جامعہ رحمانی کے زیر انتظام وفاق المدارس کے تربیتی ورکشاپ کا پہلا دن کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
حضرت امیر شریعت کی صدارت میں منعقد ورکشاپ میں مدارس کے ذمہ داران اور اساتذہ نے علمی محاضرات سے استفادہ کرتے ہوئے تدریس، نصاب اور تعلیمی ترقی کے اہم پہلوؤں پر غور کیا
مونگیر (پریس ریلیز) 10 جون 2026 امیر شریعت حضررت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی صدارت میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے زیرِ انتظام وفاق المدارس الاسلامیہ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال کے سہ روزہ تربیتی ورکشاپ کا پہلا دن علمی، فکری اور تربیتی مباحث کی بھرپور فضا میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ نو جون سے گیارہ جون تک جاری رہنے والے اس ورکشاپ میں وفاق المدارس امارت شرعیہ سے ملحق مدارس کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام اور ماہرینِ تعلیم نے تعلیمی نظام کے استحکام، نصابی ارتقاء اور تدریسی مہارتوں کے فروغ پر گہرے غور و خوض میں حصہ لیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں امیرِ شریعت مفکرِ ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشینِ خانقاہ رحمانی مونگیر و صدر وفاق المدارس نے عمل، جدوجہد اور توکل کے باہمی تعلق پر نہایت بصیرت افروز روشنی ڈالی۔ انہوں نے فرمایا کہ مذہب اسلام نے توکل کے ساتھ ساتھ اسباب کے اختیار کرنے کی تعلیم بھی دی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پہلے تمام ممکنہ وسائل اور اسباب کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اختیار کیا جائے، پھر اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھا جائے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام کو یاد دلایا کہ طلبہ ان کے پاس ایک عظیم امانت ہیں، جن کی تعلیم و تربیت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس اور مقدس ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تربیتی ورکشاپ اسی احساسِ ذمہ داری کو مزید گہرا اور مؤثر بنانے کا ایک بہترین موقع ہے۔
جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف صاحب رحمانی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور خانقاہ رحمانی مونگیر کی شاندار علمی روایت کو بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر نے ہر زمانے میں فکری اور تہذیبی چیلنجوں کا حکمت و بصیرت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور یہ روشن روایت آج امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں مزید پختگی اور استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس تربیتی ورکشاپ کو مدارس کے تعلیمی نظام میں تعمیری تبدیلی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
علمی نشستوں کی ابتداء میں ناظم وفاق حضرت مولانا و مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے وفاق کے مرکزی کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق دینی مدارس کے تعلیمی نظام کا مرکزی محور ہے جو نصابی ہم آہنگی، تعلیمی معیار اور امتحانی نظام کو مستحکم بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مدارس اور وفاق کے درمیان مضبوط رابطہ، باہمی تعاون اور مسلسل ابلاغ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے وفاق کو مزید فعال اور مضبوط بنانے پر زور دیا۔
پہلی نشست میں "آلۂ تدریس اور جدید ذرائع و وسائل کا استعمال" کے موضوع پر مولانا و مفتی محمد خالد حسین صاحب نیموی نے اساتذۂ کرام کو جدید تدریسی وسائل سے بھرپور استفادہ کی ترغیب دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آج کے دور میں بلیک بورڈ، پروجیکٹر، اٹلس، کمپیوٹر اور دیگر جدید تعلیمی ذرائع درس و تدریس کو مؤثر، دل نشین اور آسان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری نشست "درسِ نظامی کی تاسیس و ادوار: ایک تجزیاتی مطالعہ" کے عنوان پر منعقد ہوئی جس میں مولانا مفتی ریاض احمد صاحب قاسمی استاذِ حدیث جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر نے درسِ نظامی کی تاریخی بنیادوں، ارتقائی مراحل اور برصغیر میں اس کی بے مثال خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ درسِ نظامی برصغیر کی علمی روایت کا ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش سرمایہ ہے جس کا اصل مقصد علومِ اسلامیہ میں گہری مہارت پیدا کر کے ملت کی علمی اور فکری رہنمائی کرنا ہے۔
اسی نشست میں "بچوں کو مضمون نویسی کیسے سکھائیں" کے موضوع پر مولانا ابو سفیان سعید صاحب ندوی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان و ادب میں مہارت مسلسل مطالعہ اور تحریری مشق ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے اساتذۂ کرام کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ میں مضمون نویسی کا ذوق پیدا کریں، آسان عنوانات کا انتخاب کرائیں، خاکہ سازی اور فہرست سازی کی عادت راسخ کریں اور غلطیوں پر سختی کے بجائے حوصلہ افزائی اور مثبت رہنمائی کا رویہ اختیار کریں۔
اسی نشست میں جامعۃ الازہر مصر کے ممتاز استاذ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فوزی عبد الحمید فاید نے ’’تعلیم و تربیت میں قرآنِ مجید کا منہج‘‘ کے موضوع پر آن لائن علمی محاضرہ پیش کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ قرآنِ کریم انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کا جامع دستور ہے اور اس کا تعلیمی منہج حکمت، تدریج اور کردار سازی پر مبنی ہے۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تدریس کے ساتھ طلبہ کی اخلاقی و روحانی نشوونما کو بھی اپنی ذمہ داری کا حصہ بنائیں۔انہوں نے ورکشاپ پر مدعو کئے جانے پر حضرت امیر شریعت، ناظم جامعہ اور ناظم وفاق کا شکریہ ادا کیا اور وفاق کی اس علمی ورکشاپ کی ستایش کی۔
ڈاکٹر حفظ الرحمٰن صاحب نے تدریس میں طلبہ کی نفسیات کی رعایت کے موضوع پر نہایت فکر انگیز اور مفید محاضرہ پیش کیا۔ انہوں نے اساتذہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ مؤثر تدریس کے لیے طلبہ کے ذہنی رجحانات، فکری استعداد اور نفسیاتی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ اس کے بعد مفتی قیام الدین قاسمی صاحب نے تدریس میں لیسن پلاننگ (Lesson Planning) کی اہمیت پر قیمتی اور معلومات افزا محاضرہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ منظم منصوبہ بندی تدریسی عمل کی کامیابی کی بنیاد ہے، جس کے ذریعے اسباق کی ترتیب، تعلیمی اہداف کے تعین اور طلبہ تک مفاہیم کی مؤثر ترسیل میں غیر معمولی مدد ملتی ہے۔
ورکشاپ میں پہلی اور دوسری نشست کی نظامت کے فرائض ناظم وفاق مولانا و مفتی محمد ثناء الہدیٰ صاحب قاسمی نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے اور شرکاء کو ہر نشست کا نفسِ مضمون مختصراً بھی سمجھاتے رہے۔وہیں تیسری اور چوتھی نشست کی نظامت جناب مولانا سیف الرحمٰن صاحب ندوی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے انجام دی۔
شرکاء نے ان تمام علمی و تربیتی نشستوں کو نہایت مفید، فکر انگیز اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا۔ اس تربیتی اجتماع کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ امارتِ شرعیہ اور وفاق المدارس کی اس سنجیدہ اور طویل المدت کوشش کا عملی اظہار ہے جس کا مقصد وابستہ مدارس میں تعلیمی معیار کو بلند کرنا، تدریسی فضیلت کو فروغ دینا، اداراتی ہم آہنگی کو مستحکم بنانا اور مدارس کو عصری تعلیمی چیلنجوں کا مؤثر جواب دینے کے قابل بنانا ہے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ یہ اجتماع مدارس کے نظامِ تعلیم و تربیت کو مزید مؤثر، معیاری اور نتیجہ خیز بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پروگرام کا آغاز جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے شعبہ دارالحکمت کے استاذ قاری وسیم اختر صاحب قاسمی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد جامعہ رحمانی کے طالبِ علم محمد انصار رحمانی نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو عشقِ نبویؐ کی روحانی خوشبو سے معطر کر دیا۔یہ تربیتی ورکشاپ 11 جون تک جاری رہے گا جس میں 10 جون کو ورکشاپ کی بقیہ نشستیں ہونگی اور 11 کو انتخابی اجلاس عمل میں آئے گا۔


0 تبصرے