محبت کی پہلی بارش بیمار کر دیتی ہے
دوسری بارش میں مٹی کی خوشبو نہیں آتی لیکن پہلی بارش بیمار کر دیتی ہے ۔۔۔
(یہاں بات بارش کی نہیں ہے)
محبت کی پہلی بارش جب روح کی تپتی ہوئی مٹی پر برستی ہے تو انسان اس کے سحر میں خود کو بھلا بیٹھتا ہے وہ اس کی معصومیت اس کے لمس اور اس کی شدت سے ناواقف ہوتا ہے اسی لیے جب وہ بارش تھمتی ہے اور اپنے پیچھے یادوں کا سیلاب چھوڑ جاتی ہے تو انسان جذباتی طور پر بیمار ہو جاتا ہے وہ ایک ایسے بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی کوئی دوا نہیں ہوتی ایک ایسا صدمہ جو روح کو اندر تک جھنجھوڑ دیتا ہے۔
پھر وقت گزرتا ہے زندگی اپنے معمول پر لوٹتی ہے اور مٹی پر دوبارہ محبت کی دوسری بارش برستی ہے لیکن اس بار سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے وہ مٹی جو کبھی پہلی بارش کے ایک قطرے پر مہک اٹھتی تھی اب بنجر اور سخت ہو چکی ہوتی ہے اب اس میں وہ پہلی سی تڑپ وہ معصومیت اور وہ سحر انگیز خوشبو باقی نہیں رہتی۔
یہ دوسری بارش بری نہیں ہوتی شاید یہ پہلے سے زیادہ مخلص ہو لیکن انسان کا دل اب محتاط ہو چکا ہوتا ہے وہ اب خواب دیکھنے سے ڈرتا ہے پہلی محبت انسان کو بیمار کرتی ہے اور دوسری محبت کا سحر مٹی کی اس خوشبو کی طرح غائب ہو جاتا ہے جسے انسان ہمیشہ کے لیے کھو چکا ہوتا ہے۔
0 تبصرے