آج کوچنگ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا
آج کوچنگ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دل کو خوشی اور ماضی کی ایک خوبصورت یاد سے بھر دیا۔
میری ایک طالبہ شبینہ بابو کی چند دن قبل، 12/06/2026 بروز جمعہ کو شادی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ دو دن قبل اپنے سسرال سے اپنے گھر واپس آئی۔ کل پورا دن اس نے آرام کیا، پھر اپنے شوہر سے اجازت طلب کی کہ وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے۔ اس کے شوہر نے بھی خوش دلی سے اجازت دے دی۔
آج صبح جب وہ میری کوچنگ میں حاضر ہوئی تو میں نے مسکرا کر پوچھا:
"شبینہ بابو! کیا بات ہے، کیسے یاد آگئی؟"
اس نے نہایت ادب اور اعتماد کے ساتھ جواب دیا:
"حضرت معین! میں اپنے شوہر سے اجازت لے کر آئی ہوں، میں ابھی آپ کے پاس پڑھوں گی۔"
اس کا یہ جواب سن کر میرے دل میں فوراً اپنے استاذِ محترم حضرت مولانا محمد امتیاز صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک نصیحت اور واقعہ تازہ ہوگیا۔
حضرت فرمایا کرتے تھے:
"میری اپنی شادی جمعہ کے دن ہوئی، اور ہفتہ کے دن فجر کی نماز میں نے مدرسے میں باجماعت ادا کی۔"
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ نکاح انسان کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن علم، عبادت اور اپنے مقصدِ زندگی سے تعلق بھی قائم رہنا چاہیے۔ ایک سمجھدار گھرانہ وہی ہے جہاں دین، تعلیم اور ذمہ داریوں میں خوبصورت توازن پیدا کیا جائے۔
آج شبینہ بابو کا اپنے شوہر سے اجازت لے کر علم کے سفر کو جاری رکھنا مجھے اسی تربیت کی جھلک محسوس ہوئی جو ہمارے بزرگ اساتذہ دیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد بھی اگر علم کی محبت باقی رہے اور شوہر بھی اس راستے میں تعاون کرے تو یہ گھر اور معاشرے دونوں کے لیے خیر و برکت کا سبب بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ شبینہ بابو کی ازدواجی زندگی میں محبت، سکون اور برکت عطا فرمائے، اور اسے علمِ نافع حاصل کرنے والی بنائے۔ نیز ہمارے مرحوم اساتذہ کی قبروں کو نور سے بھر دے، جنہوں نے ہمیں صرف کتابیں نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔
آمین۔
شکریہ
محبوب نظر صالح پوری
0 تبصرے