وہ کومل کنچن کامنی : نظم اردو
ایک نظم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کومل کنچن کامنی،
مکھ جوبن کا استھان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سَمّان
مِرے بچپن کا وہ عشق تھا
مجھے آج بھی ہے وہ یاد
دل آیا ناں پھر کسی پر
اک اس گوری کے بعد
وہ جیون میرے شہر کا
وہ میری گلی کی شان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سَمّان
اس شیتل شیتل زلف میں
کئی سؤرگوں کا بسرام
میں شاعر اس کے شہر کا
اور جنموں کا بدنام
وہ آنکھ بڑی محتاط تھی
میں جس کا بندی وان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سمّان
وہ جٹی ہیر سلیٹڑی
کبھی آئی نہ اپنے دیس
ہم پھرے ہیں جس کے عشق میں
بن جوگی دیس پردیس
وہ راج کماری سندری
وہ خوشبو بھری اٹھان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سَمّان
مِری روح میں اس کا عشق ھے
مِری آنکھ میں اس کی بھال
مِرے اندر خوشبو اسی کی
دل غم سے مالا مال
وہ میری سچی شاعری
مِرے گیتوں کی مسکان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سَمّان
اب یوں ھے اس کے ھجر میں
گئی اپنی عمر بِیت
سر چاندی چاندی ہو گیا
یہ ساٹھ برس کی پریت !
یہ سچی کتھا ھے دوستو
نہیں اس کا ملا نشان
وہ روپ نگر کی روشنی،
وہ آنکھوں کا سَمّان
یونس متین
0 تبصرے