منقبتِ حسین ع
درد، سینوں سے کبھی ہوگا نہ کم شبیر ع کا
خوں سے بھی لکھو گے گر کاغذ پہ غم، شبیر ع کا
اک طرف عباس ع تھے دل میں قسم کھائے ہوئے
سر نگوں ہرگز نہ ہو پائے عَلَم شبیر ع کا
شرم سے ہے پانی پانی اب بھی دریائے فرات
حشر تک لہریں منائیں گی الم شبیر ع کا
بات بس اتنی گرہ میں باندھ لیں ماتم کناں
خُلد لے جائے گا، ہر نقشِ قدم شبیر ع کا
خون سے پیاسوں کے تَر تھا کربلا کا ریگزار
کیا بتائیں کس طرح گھُٹتا تھا دَم شبیر ع کا
کربلا کی ریت چھو کر عہد لو تم بھی سمیطٓ !
تشنہ لب ماتم کریں گے روز ہم شبیر ع کا
خواجہ ثقلین سمیطٓ
0 تبصرے