Ticker

6/recent/ticker-posts

دوسروں کی پگڑی اچھالنے کا انجام - Dusron Ki Pagdi Uchalne Ka Anjam

دوسروں کی پگڑی اچھالنے کا انجام : محاورہ پگڑی اچھالنا


ایک بازار میں راشد حسین کی کپڑے کی ایک بڑی دکان تھی۔ وہ کاروبار میں تو ماہر تھے، لیکن ان کی ایک بری عادت تھی کہ وہ اپنی دکان پر کام کرنے والے ملازموں اور چھوٹے دکانداروں پر رعب جھاڑنے اور سب کے سامنے ان کی پگڑی اچھالنے (ذلیل کرنے) کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

ایک دن چائے والے کا بارہ سالہ لڑکا، ساجد، راشد حسین صاحب کے لیے چائے لے کر آیا۔ بدقسمتی سے اس کا پاؤں پھسلا اور چائے کے چند قطرے راشد حسین صاحب کے قیمتی لباس پر گر گئے۔

راشد صاحب غصے سے آگ بگولا ہو گئے۔ انہوں نے بھرے بازار میں ساجد کا گریبان پکڑ لیا اور اونچی آواز میں کہنے لگے:
"تیرے باپ کی اوقات نہیں ہے کہ میرے اس لباس کی قیمت چکا سکے! تم جیسے سڑک چھاپ لوگوں کو تمیز کون سکھائے؟"

آس پاس کے دکاندار دیکھ رہے تھے کہ ایک معصوم بچے کی کس طرح پگڑی اچھالی جا رہی ہے، لیکن راشد صاحب کے اثر و رسوخ کی وجہ سے سب خاموش رہے۔ ساجد روتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

کچھ مہینے گزر گئے۔ راشد صاحب نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے ایک بڑے تاجر کے ساتھ شراکت داری کی بات چلائی۔ معاملہ لاکھوں روپے کا تھا اور راشد صاحب کے لیے یہ ڈیل بہت ضروری تھی۔

جس دن فائنل میٹنگ تھی، راشد صاحب بڑے تاجر کے دفتر پہنچے۔ وہاں کا شاندار ماحول دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔ کچھ ہی دیر میں کمپنی کے مالک کمرے میں داخل ہوئے۔ راشد صاحب انہیں دیکھتے ہی دنگ رہ گئے—وہ کوئی اور نہیں، بلکہ اسی چائے والے کا بڑا بھائی (ساجد کا تایا) تھا، جس نے سالوں کی محنت سے اپنا بڑا بزنس کھڑا کیا تھا۔

تاجر نے راشد صاحب کو پہچان لیا۔ اس نے معاہدے کی فائل بند کی اور سرد لہجے میں کہا:

"راشد صاحب! کاروبار پیسوں سے نہیں، اخلاق سے چلتا ہے۔ جو شخص ایک معصوم بچے کی غریبی کا مذاق اڑا کر بھرے بازار میں اس کی پگڑی اچھال سکتا ہے، میں اس کے ساتھ کبھی کاروبار نہیں کر سکتا۔"

راشد صاحب کو یوں لگا جیسے کسی نے ان کے منہ پر تماچا مارا ہو۔ آج بھرے دفتر میں، ان کے اپنے مینیجر کے سامنے، ان کی پگڑی اچھل چکی تھی۔ وہ شرمندگی سے سر جھکائے وہاں سے اٹھ آئے۔
        

نصیحت

کسی کمزور کو بے عزت کر کے اپنی شان بڑھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ قدرت کا قانون ہے کہ جو ذلت و رسوائی ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہ کسی نہ کسی صورت لوٹ کر ہمارے پاس ضرور آتی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے