Ticker

6/recent/ticker-posts

جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں

جب اہلِ خرد کی باتوں پر کچھ جاہل شور مچاتے ہوں


سندھ کی سرزمین کا وتایو فقیر کا انداز سب سے نرالا تھا۔
ان کی گہری ترین دانش کتابوں میں نہیں، بلکہ عوامی دانش کا ایک ایسا کردار ہے جس کی باتیں بظاہر سادہ، اور دیہاتی معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے اندر روحانیت کے گہرے راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں ایک دن ان کی والدہ نے کہا: " بیٹا، کہیں سے آگ لے آؤ تاکہ چولہا جل سکے۔"

وتایو کافی دیر بعد واپس آئے اور بولے: "امی، آگ کہیں نہیں ملی۔"
ماں نے جھنجھلا کر کہا: "اگر کہیں نہیں ملتی تو جاؤ جہنم سے لے آؤ!"

وتایو مسکرائے اور بولے: 
" امی، جہنم میں بھی آگ نہیں ہوتی۔ لوگ اپنی آگ دنیا سے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔

لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ نفرت کی یہ آگ کہاں سے آئی؟
 معاشی بحران کی یہ تپش کس نے پیدا کی؟
اداروں اور سیاست میں عدم اعتماد کے یہ شعلے کس نے بھڑکائے؟
 یہ صوبائیت کی تقسیم اور انتشار کی یہ آگ کس جہنم سے درآمد ہوئی؟
اگر وتایو فقیر سے پوچھا جاے تو وہ یہی جواب دیتے:
"یہ آگ کہیں باہر سے نہیں آئی۔ یہ وہی آگ ہے جو لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے جمع کی، اپنے دلوں میں پال لی، اپنے مفادات کے ایندھن سے بھڑکا دی، اور پھر پورے گلشن میں پھیلا دی۔"

وتایو فقیر کی حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ جہنم کوئی دور دراز مقام نہیں جہاں سے آگ منگوائی جاتی ہو۔ جہنم کی آگ اکثر یہیں تیار ہوتی ہے: ناانصافی کی لکڑیوں سے۔
 جھوٹ کے تیل سے،
 تعصب کی ہوا سے
 اور اقتدار کی چنگاری سے۔
خالد

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے