اشعار کی تشریح
1. شعر :
جس طرف دیکھو وہاں بازارِ خواہش گرم ہے
کس نے انسانوں میں یہ بے چارگی رکھی ہوئی
تشریح:
شاعر ہمارے موجودہ دور کی مادہ پرستی (Materialism) پر گہرا افسوس ظاہر کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج دنیا میں ہر طرف انسانی خواہشات اور لالچ کا بازار گرم ہے۔ ہر شخص زیادہ سے زیادہ پانے کی دوڑ میں اندھا ہو چکا ہے۔ انسان اپنی بے لگام خواہشات کے ہاتھوں اتنا مجبور ہو چکا ہے کہ وہ ان کا غلام بن کر رہ گیا ہے۔ شاعر حیرت اور دکھ سے پوچھتے ہیں کہ آخر کس چیز نے طاقتور انسان کو اپنی ہی خواہشوں کے سامنے اتنا بے بس اور بے چارہ بنا دیا ہے؟
2۔ شعر:
طارسؔ اپنے عہد کی گردِ سفر کے باوجود
ہم نے لہجے میں ہمیشہ تازگی رکھی ہوئی
تشریح:
اس شعر میں شاعر اپنی شخصیت اور کردار کی مضبوطی کا ذکر کر رہے ہیں۔ 'عہد کی گردِ سفر' سے مراد زمانے کی تلخیاں، مصائب، دکھ اور مشکل حالات ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے اپنے دور کی بے شمار تلخیوں، تھکا دینے والے حالات اور کٹھن راستوں کا سامنا کیا (جس سے انسان کا لہجہ عام طور پر چڑچڑا یا تلخ ہو جاتا ہے)، لیکن ان سب کے باوجود انہوں نے اپنے اخلاق، محبت اور گفتگو کے لہجے میں ہمیشہ وہی پرانی مٹھاس، نرمی اور تازگی برقرار رکھی ہے۔ وہ حالات سے مایوس ہو کر پُرتشدد یا کڑوے نہیں ہوئے۔
0 تبصرے