Ticker

6/recent/ticker-posts

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

عجب چیز ہے لذتِ آشنائی


دوستو!
شناخت بھی عجیب شے ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ہمارے اندر ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے گرد پھیلی ہوئی علامتوں میں بھی بسی ہوتی ہے؛ ہماری ناموں میں، ہمارے لباس میں، ہمارے لہجے میں، حتیٰ کہ ہماری ذبان میں بھی۔

زبان کے حوالے مشہور اسکالر ڈاکٹر عارفانہ نے بڑی دلچسپ بات کہی ۔

میں اردؤ پاکستان بغاوتاٍ بولتی ہوں کہ لوگ قومی زبان کو اہمیت دینے سے انکار کرتے ہیں لیکن غیر ممالک میں میں اردو بولتی ہوں کہ میری شناخت اردو ہے ۔

یہ جملہ زبان کی عجیب تقدیر کو بیان کرتا ہے۔ ایک ہی زبان کبھی مزاحمت کی علامت بن جاتی ہے اور کبھی شناخت کی۔ کبھی وہ ہجوم میں اپنی انفرادیت کا اعلان ہوتی ہے اور کبھی اجنبیت میں اپنے پن کا سہارا۔

سہیل محمد علی ایک پاکستانی اسکالر، اینتھروپالوجسٹ (anthropologist) اور ڈویلپمنٹ سیکٹر کے تجربہ کار پروفیشنل ہیں، سرکاری دورے پر افغانستان گئے۔ ان کے میزبان نے نہایت سنجیدگی سے مشورہ دیا:

"بازار میں دری یا انگریزی بولیے گا، اردو نہ بولیے گا۔"
انہوں نے حیران ہو کر پوچھا:
"کیوں؟"
جواب ملا:
"کیونکہ یہاں لوگ پاکستانیوں کے بارے میں راحت محسوس نہیں کرتے۔

یہ سن کر انہیں احساس ہوا کہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں، ایک اعلانِ شناخت بھی ہے۔ بعض اوقات ایک لفظ بولنے سے پہلے ہی لوگ آپ کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے اپنے میزبان سے اس کا نام پوچھا۔
اس نے جواب دیا:
"حضرت علی۔"
یہ نام سنتے ہی ان کے دل میں ایک عجیب سا اطمینان پیدا ہوا۔ گویا ایک پل میں اجنبیت کی دیوار کچھ کم ہو گئی ہو۔
تب انہیں احساس ہوا کہ نام بھی صرف آوازیں نہیں ہوتے۔ ناموں کے ساتھ تاریخیں جڑی ہوتی ہیں، یادیں جڑی ہوتی ہیں، عقیدتیں اور ثقافتیں جڑی ہوتی ہیں۔ بعض نام ہمیں خوف دلاتے ہیں، بعض اعتماد، بعض اپنائیت، اور بعض فاصلہ۔
انسان دراصل علامتوں کی دنیا میں جیتا ہے۔ زبان ایک علامت ہے، لباس ایک علامت ہے، پرچم ایک علامت ہے، اور نام بھی ایک علامت ہے۔ ہم لوگوں کو اکثر ان کی حقیقت سے پہلے ان علامتوں کے ذریعے پہچانتے ہیں۔
شاید اسی لیے شناخت صرف یہ نہیں کہ ہم کون ہیں؛ شناخت یہ بھی ہے کہ دوسروں کی آنکھ میں ہم کس کہانی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔
اور بعض اوقات ایک زبان، ایک لہجہ یا ایک نام، پورا تعارف بن جاتا ہے۔
خالد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے