حسد — اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر اعتراض
آپ نے اکثر اپنے رشتہ داروں میں، دوستوں میں، دفتر میں، کاروبار میں یا روزمرہ کی زندگی کے کسی اور دائرے میں یہ دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ آپ سے بلاوجہ خفا رہتے ہیں۔۔ ان کے رویّوں میں ایک عجیب سی تلخی ہوتی ہے۔ وہ آپ کی خوشی اور آپ کی کامیابی پر خوش نہیں ہوتے بلکہ خاموش ہو جاتے ہیں، اور آپ کی موجودگی انہیں ناگوار گزرتی ہے، حالانکہ آپ نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا ہوتا۔
ایسے میں ہر حساس اور نرم دل انسان دُکھی ہو جاتا ہے ، اور وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ آخر مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہوئی ہے؟ میں نے کبھی کسی کا کوئی حق نہیں مارا، کبھی کسی کے خلاف کوئی سازش نہیں کی، کبھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، پھر آخر یہ لوگ مجھ سے اس قدر الجھن کیوں محسوس کرتے ہیں؟
کبھی کبھی تو انسان خود اپنے بارے میں ہی شک کرنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید واقعی مجھ میں ہی کوئی خرابی ہے، شاید میری شخصیت میں ہی کوئی نقص ہے، یا شاید میرا انداز ہی لوگوں کو پسند نہیں آتا۔
مگر جیسے جیسے وقت گُزرتا جاتا ہے، عمر، مشاہدہ اور زندگی کے تجربات کی بنیاد پر آہستہ آہستہ ان سارے معاملات کی حقیقتیں آپ پر آشکار ہونے لگتی ہیں، اور پھر آپ کو یہ سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ
ہر نفرت کا تعلق آپ کے بُرے ہونے سے نہیں ہوتا۔
ہر مخالفت کی وجہ آپ کی غلطی نہیں ہوتی۔
اور ہر حسد کے پیچھے آپ کا کوئی قصور بھی نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا وجود ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی ایک الگ ہی پہچان رکھتے ہیں۔ وہ خود سے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، مگر پھر بھی سب میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے اندر ایک فطری کشش، ایک الگ تاثیر اور ایک ایسا وقار ہوتا ہے جو انہیں لوگوں کے ہجوم میں بھی سب سے الگ رکھتا ہے۔
خاص طور پر وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے منفرد صلاحیتوں اور تخلیقی قوت سے نوازا ہوتا ہے، وہ اکثر حسد کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور اس کی وجہ بھی بہت سادہ ہےاور سمجھ میں آنے والی ہے۔
دولت کا مقابلہ دولت سے کیا جا سکتا ہے۔
عہدے کا مقابلہ عہدے سے کیا جا سکتا ہے۔
اثر و رسوخ کا مقابلہ اثر و رسوخ سے کیا جا سکتا ہے۔
مگر کسی کی صلاحیت اور تخلیقی طاقت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہوتی ہے، اور اللہ کی تقسیم سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ کی عطا کردہ صلاحیت، کسی شخصیت کا فطری اثر اور تخلیقی قوت ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ چھینا جا سکتا ہے اور نہ ہی مصنوعی طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بعض لوگ کسی ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جو اپنی فطری خوبیوں کی بنیاد پر نمایاں نظر آتا ہے تو بعض کمزور دل اور کم ظرف لوگ حسد میں مُبتلہ ہو جاتے ہیں۔
پھر یہی حسد آہستہ آہستہ بغض میں بدلتا ہے، بغض کینہ بن جاتا ہے اور کینہ نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ آپ بُرے ہیں۔
وجہ یہ ہوتی ہے کہ آپ کی شخصیت اور آپ کی موجودگی انہیں ان کے اپنے اندر کی کمی کا احساس دلاتی ہے۔ آپ کا اعتماد انہیں اپنے اندر کے خوف یاد دلاتا ہے۔ آپ کا اطمینان انہیں اپنے اندر کی بے چینی پر مار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کی محنت سفر اور کامیابیاں انہیں اپنے ٹھہراؤ کا احساس دلاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات آپ کا سب سے بڑا مخالف وہی شخص بن جاتا ہے جس کا آپ نے کبھی بھی کوئی نقصان نہیں کیا ہوتا اور نہ ہی ایسا کبھی سوچا ہوتا ہے۔ لیکن اسکے باوجود بھی کچھ لوگ آپ سے نفرت اور حسد صرف اس وجہ سے کرتے ہیں کہ آپ کی موجودگی ان کے وجود کو
چھوٹا کر دیتی ہے۔
یہ انسانی نفسیات کا ایک تلخ پہلو ہے۔
ویسے بھی بُنیادی طور پر حسد اللہ تعالٰی کی تقسیم پر اعتراض کرنے کا دوسرا نام ہے ۔ اور اگر کوئی شخص اللہ تعالٰی کی تقسیم پر ہی اعتراض کر رہا ہو تو اُسکا علاج کسی کے پاس نہیں ہے۔
لہٰذا زندگی میں لوگوں سے ملنے والی ہر نفرت کو اپنی ہی کسی غلطی کی وجہ سے نہ سمجھا کریں، چھوٹے ذہن اور کم ظرف لوگوں کی طرف سے ہونے والی تنقید کو سچ ماننے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ، اور ہر حسد کا بوجھ اپنے دل پر نہ اُٹھایا کریں۔
اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے اور اپنی زندگی دیانت داری کیساتھ گزار رہے ہیں تو لوگوں کی ہر ناراضگی کو اپنی خامی مت سمجھا کریں۔
کیونکہ بعض اوقات مسئلہ آپ نہیں ہوتے بلکہ
مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ حاسد قسم کے لوگوں کو ان کی حقیقت یاد دلا دیتے ہیں, اور آپ کی شخصیت کے سامنے اُنہیں اپنا وجود چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔
ندیم گُلانی
0 تبصرے