Ticker

6/recent/ticker-posts

جوش کے مرثیۂ ’خاک‘ میں بگ بینگ کے تصورات

جوش کے مرثیۂ ’خاک‘ میں بگ بینگ کے تصورات

ڈاکٹر محمد عادل فرازؔ علی گڑھ

اردو شاعری میں جوش ملیح آبادی کا شمار اُن نابغۂ روزگار شاعروں میں ہوتا ہے جن کا تخیل محض انسانی جذبات، سماجی مسائل اور سیاسی انقلابات تک محدود نہیں بلکہ کائنات، تخلیقِ عالم، زمان و مکان اور وجود کے ازلی اسرار تک پھیلا ہوا ہے۔ "شاعرِ انقلاب" کی حیثیت سے شہرت پانے والے جوش کے یہاں جہاں فکری جرأت، جذباتی شدت اور زبان و بیان کی شکوہ سنجی ملتی ہے، وہیں ایک گہرا کائناتی شعور بھی جلوہ گر نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری قاری کو زمین کی محدود فضا سے اٹھا کر کائنات کی بے کنار وسعتوں میں لے جاتی ہے اور اسے تخلیقِ کائنات کے بنیادی سوالات سے روبرو کرتی ہے۔

جوش ملیح آبادی کے غیر مطبوعہ مرثیہ "خاک" کے بعض اشعار جدید سائنسی نظریۂ بگ بینگ کی حیرت انگیز ترجمانی کرتےہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جوش ملیح آبادی نے باضابطہ سائنس کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی نہ ان کا مقصد سائنسی نظریات کی تشریح کرنا تھا،لیکن پھر بھی لا شعوری طورپروہ اپنے مرثیہ میں ایسے اشعار منظوم کر دیتے ہیں جو بگ بینگ کے نظریات کے ترجمان نظر آتے ہیں۔

تاریخ شاہد ہے کبھی کبھی عظیم تخلیقی ذہن بعض اوقات وجدان کی ایسی منزلوں تک رسائی حاصل کر لیتا ہے جہاں شاعری اور سائنس ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ مرثیہ "خاک" کے بعض مناظر آج کے قاری کو کائنات کی پیدائش اور ارتقا کے جدید تصورات سے ہم آہنگ محسوس ہوتے ہیں۔

جدید کاسمولوجی کے مطابق کائنات تقریباً 13.8 ارب سال قبل ایک نہایت گرم اور انتہائی کثیف حالت سے وجود میں آئی۔ اس ابتدائی لمحے کے بعد کائنات مسلسل پھیلتی رہی اور وقت گزرنے کے ساتھ مادہ، کہکشائیں، ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ گیورگ لیمتر(Georges Lemaitre)، الیگزنڈر فرائیڈمین (Alexander Friedmann)اور جارج گیماو(George Gamow) جیسے سائنس دانوں نے اس نظریے کی بنیاد رکھی، جبکہ ایڈون ہبل (Edwin Hubble)کے مشاہدات اور بعد ازاں کائناتی مائیکروویو پس منظر کی دریافت نے اسے مزید مستحکم کیا۔ آج جدید فلکیاتی آلات ابتدائی کائنات کے مزید شواہد فراہم کر رہے ہیں۔


مرثیہ "خاک" کی ایک دلچسپ ادبی تاریخ بھی ہے۔ یہ مرثیہ تحریری صورت میں دستیاب نہیں تھا بلکہ جوش نے اسے ایک مجلس میں پڑھا تھا جس کو اس وقت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پروفیسر ضمیر حیدر نقوی کے مطابق سامعین کی داد و تحسین اور مسلسل واہ واہ کے باعث بہت سے اشعار میں آواز واضح سمجھ میں نہیں آتی۔لیکن پھر بھی ڈاکٹر ہلال نقوی نے اس ریکارڈنگ کی مدد سے مرثیہ کو مرتب کر کے اپنی کتاب "جوش کے انقلابی مرثیے" میں شامل کیا اور ادبی دنیا کو اس غیر مطبوعہ شاہکار سے متعارف کر وایا۔
مرثیہ کے پیش کردہ اشعار ملاحظہ کریں:

ہاں قلم پیچ و تاب و ارتقاء پر ایک نظر
شاعری کا رنگ برسا علم کے رخسار پر
  
اور بنا دے فکر کے ذرات کو لعل و گوہر
اس نری سیلی کٹھیلی بات میں بھر دے شکر
 
سرمئی سطروں سے زلف بوئے یار آنے لگے
فرش کاغذ پر جوانی رقص فرمانے لگے
  
یہ زمیں جس میں عناصر کی ہے اتنی ریل پیل 
جس میں کھیلا جا رہا ہے زندگی کا آج کھیل
  
کیا خبر کسی دن پڑی تھی اس کرے کی داغ بیل
کب ہوا تھا تند خو اضداد میں یہ ہیل میل

سوچتا ہوں، عمر جب اس حلقہ ایجاد کی 
سانس رک جاتی ہے گھبرائے ہوئے اعداد کی
  
تھا وہ خار و گل کی یکجائی کا دور شکریں
جب یہ تارے یہ مہ و خورشید و افلاک و زمیں

ایک ہی گنبد میں رقصاں تھے بطرز دلنشیں
کیوں ہوئی ان میں جدائی، کچھ پتہ چلتا نہیں 

دفعتاً گنبد پھٹا تارے گریزاں ہو گئے
پھول گلدستے میں جتنے تھے، پریشاں ہو گئے

آسماں پر دفعتاً گلکاریاں اُڑنے لگیں
دیکھتے ہی دیکھتے ضو باریاں اُڑنے لگیں

بارگاہ خواب پر بیداریاں اُڑنے لگیں
بجلیاں غلطاں ہوئیں چنگاریاں اُڑنے لگیں

ایک لیں میں ڈبکیوں پر ڈبکیاں کھانے لگی 
گنبد گردوں سے دُوں دُوں کی صدا آنے لگی

ان اشعار میں شاعر زمین کو عناصر کے ایک عظیم اجتماع اور زندگی کے مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔ جدید سائنس بھی یہی بتاتی ہے کہ زمین پر موجود بیشتر عناصر ستاروں کے اندر ہونے والے جوہری تعاملات کا نتیجہ ہیں۔ "عناصر کی ریل پیل" دراصل مادّی کائنات کے اسی تنوع کی شعری تعبیر معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح "حلقۂ ایجاد" کی عمر پر غور کرتے ہوئے شاعر جس حیرت اور استعجاب کا اظہار کرتا ہے، وہ کائنات کی اربوں سالہ تاریخ کے تصور سے قریب تر محسوس ہوتا ہے۔

مرثیے کا سب سے اہم اور حیرت انگیز حصہ وہ ہے جہاں جوش کائنات کی ابتدائی وحدت اور بعد کی تفریق کا نقشہ کھینچتے ہیں:

"تھا وہ خار و گل کی یکجائی کا دورِ شکریں
جب یہ تارے، یہ مہ و خورشید و افلاک و زمیں
ایک ہی گنبد میں رقصاں تھے بطرزِ دلنشیں
کیوں ہوئی ان میں جدائی، کچھ پتہ چلتا نہیں
دفعتاً گنبد پھٹا، تارے گریزاں ہو گئے
پھول گلدستے میں جتنے تھے، پریشاں ہو گئے"

یہاں "ایک ہی گنبد" ایک ایسی ابتدائی وحدت کی علامت بن جاتا ہے جس میں تمام کائناتی اجزا یکجا ہیں۔ جدید بگ بینگ تھیوری بھی کائنات کی ابتدا کو ایک انتہائی متحد اور مرتکز حالت سے وابستہ کرتی ہے۔ "دفعتاً گنبد پھٹا" کی ترکیب بگ بینگ کے بعد ہونے والے عظیم پھیلاؤ کی نہایت مؤثر شعری تصویر پیش کرتی ہے، جبکہ "تارے گریزاں ہو گئے" کہکشاؤں کے ایک دوسرے سے دور ہونے کے عمل کی یاد دلاتا ہے۔ جوش نے اس کائناتی واقعے کو گلدستے کے بکھرنے کے استعارے میں پیش کر کے اسے جمالیاتی حسن عطا کر دیا ہے۔

اسی منظر کی توسیع اگلے اشعار میں ملتی ہے:

"آسماں پر دفعتاً گلکاریاں اُڑنے لگیں
دیکھتے ہی دیکھتے ضوباریاں اُڑنے لگیں
بارگاہِ خواب پر بیداریاں اُڑنے لگیں
بجلیاں غلطاں ہوئیں، چنگاریاں اُڑنے لگیں
ایک لَے میں ڈبکیاں پر ڈبکیاں کھانے لگی
گنبدِ گردوں سے دُوں دُوں کی صدا آنے لگی"

یہ اشعار روشنی، توانائی، حرکت اور ارتعاش کے ایک ہمہ گیر منظر کو مجسم کر دیتے ہیں۔ "ضوباریاں"، "بجلیاں" اور "چنگاریاں" ابتدائی کائنات کی شدید حرارت اور توانائی کی یاد دلاتی ہیں، جبکہ "اڑنے لگیں" کی مسلسل تکرار توسیع، حرکت اور پھیلاؤ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ "دُوں دُوں کی صدا" ایک ایسے کائناتی ارتعاش کی صوتی تصویر معلوم ہوتی ہے جو تخلیقِ عالم کے ابتدائی لمحوں کی گونج بن کر سنائی دیتی ہے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جوش کے یہ اشعار سائنسی نظریے کی شعوری پیش گوئی نہیں بلکہ ایک عظیم شاعر کے تخلیقی وجدان کی پیداوار ہیں۔ ادب اور سائنس کے طریقۂ کار میں بنیادی فرق ہے؛ سائنس مشاہدے، تجربے اور استدلال پر قائم ہوتی ہے جبکہ شاعری تخیل، احساس اور وجدان کی دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے باوجود بعض اوقات شاعر کا تخیل ایسے مناظر تخلیق کر دیتا ہے جو بعد کے سائنسی انکشافات سے حیرت انگیز مماثلت رکھتے ہیں۔

مرثیہ "خاک" کی اصل اہمیت صرف اس میں نہیں کہ اس کے بعض مناظر بگ بینگ کے تصورات سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ جوش کائنات کی تخلیق، انسانی وجود اور کربلا کے پیغام کو ایک ہی فکری سلسلے میں جوڑ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق و باطل کی وہ ازلی کشمکش ہے جو تخلیقِ کائنات کے ساتھ ہی انسانی شعور کا حصہ بن گئی۔ اسی لیے ان کا کائناتی منظرنامہ محض فلکیاتی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی معنویت بھی رکھتا ہے۔

یوں مرثیہ "خاک" اردو مرثیہ نگاری کی روایت میں ایک منفرد تخلیق کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس میں تاریخ، فلسفہ، جمالیات، کائناتی شعور اور انسانی تقدیر کے سوالات ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی کا تخلیقی وجدان کائنات کے اسرار کو جس شعری شان کے ساتھ بیان کرتا ہے، وہ قاری کو حیرت، تفکر اور وجدان کی ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ادب اور سائنس ایک دوسرے کے متوازی چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو اس مرثیے کو محض ایک ادبی متن نہیں بلکہ کائنات اور انسان کے باہمی رشتے پر ایک گہری فکری دستاویز بنا دیتا ہے۔

ڈاکٹر محمد عادل فرازؔ علی گڑھ
ہلال ہاؤس4/114
نگلہ ملّاح سول لائن علی گڑھ
  Dr. MOHAMMAD ADIL FARAZ
HILAL HOUSE
HNO.4/114 JAGJEEVAN COLONY
NAGLAH MALLAH CIVIL LINE
ALIGARH 202002

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے