دار العلوم دیوبند کا روحانی و تعلیمی دورہ
ڈاکٹر ذاکر حسین. 8002988177
بانیان مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے اکابرین و بزرگان دین حضرت مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ وغیرہم کے مزارات کی زیارت، فاتحہ خوانی کے بعد ایصال ثواب کی دعا کرتے ہوئے ذمہ داران دار العلوم حضرت مولانا شمشاد رحمانی نائب امیر شریعت امارت شریعہ پھلواری شریف پٹنہ بہار سے مدارس کی اغراض و مقاصد پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر حسین نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے سوال کیا کہ دار العلوم دیوبند کے قیام کا اتنی لمبی مدت کے دوران مدرسہ میں قرآن کا حفظ، قرآن کا معنی مطالب ، اور قرآن کی تفسیر و تفہیم کا الگ الگ شعبہ قائم ہے۔ اور الحمد للہ سبھی شعبہ اپنی ذمہ داری بحسن خوبی انجام دے رہی ہے۔ اور کام بھی مستعدی سے انجام پا رہا ہے۔ ہم سبھی اتفاق رکھتے ہیں کہ قرآن محت بالشا ن آسمانی کتاب ہے۔ جس کے اندر دنیا کے نظام کا تمام میسیج موجود ہے۔طب، کیمیا، سائنسی ٹیکنالوجی،سائنسٹیسٹ جیسی تمام ٹیکنالوجی قرآن سے ہی نکلا ہے۔ مدارس کے ذمہ داران کہتے ہیں کہ ہم طلبہ کو قرآن کی فہم و فراست کی تعلیم دیتے ہیں۔ تو ہمارے طلباء ٹیکنالوجی کے میدان میں کمزور کیوں ہیں۔ تمام تبادلہ خیال کے بعد حضرت مولانا شمشاد رحمانی نے فرمایا کہ مدارس کی اغراض و مقاصد "قوم کو دین و شریعت کی رہنمائی کرنا ہے۔ جو الحمدللہ اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔قوم کو ماننا ہے کہ اتنا بڑا ادارہ، اتنا بڑا اخراجات اور مقصد مختصر او محدود مناسب نہیں لگتا ہے۔
0 تبصرے