بلتستان کی سرزمین اور بلدیاتی انتخابات : ایک تاریخی و سیاسی جائزہ
دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کے دامن میں بسا ہوا بلتستان، اپنے قدرتی حسن اور ثقافتی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی منفرد سیاسی حیثیت کے باعث بھی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ، جو پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کا حصہ ہے، صدیوں سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔ مقامی طور پر یہاں آباد بلتی قوم، جس کا تعلق بنیادی طور پر تبتی النسل مسلمانوں سے ہے، نے اپنی روایات، زبان اور ثقافت کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔ آج بھی یہاں کی زبان، لباس اور رسم و رواج اس کی قدیم تاریخ کی داستان سناتے ہیں۔
موجودہ دور میں اس علاقے کی اہمیت مسلح افواج کے لیے اسٹریٹجک حیثیت کی حامل ہے۔ ماضی میں سیاچن تنازع اور کارگل جنگ جیسی کشمکش اس خطے کی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آج بھی جموں و کشمیر کی ریاست کے ایک حصے کے طور پر زیرِ انتظام یہ علاقہ، بلدیاتی نظام کے نفاذ کی کوششوں میں مرکز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
گلگت بلتستان کے بلدیاتی انتخابات کی کہانی ایک لمبے تعطل کی کہانی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کے مطابق اس خطے میں آخری بار بلدیاتی انتخابات 2004 میں ہوئے تھے، جس کے بعد تقریباً 22 سال کا طویل عرصہ ان انتخابات سے محروم رہا۔ اس طویل تاخیر کی وجوہات میں مشکل موسمی حالات، انتظامی مسائل اور بعض اوقات مذہبی ایام کا حوالہ بھی شامل رہا۔
جون 2026 میں اعلان کیا گیا کہ طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات 2 اگست 2026 کو ہوں گے۔ اس شیڈول کے مطابق 9 سے 15 جون تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے، اور 6 جون کو ریٹرننگ افسران کی جانب سے پبلک نوٹس جاری کیے گئے۔ ان انتخابات میں یونین کونسلز، ضلع کونسلز، ٹاؤن کمیٹیز، میونسپل کمیٹیز اور میونسپل کارپوریشنز کے لیے ووٹنگ ہوئی، جس سے مقامی حکومت کے تمام درجوں کا احاطہ کیا گیا۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں تھا جب بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا تھا، اس سے قبل 14 فروری 2026 کو انتخابات کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، لیکن شدید موسمی حالات کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
بلدیاتی انتخابات کو درپیش مشکلات صرف موسمی نہ تھیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی مذہبی مہینوں کے دوران انتخابات کرانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان خدشات کے باعث انتخابات میں مزید تاخیر کا خدشہ تھا، جس کی وجہ سے ووٹنگ ستمبر یا اکتوبر تک ملتوی ہو سکتی تھی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے ان کے انعقاد کے لیے پرعزم ہونے کا اعلان کیا۔ گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ان انتخابات کا انعقاد نہ ہونا جمہوری عمل میں ایک بڑی کمی تھی، اور ان کا انعقاد علاقے کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔
بلدیاتی نظام کا قانونی پس منظر مختلف مراحل سے گزرا ہے۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2014 اس ضمن میں ایک اہم قانونی دستاویز ہے، اگرچہ اس کی رو سے عملاً کوئی نظام یا الیکشن عمل میں نہیں آیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت ہی 2026 کے انتخابات کے لیے حدود بندی اور ڈی مارکیشن کا کام مکمل کیا گیا۔ اس نئے نظام میں شہری علاقوں کے لیے ٹاؤن کمیٹیز، میونسپل کمیٹیز اور میونسپل کارپوریشنز کا نیا ڈھانچہ متعارف کرایا گیا، جس سے پہلے کے صرف ضلعی اور یونین کونسلز کے نظام میں تبدیلی لائی گئی۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاس تھی کہ اب بلدیاتی نظام کو مزید موثر اور شہری ضروریات کے مطابق بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
بلتستان کا بیشتر حصہ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہے، جہاں اضلاع دور دراز اور پھیلے ہوئے ہیں۔ اتنے بڑے جغرافیے میں جہاں انتظامی یونٹ آپس میں دور ہیں، وہاں مقامی حکومتوں کی موجودگی اور زیادہ ضروری ہو جاتی ہے۔ اس پس منظر میں بلدیاتی انتخابات صرف ووٹنگ کا عمل نہیں، بلکہ یہ عوام کو نچلی سطح پر فیصلہ سازی اور مقامی ترقی میں براہِ راست شمولیت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں گلگت بلتستان کے سیاسی منظر نامے میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس خطے میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جس میں بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن چکی ہے۔ انتخابات کے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کو دس جبکہ مسلم لیگ ن کو چھ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔
جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور میں بلدیاتی نظام کو بھی خاص اہمیت دی۔ مسلم لیگ ن کے منشور میں واضح طور پر مقامی حکومت کے انتخابات کا ذکر تھا، جن کا مقصد بنیادی سطح پر حکمرانی کو مضبوط کرنا تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ بلدیاتی نظام کو اب صرف ایک ضرورت کے طور پر نہیں، بلکہ جماعتوں کی سیاسی ترجیحات کا حصہ بھی سمجھا جانے لگا تھا۔
بلدیاتی انتخابات کے باوجود بلتستان کے لیے کئی چیلنجز باقی ہیں۔ خطے کو آج تک مکمل آئینی حیثیت حاصل نہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے انتخابات صرف مقامی حکومت کے لیے نہیں بلکہ خودمختاری، بنیادی حقوق اور آئینی تحفظ جیسے وسیع تر مسائل سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق خطے کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے، اور یہ 72,971 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، لیکن پھر بھی اسے صوبے کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق انتظامی ڈھانچہ مقامی ضروریات کے مقابلے میں غیر متناسب طور پر بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے گورننس میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ 22 سال کے طویل تعطل کے بعد بالآخر بلدیاتی انتخابات کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ انتخابات کے انعقاد سے عوام کو نچلی سطح پر اپنے نمائندے چننے اور مقامی مسائل حل کرنے کا موقع ملے گا۔ مسلم لیگ ن نے اپنے منشور میں صاف پانی کے منصوبوں سے لے کر خواتین یونیورسٹی کے قیام تک 50 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا وعدہ کیا، جبکہ عدالتی اصلاحات اور شہری ٹرانزٹ سسٹم کی ترقی بھی ان منصوبوں میں شامل تھی۔
بلتستان کی سرزمین نے صدیوں سے ثقافتی تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہاں کے عوام کو بھی اپنے علاقے کی ترقی میں براہِ راست شریک ہونے کا موقع ملے۔ 2026 کے بلدیاتی انتخابات اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ان انتخابات کے ذریعے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ممکن ہو سکتی ہے، تو بلتستان کے دور افتادہ دیہات سے لے کر اسکردو اور شگر جیسے قصبوں تک، عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ بلدیاتی نظام کی کامیابی کا انحصار اب اس بات پر ہوگا کہ نئی منتخب شدہ مقامی حکومتوں کو کتنے حقیقی اختیارات اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، اور کیا یہ عمل واقعی جمہوری اقدار کے مطابق آگے بڑھ پاتا ہے۔
از قلم:
طہ علی تابشٓ بلتستانی
حوالہ: گوگل اسکالر
0 تبصرے