Ticker

6/recent/ticker-posts

صدہا جتن سے کچھ کا، چولھا نہیں ہے جلتا : غزل

صدہا جتن سے کچھ کا، چولھا نہیں ہے جلتا : غزل


غزل

صدہا جتن سے کچھ کا، چولھا نہیں ہے جلتا
زردار کچھ ہیں جن سے زر ہی نہیں سنبھلتا

سچوں کا منھ ہے کالا، جھوٹوں کا بول بالا
بازار کذب میں اب، سکہ انہی کا چلتا

ہر کامیاب لیڈر، گرگٹ کو مات دے دے
ناکام ہے وہی جو، چولا نہیں بدلتا

مسند پہ یار میرے ! تونے ہی تو بٹھایا
افسوس کرکے ہمدم، اب ہاتھ کیوں ہے ملتا

کچھ کام کر بھی جاؤ، سپنے نہ اب دکھاؤ
وعدوں سے یار میرا، اب دل نہیں بہلتا

دشمن کھلے ہیں جتنے ان سے تو بچ ہی جائیں
ہوشیار اس سے رہنا، جو آستیں میں پلتا

خوابوں کے تاجروں نے،آئینے توڑ ڈالے
اندھوں کے اس نگر میں سپنوں سے جی بہلتا

جب ڈوبنے سفینہ آجائے، چوہے بھاگیں
ہمدم بھی ساتھ چھوڑیں سورج اگر ہو ڈھلتا

مٹی جو اس نے دیکھی ارشاد میوزیم میں
اب چاند دیکھنے کو بچہ نہیں مچلتا

کیا وقت آگیا ہے ارشاد! کچھ نہ پوچھو
مہماں قریبی حتی، لوگوں کو اب ہے کھلتا

ڈاکٹر ارشاد خان

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے