از حد متاثر کن مگر سچائی سے لبریز
مجھے دو واقعات یاد آ گئیے ایک میرا ذاتی واقعہ ہے ۔یہ 1987کی بات ہوگی جب کینیڈا میں مقیم معروف ناول نگار۔۔اکرام بریلوی جو میرے استاد حضرت شبنم رومانی کے شاگرد تھے۔ان کے اعزاز میں شبنم صاحب کے گھر میں نشست رکھی گئی ۔نہ جانے کیا نظر آیا کہ انہوں نے مجھے کینیڈا ۔میں رہنے کا کہا۔۔اسپانسر بھی کرنے کو تیار۔۔میں تیار ہو گیا اس وقت ۔زیادہ رحجان۔۔سعودیہ۔کویت میں جانے کا تھا۔میری امی خوش ہوئیں کہ چلے جاؤ۔۔۔انہی دنوں میری امی بیمار ہو گئیں اور مجھے ان کا علاج کرانا پڑا بس یہ ٹرننگ پواہنٹ تھا۔۔۔میرے والد صاحب کا اس وقت انتقال ہوا جب میں کلاس چہارم کا طالب علم تھا یہ 1972کی بات۔پھر میری امی ہی میرا ابو میری امی۔ساری زندگی ہم پر وار دی۔سلائی مشین ۔کڑھائی کر کے ہمیں تعلیم دلائی ۔میں نے سوچا چلا گیا تو میری امی۔۔چھوٹے بھائی۔بہن کو کون دیکھے گا۔ارادہ ملتوی کر دیا۔اکرام بریلوی صاحب کے خط آج بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔۔غربت زدہ زندگی گذاری مگر ماں کے ساتھ رہا ۔بہت صدمے دیکھے ماں کا آخری دم تک ساتھ رہا۔پردیس سے ڈالر نہیں بھیجے پاکستانی روپوں میں خدمت کی۔
دوسری مثال۔۔اسلام آباد کے کمسٹری کے پروفیسر شاعر۔نے اپنے دونوں بیٹوں کو باہر بھیجا وہاں ہی شادی وہاں ہی کاروبار شہریت۔۔۔میں جب بھی ان کے جناح سپر مارکیٹ کے پاس وسیع بنگلے میں ملنے جاتا عجب اداسی ملتی ۔دونوں کے کان ۔لینڈ لائن فون کی طرف ہوتے کہ کب کسی بیٹے کا فون آئے دونوں میاں بیوی ان سے بات کر کے کچھ دل کو تسلی دیں۔
0 تبصرے