سانسوں کی مالا (شعری مجموعہ) سردار سلیم
( اجمالی جائزہ )
اسلم چشتی پونے ( انڈیا)
”سانسوں کی مالا“ میرے پسندیدہ شہر حیدرآباد کے پسندیدہ شاعر سردار سلیم کے کلام کا مجموعہ ہے جسے پا کر مَیں بہت خوش ہُوا اور یہ خوشی مُجھے اُن سنہرے دنوں کے خواب دکھانے لگتی ہے جو کبھی حقیقت تھے - نام پلّی نُمائش میدان میں ہر سال ہونے والی صنعتی نُمائش میں پارچہ فروشی کی دکان ( آپ کا ہینڈلوم ایمپوریم ) لگانے کے لیے وقت سے پہلے اپنے اسٹاف کے ساتھ پہنچ جاتا اور نُمائش ختم ہونے کے بعد دس پندرہ دن وہیں قیام کرتا پھر اپنے وطن ڈِبائی ( ضلع بلند شہر) اترپردیش لوٹ آتا اس تمہید کی ضرورت اس لیے پڑی کہ جہاں ڈِبائی میری جائے پیدائش اور ابتدائی تعلیم اور شاعری کی ابتداء کا شہر ہے وہیں حیدرآباد میرے کاروبار اور شعری تربیت کا شہر رہا ہے وہاں اساتذائے سُخن اور ہم عمر شعراء سے نہ صرف ملاقاتیں رہیں بلکہ ان کے ساتھ مَیں نے انگنت نشستیں اور مُشاعرے بھی پڑھے ادب کا مطالعہ بھی زیادہ تر وہیں ہُوا حیدرآباد کے شعری ماحول نے مُجھے گلے لگایا حوصلے بڑھائے - اس ماحول کے کچھ شاعر دوست اب بھی میری یادوں کا حصّہ ہیں - برسوں پرانے ان کے اچھّے شعر آج بھی مُجھے یاد ہیں خیر ان میں سے بہت سارے اللہ کو پیارے ہو گئے - ماشاء اللہ کچھ اب بھی بقیدِ حیات ہیں انہیں میں سے ایک سردار سلیم بھی ہیں - مخلص انسان ، منفرد شاعر ، ان کی شاعری کی عمر تو زیادہ ہے لیکن اب غالباً چار دہوں سے مخدوم ، اریب اور شاذ تمکنت کے بعد ان کا نام اور کلام حیدرآباد کی سرحدوں کو پھلانگ کر ملک تو ملک بیرونی ممالک میں بھی اپنے جلوے دکھا رہا ہے - مشاعروں کی جان اور ادبی پہچان رکھنے والے سردار سلیم سے جب مَیں 1988 میں حیدر آباد کورٹ کے سامنے اولڈ سٹی میں ملا جب وہ ایک لا اُبالی، انانیت کے شکار فنکاری اوڑھے ہوئے شاعر تھے - جب بھی وہ عام ڈگر سے ہٹ کر شعر کہتے تھے صلے کی پرواہ نہیں تھی اور شہرت اور پیسے کے لالچی بھی نہیں تھے - مُجھے اچھّی طرح یاد ہے ایک شعری نشست میں مَیں نے جب انہیں شعر سناتے ہوئے دیکھا اور سنا تو حیران رہ گیا اور جب وہ اہلِ محفل سے داد کے موتی لوٹ کر جانے لگے تو بے ساختہ میرے منھ سے نکلا کہ یہ شاعر بہت دور تک جائے گا - وہ میرا خیال گویا کہ ایک خواب تھا آج برسوں بعد مُجھے اس کی تعبیر دیکھنے کو مل رہی ہے دیکھیے کیسے کیسے انوکھے منفرد معنی خیز اشعار یہ کہہ رہے ہیں۔
پلٹ چکا تھا مَیں کسی کو قبر میں اتار کر
مُجھےخبرنہ تھی کہ میری زندگی وہیں پہ تھی
بدن پر اوڑھ کر اپنے نئی تہذیب کا آنچل
قصیدے سے نکل کر تو مری غزلوں میں آ بیٹھا
لوگ کچھ اتنے مہذب ہیں یہاں
چیختے بھی ہیں تو خاموشی کے ساتھ
اگر سورج نہیں نکلا کسی دن
ذرا سوچو اجالا کون دے گا
کوئی بھی دیکھ نہیں پایا کناروں کا فریب
صرف طوفان اٹھائے گئے طوفانوں پر
ادھورے پن کے مارے ہیں نئی دنیا کے باشندے
خرد کم ہے جنوں کم ہے یقیں کم ہے گماں کم ہے
یہ لبادہ ہے دل کے زخموں کا
اس لبادے میں ہیں کئی پیوند
سردار سلیم کو دیر سے ہی سہی انہیں شہرت بھی ملی، عزّت بھی ملی اور ان کے حصّے کی دولت بھی ملی - اچھّی شریکِ حیات بھی ملی اور سعادت مند اولاد بھی - چاہنے والے سامعین بھی ملے اور کچھ مخلص اور جاں نثار دوست بھی - یہ ساری باتیں تو آج کی ہیں اس سے پہلے شاعری کی دولت کے سوا ان کے پاس کچھ نہ تھا اور پھر خودداری اور سچّائی نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا، شعراء برادری کی حوصلہ شکنی نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہوگی تبھی تو یہ اپنی روش پر ثابت قدم رہے - اس وقت کے تجرِبات مشاہدات اور صعوبتیں ان کی شاعری میں در آئیں اور عام زندگی کے درد کو درشانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
شدت احساس والے کچھ اشعار
اب مُجھے عطر لگانے کی ضرورت ہی نہیں
اس کی خوشبو مری سانسوں میں گھُلی رہتی ہے
یہ پیٹ کی آگ ہے کہ تلوؤں کو جو توانائی دے رہی ہے
وگرنہ ممکن نہیں ہے بے خوف ہو کے یوں رسیوں پہ چلنا
ایک کاندھے پر ہے سورج ایک کاندھے پرہے چاند
کیا بتاؤں مجھ پہ کتنا روشنی کا بوجھ ہے
مَیں کسی چیز سے نہیں ڈرتا
ہاں مگر آئینے سے ڈرتا ہوں
فرصت سے گر ملو گے تو سمجھاؤں گا تمہیں ہوتا ہے میرے بھائی غلط فیصلوں سے کیا
نکلی ہے ایسی آہ کہ سینہ سلگ اُٹھا
دل سے اُٹھا ہے ایسا شرارہ کہ ہائے ہائے
فضا میں گھول دو خوشبوئیں اپنی زلفوں کی
ذرا ہماری بھی سانسوں کو سانس لینے دو
سردار سلیم کچھ نیا انداز لے کر آئے اور سُخن کی دنیا میں تسلیم کروایا - یہ نثر نگار بھی بہت اچھّے ہیں - ادبی صحافت سے بھی وابستگی رہی ہے - نثر میں انہوں نے بچّوں کے لیے بھی لکھا اور بڑوں کے لیے بھی - جو بھی لکھا اپنی اختراعی سوچ کا استعمال بخوبی کیا - ان کی نثر کی جھلک اس کتاب میں بھی دیکھی جا سکتی ہے - کتاب کے شروع میں " ہم بتلائیں کیا " عنوان کے تحت انہوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے جو تجسّس سے پُر دلچسپ تحریر ہے - اس میں انہوں نے اپنی زندگی کے سچّے واقعات اور اپنی شاعری کے سفر میں آنے والی رکاوٹوں کو سلیقے سے پیش کیا ہے - یہ تحریر گویا ایک دلچسپ کہانی ہے جس کا اختتامیہ چونکانے والا ہے آخری سطریں ملاحظہ فرمائیں۔
”چلتے چلتے ایک بات اور عرض کیے دیتا ہوں کہ" شیاما کی سہیلی " سے مراد" غزل“ ہے وہ غزل کو اسی نام سے بلاتا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے غزل کے لہجے میں کوئل کی کوک جیسی کوئی چیز گھول دی ہے ،" اس کا یہ دعویٰ کس حد تک صحیح ہے " اس کے استعاروں اور اس کی پیکر تراشی کے نمونوں کو دیکھ کر آپ فیصلہ کیجئے"
( ص 12 کتاب ہذا )
کتاب " سانسوں کی مالا " کا سفر - - - ہے بڑا کرم اس کا ( حمد ) نبی کے شہر کی گلیوں میں کھو گیا ہوں ( نعت ) سے شروع ہوتا ہے پھر غزلوں کے گلستان کی سیر کرواتا ہے - یہ ایک وسیع گلستان ہے جس میں بیک وقت بہار کا لطف بھی ہے اور خزاں کا دُکھ بھی اس دُکھ کے ساتھ بہار کے آنے کی نوید بھی، پت جھڑ بھی، پھولوں کی خوشبو بھی اور کانٹوں کی کارستانیاں بھی بات مختصر یہ کہ سردار سلیم کی غزلیہ شاعری جدید تر اُسلوب کی شاعری ہے - نئی نئی تشبیہات لیے اشارے غزلیہ شاعری میں نئے الفاظ کا استعمال کل ملا کر اس کتاب کی غزلیں نئے امکانات کے در وا کرتی ہیں۔
سردار سلیم گاہے بہ گاہے نظمیں بھی کہتے رہے ہیں - آزاد نظمیں بھی پابند نظمیں بھی کتاب کا آخری باب ان کی منتخب نظموں پر مشتمل ہے - نظم گوئی میں بھی ان کا اپنا ایک الگ انداز ہے جس سے وہ اپنے قائم کردہ موضوع کے ساتھ انصاف کرتے نظر آتے ہیں ان طویل اور مختصر نظموں کے عنوان ہیں - کبھی تو ایسی بارش ہو ، اور کچھ دن ، شاعر کا شکوہ اُردو سے اُردو کا جواب شاعر کو، پیاری بلی Mellow کے نام ، اپنی سالگرہ پر اپنے لیے ، میرا دیس ، وہ میرے بھائی کا گھر ہے ، ایک نظم…. حیحیدرآباد کے لیے ، خوبصورت یادیں ، شاعر کی وصیت ، سوال یہ ہے ، وہ صبح بھلا کب آئے گی ، چاند ریشم میں لپٹا ہُوا ، کسوٹی ، پھول والا ، نو بھارت کا سپنا۔
نظم کے باب کے آخر میں لاک ڈاؤن کی کی منتخب شاعری شائع کی گئی ہے - اس میں ایک درد کی لہر ہے جس کو محسوس کیا جا سکتا ہے - ماضی قریب میں انسانی زندگی پر چھائے موت کے بادل جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھے ہر شخص قید و بند کی سزا کاٹ رہا تھا اس کو حسّاس شاعر سردار سلیم نے شعری حصار میں بند کر دیا ہے - ہر مصرعے میں لاک ڈاؤن کا درد لفظ لفظ بولتا ہے۔
مجموعی طور پر کتاب " سانسوں کی مالا " اکیسویں صدی کے شعری ادب میں اپنی ایک شناخت رکھتی ہے - سردار سلیم سے مُجھے مزید اُمیّدیں وابستہ ہیں - ان شاء اللہ وہ ضرور پوری ہوں گی کیونکہ سردار سلیم کا تخلیقی سفر اب بھی جاری ہے - دیکھیے کس اعتماد سے یہ کہتے ہیں۔
مرے نغمے امنگوں سے بھرے ہیں
دھنک کے سات رنگوں سے بھرے ہیں
0 تبصرے