تھک گیا ہوں دفتروں میں عرضیاں دیتے ہوئے : غزل
جون 14, 2026
تھک گیا ہوں دفتروں میں عرضیاں دیتے ہوئے : غزل
تھک گیا ہوں دفتروں میں عرضیاں دیتے ہوئے باپ بھی رونے لگا ہے جھڑکیاں دیتے ہوئے بے تکلف یار تھا اور صلح کرنے آیا تھا لگ گیا سینے سے میرے گالیاں دیتے ہوئے دشت زادے آئے تھے سیلاب میں کرنے مدد اونٹ جتنے لگ رہے تھے کشتیاں دیتے ہوئے اول اول رہزنی میں اس طرح تو ہوتا ہے آدمی ڈرتا ہے خود بھی دھمکیاں دیتے ہوئے نازنینوں کو زبردستی کے تحفے ہوں قبول وقت کس سے پوچھتا ہے جھریاں دیتے ہوۓ آدمی روتا ہے ، خوش ہوتا ہے ، ڈرتا ہے بہت اجنبی ہاتھوں میں اپنی بیٹیاں دیتے ہوئے اب سمجھ آنے لگا ہے کس لیے استاد کی آنکھ اشکوں سے بھری تھی ڈگریاں دیتے ہوئے جانے کب شفقت حسد میں ڈھل گئی مفتی ظہیر وه گلے تک آ گیا تھا تھپکیاں دیتے ہوۓ
0 تبصرے