Ticker

6/recent/ticker-posts

ایک قیدی پرندے کی آب بیتی

ایک قیدی پرندے کی آب بیتی

تحریر: آمینہ یونس ،بلتستانی
میں ایک پرندہ ہوں۔ میرا نام کوئی نہیں جانتا، حد تو یہ کہ اب میں خود بھی اپنا نام بھول چکا ہوں۔ اور میرا پر کٹا ہوا ہے۔ پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ میں خوبصورت ہوں، اور ابنِ آدم حسن پرست واقع ہوا ہے۔ اس لیے وہ ہر خوبصورت چیز کو اپنی دسترس میں دیکھنا چاہتا ہے۔ جب وہ اسے اپنی دسترس میں لے آتا ہے تو وہ اس کے پر کاٹ کر پنجرے میں بند کر دیتا ہے تاکہ اس کا بیرونی دنیا سے تعلق ختم ہو جائے اور وہ صرف اسی کا ہو کر رہ جائے۔ ایک قیدی ہونے سے پہلے میری دنیا بہت حسین تھی۔ میں نیلے آسماں تلے سفر کیا کرتا تھا اور اپنے ہم جولیوں کے ساتھ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اڑا کرتا تھا۔ جہاں حسین جزیرہ نظر آتا، کھیت کھلیان دیکھتا، وہاں اتر کر مزے مزے کی چیزیں کھایا کرتا تھا اور ایک دوسرے سے ہنسی مذاق، کسانوں کو تنگ بھی کرتے۔ ان سب میں ہمیں بہت مزہ آتا۔ ہم پانی کے لیے خوبصورت دریاؤں، سمندروں اور ندی نالوں کا رخ کرتے۔ جہاں ٹھنڈا ٹھار پانی پی کر اپنے رب کا شکر ادا کرتے۔ یہ نہ سمجھنا کہ انسان ہی رب کی حمد و ثنا کرتا ہے۔ سب چرند پرند بھی اپنے خالق کو اتنا ہی یاد کرتے ہیں جتنا انسان، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے ہمارے لیے رزق کھلے عام کیا ہے۔ ہم جب چاہیں، جہاں سے چاہیں اپنا رزق حاصل کر سکتے ہیں۔ اور ہمیں پر دے کر ہم پر بے شمار احسان کیا ہے۔ بات ہو رہی تھی ہم جولیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کی۔ میری ہم جولیاں مجھ سے کہتے تھے: "تمہیں اللہ نے بہت حسین بنایا ہے۔ اللہ کرے تمہارا نصیب بھی اتنا ہی حسین ہو۔" اور میں دل ہی دل میں آمین کہتا۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ میں سب کو چھوڑ کر اکیلا اکیلا گھومنے نکلا تھا۔ دل بے وجہ اداس ہو رہا تھا اور موسم بھی ابر آلود تھا۔ سب نے کہا "مت جاؤ، کچھ دیر رک کر ساتھ جائیں گے"۔ مگر میں نہ مانا۔ میرا دل اکیلے جانے کو کر رہا تھا، سو میں نے پرواز بھری اور بہت دور تک چلا آیا۔ ایک گھنے جنگل کو کراس کرنے لگا تو مجھے کچھ لوگ دکھائی دیے جو ہاتھوں میں بندوق لیے چھپ چھپ کر آگے بڑھ رہے تھے۔ میں نے بہت کوش کی خود کو چھپانے کی، مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: "وہ دیکھو، بہت خوبصورت پرندہ ہے۔ اسے مارو نہیں، ہم اسے پکڑتے ہیں۔" سب مل کر میرے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ میں تھر تھر کانپ رہا تھا اور پھدک پھدک کر خود کو بچانے کی پوری کوش کر رہا تھا، مگر میں اکیلا تھا۔ وہ دس بارہ لوگ مجھے پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ سب کوش کر رہے تھے کہ میں ان کے حصے میں آؤں، مگر ان میں سے ایک جو سرغنہ معلوم ہوتا تھا، اس نے ڈپٹ کر سب کو چپ کرایا اور کہا: "میرے پاس ایک خوبصورت پنجرہ ہے۔ یہ میں لے جاتا ہوں تاکہ اس پنجرے کا حسن بڑھ جائے۔" باقی سب چپ ہو گئے۔ اس کے آگے کسی کو بولنے کی مجال نہ ہوئی، اور وہ مجھے لے آیا۔ میں ایک عرصے سے قید میں ہوں۔ یوں میری ہم جولیوں کے مطابق میں خوبصورت تھا، مگر میرا نصیب؟ یہ لوگ مجھے کھانے کو اچھا دیتے ہیں، میرا خیال رکھتے ہیں، مگر یہ مجھے سکون نہیں دے سکتے۔ میری روح کی بجھتی روشنی انہیں نظر نہیں آتی۔ پنجرے میں رہنا بھی کیا زندگی ہے! جہاں سونا بھی کھلائے مگر قید، قید ہی ہے نا۔ نہ کھلا آسمان ہے، نہ اونچی نیچی ڈھلوان ہے، نہ بہتے دریا، نہ ندی نالے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ہم جولیاں جن کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، ایک دوسرے سے راز کی باتیں شیئر کیا کرتا تھا۔ بہت زیادہ حسین ہونا بھی اچھا نہیں ہے۔ زندگی بھر قیدِ بامشقت اٹھانی پڑتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے