامیاب نظر آتے ہیں ناچیز کا خیال ہے کہ انھیں اس دلچسپ صنف میں بھی لکھتے رہنا چاہئے اور ان کے انشائیوں کا انتخاب بھی کتابی صورت میں شایع ہونا چاہئے۔
" ادبی شذرات " ادبی ذوق رکھنے والوں کے لیے " سوغات " ہے - اس کی حفاظت کے لیے قرطاس کے علاوہ برقی آلات کی مدد سے کمپیوٹر کے خزانے کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ آنے والی نسلیں بھی مصنّف کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں - آخر میں اپنی گفتگو میں فیروز حیدری کی اس رائے پر ختم کرتا ہوں۔
" ناچیز کو ڈاکٹر جاوید صاحب کے تقریباً سبھی مضامین کو بغور پڑھنے کا موقع ملا ہے - موضوع کے ساتھ انصاف کرنا آسان کام نہیں مگر ڈاکٹر جاوید یہ کام بہتر ، عُمدہ اور اور آسانی سے کر لیتے ہیں"
0 تبصرے