Ticker

6/recent/ticker-posts

کیَکٹس پر پھول : محبت کی حقیقت بیان کرتی نظم اردو شاعری

کیَکٹس پر پھول : محبت کی حقیقت بیان کرتی نظم اردو شاعری


کیَکٹس پر پھول۔۔۔۔

محبت حرفِ بے معنی کو با مفہوم کرتی ہے
مگر ہنستی ہوئی آنکھوں میں یہ آنسو بھی بھرتی ہے

محبت شہ زمانی کو بھکارن کر کے چھوڑے گی
سدا آسودہ حالی کو اجیرن کر کے چھوڑے گی

محبت پہلے نیند آنکھوں سے لے کر رت جگے دے گی
انہیں بے خواب انکھوں کو اُدھر سپنے نئے دے گی

کبھی آنگن میں جب بھی کیکٹس پر پھول آتے ہیں
محبت کے زمانے ماتمی سندیس لاتے ہیں

محبت روحِ تاباں کو غم آلودہ بدن دے دے
یہ خوش پوشوں ہی کو مجنونیت کا پیرہن دے دے

یہ خود اپنی حسینائیں رُلا دیتی ہے مٹی میں
سدا کی یاریاں پل میں بدل دیتی ہے کُٹّی میں

یہ احساسِ نمی بن کر کبھی بنیاد ڈھاتی ہے
کبھی ناسور بن کر ہڈیاں اور ماس کھاتی ہے

یہ زندوں کو کبھی زندوں میں تو شامل نہیں رکھتی
یہ دل داروں میں پھلتی ہے مگر خود دل نہیں رکھتی

وہ شیشہ ہے کہ جس کا عکس تک اجلا نہیں رہتا
وہ نگری جس کا باشندہ کبھی زندہ نہیں رہتا

یہ خود داری کا پرچم سرنگوں ہونے نہیں دیتی
کریں کیا بَین ، بے آواز بھی رونے نہیں دیتی

اک ایسا روگ جس میں مبتلا چنگا نہیں ہوتا
اور انجام اسکا چاہے جو بھی ہو ، اچھا نہیں ہوتا

خواجہ ثقلین سمیطٓ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے