غزل مقامِ جنوں سے گزر کے ہوتی ہے
غزل
غزل مقامِ جنوں سے گزر کے ہوتی ہے
یہ زندگانی امر جیسے مر کے ہوتی ہے
کبھی کبھی جب امڈتے ہیں ابر یادوں کے
تو پھر یہ بارش ـ غم آنکھ بھر کے ہوتی ہے
دلوں کی خاک جو چھانو تو پھر یہ کھلتی ہے
کہ بات جو پس۔ پردہ سفر کے ہوتی ہے
یہ روشنی جو مری روح میں سدا سے ہے
وہ اس پاس تمہاری نظر کے ہوتی ہے
یہ جو چمک ہے مرے لفظ ـ التجا کی دوست
اثر پذیر یہ دل میں اتر کے ہوتی ہے
بتاتی ہے یہ بیابانی حال ـ دل میرا
بچھی ہوئی یہ جو آنگن میں گھر کے ہوتی ہے
ہمیں تو دھوپ نے بھی دی ہے ایسی اک چھاوں
کہ ایسی چھاوں تو نیچے شجر کے ہوتی ہے
یہ کوئی خوف نہیں بلکہ ہے ادب تیرا
جو گفتگو اے میاں تجھ سے ڈر کے ہوتی ہے
یہ شاخچوں پہ دھرے خوش نما ہی لگتے ہیں
گلوں کی خوشبو وگرنہ بکھر کے ہوتی ہے
کسی کو کچھ نہیں ملتا نبھا کے عہد ـ وفا
دعا قبول کسی کی مکر کے ہوتی ہے
تنویرِ سیٹھی ایڈووکیٹ
0 تبصرے