Ticker

6/recent/ticker-posts

درد سینوں سے کبھی ہوگا نہ کم شبیر ع کا : منقبتِ حسین ع

منقبتِ حسین ع


درد، سینوں سے کبھی ہوگا نہ کم شبیر ع کا
خوں سے بھی لکھو گے گر کاغذ پہ غم، شبیر ع کا

اک طرف عباس ع تھے دل میں قسم کھائے ہوئے
سر نگوں ہرگز نہ ہو پائے عَلَم شبیر ع کا

شرم سے ہے پانی پانی اب بھی دریائے فرات
حشر تک لہریں منائیں گی الم شبیر ع کا

بات بس اتنی گرہ میں باندھ لیں ماتم کناں
خُلد لے جائے گا، ہر نقشِ قدم شبیر ع کا

خون سے پیاسوں کے تَر تھا کربلا کا ریگزار
کیا بتائیں کس طرح گھُٹتا تھا دَم شبیر ع کا

کربلا کی ریت چھو کر عہد لو تم بھی سمیطٓ !
تشنہ لب ماتم کریں گے روز ہم شبیر ع کا

خواجہ ثقلین سمیطٓ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے