Ticker

6/recent/ticker-posts

مجلس تلنگانہ - Majlis e Telangana

مجلس تلنگانہ

مجلس تلنگانہ میں دانشمندانہ اور اس سے باہر جذباتی اور غیر دانشمندانہ سیاست کرتی ہے

تحریر: عماد عاقب مظفر پوری
18/6/2026 

ایک مجلسی انتہا پسند نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے ، " مشن 2027 : اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی دکان بند ہونے والی ہے ، ان شاء اللہ اب کی بار "

اس پوسٹ پر میرا تبصرہ یہ ہے

سماج وادی پارٹی کی دکان بند ہوگی اور بی جے پی کی دکانیں اور کھلیں گی ، اسی کے لیے اویسی اینڈ کمپنی 2014 سے کام کر رہی ہے ، تلنگانہ جہاں اسکے سات ممبران اسمبلی 2009 سے ہیں وہاں 2018 میں صرف 8 اور 2023 میں صرف 9 امیدوار اتارے جاتے ہیں اور اتر پردیش جہاں 2017 میں 38 اور 2022 میں 94 امیدوار اتارے گئے اور ان دونوں انتخابات میں اس کا ایک امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوا تھا البتہ چند سو یا چند ہزار ووٹ حاصل کرکے سات آٹھ سیٹوں پر سماج وادی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کو ہرانے کا سب بنی تھی ، زیادہ تر نشستوں پر اس کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئ تھیں۔

اتر پردیش کے مسلمانوں کو یوپی کے 2017 اور 2022 کے اسمبلی انتخابات اور بہار کے 2020 اور 2025 اور بنگال کے 2026 کے اسمبلی انتخابات سے سبق لینا چاہیے ، اور مجلس اتحاد المسلمین کو واپس حیدرآباد بھیج دینا چاہیے ، وہ وہاں دانشمندانہ سیاست کرتی ہے اور وہ تلنگانہ کے باہر جذباتی اور غیر دانشمندانہ سیاست کرتی ہے ، مجلسی لیڈران کے بڑبولے پن سے مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ نقصان ہوتا ہے۔

اتر پردیش کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ پیس پارٹی جیسی سیکولر نام کی مقامی پارٹیوں کو مضبوط کریں۔

مجلس صرف اور صرف تلنگانہ اور مہاراشٹر کے ان علاقوں تک محدود رہے جو علاقے قدیم ریاست حیدرآباد کا حصہ تھے ، ہندوستان کے دیگر علاقوں کے لیے مجلس اتحاد المسلمین نقصان دہ ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے