حجاب ناول از قلم آمنہ خان
تبصرہ از قلم طاہر یعقوب
یہ ناول محض ایک سرسری داستانِ عشق نہیں بلکہ تزکیۂ روح اور احیائے قلب کا ایک ہمہ گیر سفرنامہ ہے، جس میں حرارتِ محبت اور سنجیدگیِ اصلاحِ مذہب اس انداز سے باہم آمیختہ ہو گئی ہیں کہ قاری اس کے طلسمِ اثر سے خلاصے پانے میں خود کو عاجز پاتا ہے۔ مصنف نے عشق کو محض ایک عارضی ہیجان یا جذباتی واردات کے قالب میں نہیں ڈھالا بلکہ اسے ایک مقدس ودیعت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسا لطیف و پاکیزہ جذبہ جو انسان کو ظلماتِ ذات سے نکال کر انوارِ حقیقت کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔
کہانی کے تانے بانے میں جہاں نزاکتِ محبت ایک خاموش چنگاری کی صورت دل کے نہاں خانوں میں سلگتی رہتی ہے، وہیں پیغاماتِ اصلاحِ نفس نہایت مؤثر انداز میں قاری کے شعور و وجدان پر دستک دیتے ہیں۔ کرداروں کی داخلی کشاکش، ان کے جذباتی مدّ و جزر، اور روحانی ارتقا کو اس مہارت سے رقم کیا گیا ہے کہ قاری غیر محسوس طور پر ان کے احوال کا حصہ بن جاتا ہے۔ بعض مقامات پر بیان کی شدت اس درجہ عروج پر پہنچ جاتی ہے کہ اشک بے اختیار پلکوں کی دہلیز سے چھلک پڑتے ہیں اور دل ایک لطیف مگر گہری کسک سے لبریز ہو اٹھتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ اس ناول کے مطالعے نے کئی فراموش شدہ یادوں کو ازسرِ نو زندہ کر دیا اور متعدد بار دیدۂ نم کا سامنا کرنا پڑا۔ مصروفیاتِ حیات اس درجہ غالب رہی تھیں کہ گزشتہ دو برس سے کسی ناول کے مطالعے کی فرصت میسر نہ آ سکی، اگرچہ اس دوران کتبِ دینیہ و اصلاحی سے شغف برقرار رہا۔ طویل وقفے کے بعد یہ مکمل ناول پڑھنا ایک خوشگوار اور روح پرور تجربہ ثابت ہوا، جس نے دل کے تاروں کو چھیڑ کر ایک دیرپا اثر مرتسم کیا۔ اس موقع پر اس رفیقِ قلم کا تہہِ دل سے ممنون ہوں جس نے اس ناول کی جانب رہنمائی فرما کر میرے ذوقِ مطالعہ کو تازگی بخشی۔
0 تبصرے