افسانہ: ”اے سی اور ہم“
جولائی کی دوپہر تھی اور درجہ حرارت نے سنچری مار کر ڈبل سنچری کی طرف دوڑ لگا دی تھی۔ بجلی کا پنکھا اتنی گرم ہوا پھینک رہا تھا کہ لگتا تھا وہ خود استعفیٰ دے کر دبئی چلا جائے گا۔ میں نے تولیہ نچوڑا تو بالٹی بھر گئی۔ بس، فیصلہ ہو گیا کہ آج یا تو گرمی رہے گی یا میں۔ بیوی سے چھپا کر رکھی ہوئی ساری جمع پونجی نکالی، وہ رقم جو "برے وقت" کے لیے رکھی تھی۔ سوچا اس سے برا وقت اور کون سا آئے گا؟ دکان پر گیا تو دکاندار بھی گرمی سے تلا ہوا تھا۔ کہنے لگا: "بھائی، ڈیڑھ ٹن کا کھڑکی والا اے سی لے جاؤ، ضمانت کے ساتھ۔ بس بجلی کے خرچ کی ضمانت نہیں دوں گا۔" میں نے اے سی خریدا اور گھر ایسے لایا جیسے نئی نویلی دلہن لے کر آتے ہیں۔ محلے کے بچے جلوس کی شکل میں پیچھے پیچھے آ گئے۔ گھر میں اے سی لگا تو عید کا سماں بندھ گیا۔ بچے اس کے آگے کھڑے ہو کر ایسے ناچ رہے تھے جیسے سوات میں برف پڑ گئی ہو۔ بیگم نے فوراً صندوق سے کمبل نکال لیے اور کہنے لگیں: "رات کو سردی لگے گی، زکام ہو جائے گا۔" میں نے اے سی چلایا، بٹن دبانے والے پرزے پر سولہ درجے ٹھنڈک لگائی اور سینہ تان کر آرام کرسی پر لیٹ گیا۔ پانچ منٹ میں کمرہ سائبیریا بن گیا۔ باہر سینتالیس درجے، اندر سولہ درجے۔ کھڑکی کے شیشے پر اوس آ گئی۔ میں نے فخر سے بیگم سے کہا: "دیکھا، پیسہ خرچ کرو تو زندگی کیسے بدلتی ہے۔" مگر خوشی کو بجلی محکمے کی نظر لگ گئی۔ شام کو ناپنے والا آیا۔ اس نے اے سی کی آواز سنی، بجلی کے پیمانے کو دیکھا، پھر مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسا غصہ تھا جیسے میں نے اس کی تنخواہ سے اے سی لے لیا ہو۔ بولا: "خیر ہے خان صاحب، بڑے دولت مند ہو گئے ہو۔" میں نے ہنس کر کہا: "دولت نہیں بھائی، بس گرمی سے جان چھڑائی ہے۔" رات کو ہم سب لحاف لے کر سوئے۔ سولہ درجے میں نیند ایسی آئی جیسے مری کے ہوٹل میں آتی ہے۔ لیکن صبح چار بجے "دھڑام" کی آواز سے آنکھ کھلی۔ بجلی چلی گئی تھی۔ اے سی بند، میری سانس بند، خواب بند۔ گرمی نے ایسا بدلہ لیا کہ دس منٹ میں کمرہ تنور بن گیا۔ لحاف اتار کر پھینکا تو وہ بھی گرم تھا۔ پسینے میں شرابور اٹھا، ہاتھ والا پنکھا ڈھونڈا۔ بیگم نے ایک آنکھ کھول کر کہا: "سرد خانے میں چلے جاؤ، صبح بجلی آئے گی تو پگھل جانا۔" گرمی، حبس اور مچھروں کی تین ملکی سرحد پر میں اکیلا کھڑا تھا۔ باہر گلی میں نکلا تو شفیق صاحب بنیان پہنے کھاٹ پر لیٹے تھے اور خود کو اخبار سے ہوا دے رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر بولے: "بھائی، آپ کے اے سی کے جنازے کا اعلان سن لیا تھا، دعا پڑھ آئے؟" میں نے کہا: "شفیق بھائی، اے سی تو بند ہے، مگر پیمانہ تو چل رہا ہے۔ یہ بجلی محکمے اور گرمی کی مشترکہ سازش ہے۔" وہ ہنسے: "اسی لیے میں نے اے سی نہیں لیا۔ میں نے تو سیدھا بجلی محکمے کے دفتر کے باہر کھاٹ ڈال لی ہے۔ وہاں چوبیس گھنٹے چلنے والا انجن چلتا ہے۔ مفت کی ٹھنڈک اور ساتھ میں احتجاج بھی۔" اگلے دو ہفتے یہی حال رہا۔ دن کو بجلی ہوتی تو اے سی چلاتے، رات کو بجلی جاتی تو چھت پر جا کر تارے گنتے۔ بچے کہنے لگے: "ابو، یہ اے سی ہے یا محبوب؟ ملتا ہی نہیں ہے۔" پھر وہ دن آیا جس کا ڈر تھا۔ مہینے کے آخر میں خرچے کی پرچی آئی: سینتالیس ہزار روپے۔ پرچی دیکھ کر جو پسینہ آیا اس نے اے سی کی ساری ٹھنڈک اور سردیوں کی برف بھی پگھلا دی۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ بیگم نے پرچی چھین کر پڑھی اور بولیں: "اس سے بہتر تھا ہم تین مہینے کے لیے مری چلے جاتے۔ کھانا پینا، گھومنا اور ٹھنڈک سب اس خرچے میں ہو جاتی۔" میں نے پرچی ہاتھ میں پکڑی، پنکھے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور حساب لگانے لگا کہ گردہ بیچوں یا اے سی۔ شام کو شفیق صاحب ملے۔ میں نے دکھ سنایا۔ کہنے لگے: "بھائی، میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ یہ اے سی نہیں، 'امیر ہونے کا بھرم' ہے۔ درمیانے طبقے کے لیے اے سی کا بٹن دبانا ایسے ہے جیسے ہاتھ میں تباہی کا بٹن ہو۔ دباؤ تو خود ہی برباد ہو جاؤ۔" اب اے سی کمرے میں ایک یادگار بن کر لگا ہوا ہے۔ چلاتے ہیں تو صرف مہمانوں کو دکھانے کے لیے، وہ بھی پانچ منٹ۔ بچے اسے "ابو کا سفید ہاتھی" کہتے ہیں۔ ہم پھر ہاتھ والے پنکھے، ٹھنڈے پانی کی بالٹی اور "ہائے اللہ گرمی" پر واپس آ گئے ہیں۔ سبق یہ ملا کہ گرمی سے لڑنا آسان ہے، بجلی محکمے کے خرچے سے لڑنا ناممکن ہے۔ اے سی امیروں کا کھلونا ہے، اور ہم غریبوں کے نصیب میں جون کی دوپہر اور بجلی بند کی رات ہی لکھی ہے۔
از قلم: بختاور واجد حسین شاہ
0 تبصرے