Ticker

6/recent/ticker-posts

کینہ کی تباہ کاریاں اور اس کا علاج

کینہ کی تباہ کاریاں اور اس کا علاج


خلیل الرحمن قاسمی برنی

مرشدِ زماں حضرت الحاج شکیل احمد صاحب دامت برکاتہم ( خلیفہ حضرت مفتی حنیف صاحب جونپوری رحمہ اللہ) پنویل ممبئی۔ ایک عرصے سے ممبئی میں اپنی دکان معرفت سجائے تشریف فرما ہیں۔ مستجاب الدعوات بزرگوں میں سے ہیں ۔سینکڑوں بلکہ ہزاروں تشنگانِ معرفت ان کےجام معرفت سے سیراب ہو رہے ہیں۔ان کے بیانات ان کی مجلسیں اور نورانی باتیں بہت موثر ہوتی ہیں۔ ان کے ملفوظات "در آبدار"کے نام سے شائع شدہ ہیں۔انہیں سے یہ چنندہ موتی حاضر ہیں۔


مرشدی وسیدی حضرت الحاج شکیل احمد صاحب دامت برکاتہم ارشاد فرماتے ہیں۔
ایمان ملنے کے بعد ایمان کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہونااصل کامیابی ہے۔ فقط اس پر اطمینان نہ ہونا چاہیے کہ ہم صاحب ایمان ہیں، تو خاتمہ بھی ایمان ہی پر ہوگا؛ اس لیے کہ: حدیث پاک میں بعض گناہوں کی قباحت اس قدر بیان کی گئی ہے کہ: ان کی نحوست سے ایمان تک سلب ہو جاتا ہے اور آدمی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ لوگ اسے مسلمان سمجھ کر اپنے قبرستان میں دفن تو کر دیں گے، لیکن موت سے پہلے پہلے اس سے ایمان چھین لیا گیا ہوگا۔

انہیں گناہوں میں ایک گناہ اپنے دل میں کسی کی طرف سے برائی رکھنا ہے۔ جسے اصطلاح میں کینہ کہتے ہیں۔ یہ بھی بہت بڑا روحانی مرض ہے۔ حدیث پاک میں اس کی مختلف قباحتیں اور مختلف نقصانات بیان کیے گئے ہیں ؛چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ:

کینہ رکھنے والے شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی

ایک دوسری روایت میں ہے کہ:
پندرویں شعبان کی رات جو شب مغفرت کہلاتی ہے،جس میں اللہ پاک کی رحمت گنہگاروں کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور بڑے بڑے پاپیوں اور گنہگاروں کی مغفرت کر دی جاتی ہے،ایسی مبارک رات میں بھی کینہ رکھنے والے شخص کی مغفرت نہیں کی جاتی۔

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ:

کینہ رکھنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا


ان روایت کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ :
جس شخص کے دل میں کینہ ہوگا اگر وہ اس سے توبہ کیے بغیر اسی کینہ کے ساتھ انتقال کر گیا تو ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا حالانکہ روایت میں آتا ہے کہ ایک مومن اگر رائی کے دانے کی برابر بھی ایمان بچا کر لے جائے گا تو اللہ پاک اسے اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائیں گے۔

ان دونوں روایتوں کے تقابل سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ :
ایک مومن بہرحال جنت میں داخل ہو کر رہے گا۔ خواہ کتنا ہی ادنی درجے کا ایمان دنیا سے لے کر گیا ہو۔ جبکہ کینہ رکھنے والے کے متعلق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ:جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کا خاتمہ ایمان پر نہ ہوگا۔ اس گناہ کی نحوست کی وجہ سے موت سے پہلے پہلے اس کا ایمان چھین لیا جائے گا۔اس لیے کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہوتا تو جنت میں ضرور داخل ہوتا۔


سلب ایمان کی ایک وجہ

معلوم ہوا کہ ایمان چھننے کی وجوہات میں ایک وجہ دل میں کینہ کا ہونا بھی ہے؛ بلکہ ایمان کے سلب ہونے میں کینے کو بڑا دخل ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا میں آدمی کا دل جلتا ہےکہ، جس کی طرف سے دل میں کینہ ہے ہر وقت اس کی برائی کو سوچ سوچ کر اپنے دل کو جلاتا رہتا ہے اور آخرت میں جہنم کی آگ میں لپٹ کر اس کا دل اور جسم دونوں جلے گا۔

دوستو !
یہ بہت ڈرنے کی بات ہے۔ ہم بغور اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور اپنے دل کو ٹٹولیں کہ،کہیں اس میں کسی کی طرف سے کینہ تو نہیں ہے۔

کینہ کی حقیقت

ہم معاشرے میں رہتے ہیں۔اس معاشرے میں رہتے ہوئے ہمارا بہت سے لوگوں سے مختلف معاملوں میں سابقہ پڑتا ہے۔ اگر کسی معاملے میں ہمارا کسی کے ساتھ اختلاف ہوتا ہے اور بات جھگڑے تک پہنچتی ہے، تواگر ہم اس سے مضبوط ہیں اور ہمیں انتقام کی قدرت حاصل ہے، تب تو ہم انتقام لے لیتے ہیں؛ لیکن اگر ہم کمزور ہیں اور ہمیں انتقام کی قدرت حاصل نہیں ہے تو ہم اپنے غصے کا اظہار نہیں کرتے؛ اس لیے کہ اگر غصے کا اظہار کریں گے تو ہمیں ہی منہ کی کھانی پڑے گی ؛اس لیے خاموش رہ جاتے ہیں؛ لیکن دل ہی دل میں اس سے نفرت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اندر ہی اندر اس کا تصور کر کے اس سے لڑتے رہتے ہیں۔ کبھی نہاتے ہوئے اس سے لڑتے ہیں۔ کبھی کھانا کھاتے ہوئے لڑتے ہیں۔کبھی بیت الخلاء میں اس سے لڑتے ہیں۔ حتی کہ نماز کی حالت میں ہوتے ہیں تب بھی اس سے لڑائی کرتے رہتے ہیں کہ: یوں کہنا چاہیے تھا اور یوں کرنا چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔

یہ جو نفرت کےجذبات دل ہی دل میں اس کے خلاف بن رہے ہیں اور اندر ہی اندر جو برائی اس کے خلاف جمع ہو رہی ہے ،یہی درحقیقت کینہ ہے،جس کے متعلق حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں کہ:

کینہ رکھنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا


جائزہ لیں!

لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں اور اپنے دل کا جائزہ لیں کہ کہیں اس میں اپنی بیوی کی طرف سے، بہن بھائیوں کی طرف سے،پڑوسیوں کی طرف سے،رشتہ داروں کی طرف سے، ملنے جلنے والوں کی طرف سے، ملازم ہے تو، اپنے سیٹ کی طرف سے، سیٹ ہے تو، اپنے ملازمین کی طرف سے ،بیوپاری ہےتو، اپنے ساتھی بیوپاریوں کی طرف سے، مشترک کاروباری ہے اور بہت سے پارٹنرز ہیں تو اپنے پارٹنروں کی طرف سے، کہیں کسی کی طرف سے ہمارے دل میں کوئی برائی تو نہیں ہے۔کسی کا نقصان سن کر ہمارا دل خوش تو نہیں ہوتا۔اگر ہوتا ہے تو، بہت جلد اس مرض کا علاج کرنا ضروری ہے۔

اللہ والے روحانی طبیب ہوتے ہیں۔ ان سے اس روحانی مرض کا علاج پوچھیں کہ:

حضرت !ہمارے دل میں فلاں کی طرف سے کینہ ہے۔ ہم اس کا علاج کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ہمیں اس کا علاج بتلا دیں!

جب ہم پوچھیں گے تو وہ ضرور اس کا علاج بتائیں گے اور جب ہم ان کے بتائے ہوئے علاج کے مطابق عمل کریں گے،تو انشاءاللہ اس مرض سے نجات پا جائیں گے۔

حضرت مرشدی دامت برکاتہم نے اسی سلسلہء کلام میں ارشاد فرمایا:

یاد رکھیں!
جسمانی مرض خواہ کتنا ہی مہلک کیوں نہ ہو، اگر اس کے علاج میں غفلت برتی گئی، تو زیادہ سے زیادہ یہی تو ہوگا کہ آدمی کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس سے زیادہ تو کچھ نہیں ہوگا۔ اور قرآن و حدیث میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ: کسی مہلک مرض میں انتقال کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا؛ لیکن اگر روحانی مرض کے علاج میں غفلت برتی گئی اور خاص طور پر وہ امراض جن کے متعلق حدیث پاک میں بتایا گیا کہ: ان امراض کے ساتھ مرنے والا جنت میں نہیں جائے گا ،اگر ہم نے ان کے علاج کی طرف سے غفلت برتی تو ہماری دنیا تو اجڑے گی ہی،جنت میں داخلے سے محرومی کی وجہ سے آخرت بھی بربادہو جائےگی؛ لہذا ان کے علاج کی طرف فوری متوجہ ہونا چاہیے۔

انتہائی مہلک مرض


کینہ بھی انہی امراض میں سے ایک مرض ہے جس کا فوری علاج کرنا چاہیے۔

کینے کا علاج

حضرت والا نے ارشاد فرمایا :

علاج کے طور پر کچھ باتیں بتائے دیتا ہوں۔ اگر ان پر عمل کرو گے تو انشاءاللہ بہت جلد اس مرض سے نجات پاؤ گے۔

(1)علاج کے لیے سب سے پہلے اس دعا کا اہتمام کریں

﴿ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ﴾ [الحشر: 10]


اس مرض میں مبتلا شخص بکثرت اس دعا کا اہتمام کرے۔ انشاءاللہ دھیرے دھیرے اس مرض کا اثر کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

(2)جس کی طرف سے دل میں کینہ ہو، اس کا اکرام کرنا شروع کر دیں۔ کہیں سے آتا دکھائی دے، تو اس کے اکرام میں کھڑے ہو جائیں،بڑھ کر سلام اور مصافہ کریں اس کی خیریت پوچھیں۔

(3)تیسرے نمبر پے یہ کام کریں کہ: اس کے حق میں کچھ نہ کچھ صدقہ کرتے رہا کریں۔ نیند اس کے حق میں غائبانہ دعا بھی کرتے رہیں۔

بہت اہم بات


دوستو علاج اور تدبیر کے سارے کام اختیاری ہیں،جب ہم اپنے اختیار سے سارے کام کرنے لگیں گے، تو پھر اللہ پاک وہ کریں گے جو ان کے اختیار میں ہے۔ یعنی اپنی قدرت سے ہمیں اس مرض سے نجات عطا فرمائیں گے۔اللہ پاک میرا آپ کا اور تمام مومنین ومومنات کا دل نصف پاک و صاف رکھیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے